مجھے مولانا کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں جو تعبیر کی غلطی کے ابتدا میں درج ہیں، آہ، اب پڑھتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ رقم تراز ہیں، اس کتاب کی اشاعت میرے اوپر اتنی سخت ہے، اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کے شائع ہونے کے بعد میں کسی ایسی جگہ جا کر چھپ جاؤں جہاں کوئی شخص مجھے نہ دیکھے، اور پھر اسی حال میں مر جاؤں۔ اختلاف کا یہ طریقہ کتنا بھلا معلوم ہوتا ہے۔ جو بادہ کش تھے، پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہیں؛ کہیں سے آب، کہیں سے آب، بقائے دوام لے ساقی۔
دانیال طاہر، کراچی۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 140۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.