Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan - Hayat aur Afkar

Urdu · 12 min

مولانا وحید الدین خان، حیات اور افکار۔ عزیز علی داد، پاکستان۔ اسکول کے زمانے میں ہم ہر شام مکتبِ دینیہ جاتے تھے، وہاں ہمیں دین و دنیا کو سمجھنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ اس عبادت گاہ میں ایک بڑی لائبریری موجود تھی جس میں ہم ہر روز بیٹھ کر کچھ نہ کچھ پڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔

اس زمانے میں ہمارے لیے اردو پڑھنا تو کجا، بولنا بھی جوئے شعر لانے سے کم نہیں تھا۔ زبان کے معاملے میں اس نالائقی کے دور میں ایک دن مولانا وحید الدین خان کی سرپرستی میں چھپنے والا رسالہ الرسالہ ہمارے ہاتھ لگا۔ اس دور میں جب ایک عام خواری کی معیاری کتب تک رسائی تقریباً ناممکن سمجھی جاتی تھی، یہ رسالہ متجسس اذہان کے لیے گویا کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ اس رسالے کی اہم بات یہ تھی کہ یہ ہلکی پھلکی زبان میں مذہبی معاملات پر مکالماتی انداز میں روشنی ڈالتا تھا۔

مولانا سے تعارف ہوا تو ان کی مزید کتب سے استفادہ کرنے کی کوشش شروع کی، اور یوں ان کی کتاب "رازِ حیات" بھی اسی دور میں پڑھ ڈالی۔ اس وقت چونکہ ہم نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا، سو ہم "رازِ حیات" کے فلسفے کو بھی جوانی کے جوش سے دیکھ رہے تھے۔ اسی وجہ سے مولانا کے "رازِ حیات" کو ہم زیادہ گہرائی میں سمجھ نہیں پائے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ "رازِ حیات" کو مباحث سے دوبارہ واسطہ پڑا، اور تب ہی پتہ چلا کہ زندگی ایک راز ہے، اور اس کو بامعنی گزارنا ایک فن ہے جو ہم بالکل بھی نہیں جانتے تھے۔ کالج کا دور کراچی میں گزارنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ الرسالہ باقاعدگی سے مل جاتا تھا۔

کراچی کے ریگل چوک اور پی آئی بی کالونی کی ریڈیو اور فٹ پاتھوں پر ہم نے العلم کے خزانوں کو بکھرا پایا۔ یہیں سے مولانا وحید الدین خان اور دوسرے نامور مصنفین کی کتابیں نہایت ہی سستی قیمت پر مل جاتی تھیں۔ یوں ہمارا زیادہ تر وقت ان کو سمجھنے کی کوشش میں گزر جاتا۔ مولانا صاحب کی تحریریں ہم جیسے طفلِ مکتب کے لیے ایک زود ہضم خوراک کی مانند ثابت ہوئیں۔

انہوں نے روایتی علماء کے فتویٰ ساز رویے سے انحراف کیا، مسلمانوں کے پاس کوئی علمی سند تو ہے ہی نہیں۔ ان کے پاس سب سے بڑی صنعت فتویٰ سازی کی ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں اسلام میں داخل کرنے سے زیادہ اسلام سے خارج کرنے کا رجحان غالب ہے۔ اسی کی وجہ سے آج غیر مسلم لوگ مسلمانوں کو اتنی بڑی تعداد میں غیر مسلم نہیں بنا سکے جتنا مسلمانوں نے مسلمانوں کو غیر مسلم بنایا ہے۔ مسلمانوں کو کافر بنانے کا سب سے زیادہ کام اسلام کے اسی قلعے میں ہوا جسے خداداد مملکت پاکستان کہا جاتا ہے۔

جبکہ دوسری جانب مولانا وحید الدین نے فتووں کی دکان کھولنے کے بجائے اپنے زمانے کے راویوں اور افکار کی روشنی میں اسلام کی تشریح کی۔ جبکہ دوسری جانب مولانا وحید الدین نے فتووں کی دکان کھولنے کے بجائے اپنے زمانے کے رویوں، سوالات اور افکار کی روشنی میں اسلام کی تشریح کی۔ اس مقصد کی خاطر انہوں نے ایک ادارے کی بھی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا نام "مرکز برائے امن و روحانیت" (The Center for Peace and Spirituality) رکھا۔

اس ادارے کا مقصد امن کی ثقافت کو ذہنی روحانیت کے ذریعے پروان چڑھانا تھا۔ مولانا دنیا کے جس حصے کا بھی سفر کرتے، وہاں سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر آتے تھے، اور اس سبق کو ڈائریوں اور سفرناموں کی صورت میں شائع کرتے اور اسے عوام الناس تک پہنچانے کی سعی کرتے۔ ویسے تو جو جیسا ہوتا ہے، اسے چیزیں بھی ویسی ہی نظر آتی ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے لوگ ملک سے باہر چلے جائیں تو انہیں سوائے عریانی، فحاشی، بے حیائی اور شراب نوشی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

مولانا وحید الدین کی اردو اور انگریزی میں کتابیں زیادہ تر عصر حاضر کے معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام اور عصر حاضر، مذہب اور جدید چیلنج، مارکسزم، تاریخ جس کو رد کر چکی ہے۔ مذہب اور سائنس، سوشلزم اور اسلام، اظہار دین، خدا کی دریافت وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ انگریزی میں ان کی کتابیں مثلاً "The Prophet of Peace", "Teachings of the Prophet Muhammad", "Indian Muslims", "The Need for a Positive Outlook", "Islam: Creator of the Modern Age" عصر حاضر کے مسائل پر ہی بحث کرتی ہیں۔

مولانا وحید الدین کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ مسلمان اس جدید دور میں اپنے عصری علمی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں کو سمجھنے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر اپنانے کے اہل بن جائیں، اور اندھی تقلید کے منحوس چکر میں پڑ کر اپنی زندگیاں نہ گزاریں۔ کیونکہ اندھی تقلید ہی کی وجہ سے مسلمان اپنے خول میں بند ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کو نئی چیزوں کی تفہیم نہیں ہوتی ہے۔ اور جب ذہن فہم سے ہی خالی ہو تو انسان آسانی سے رائے زنی، فتویٰ گردی اور نفرت کا شکار ہو جاتا ہے۔

ایسے لوگوں کا اگر کسی نئے خیال یا چیز سے واسطہ پڑ بھی جائے تو وہ اسے دین کے لیے خطرہ اور بدعت قرار دے کر مسترد کر دیتے ہیں۔ جدیدیت اور روشن خیالی کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ رد اور مسترد کا یہ رجحان بزدل معاشرہ کرتا ہے۔ مسلمانوں میں یہ خوف جدیدیت کا پیدا کردہ ہے۔

جب ہم باہر کی دنیا سے مقابلہ نہیں کر سکتے تو اپنے خول میں پناہ لیتے ہیں۔ یوں خول سے باہر کی ہر چیز ہمیں خوفناک لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر نئی چیز سے ڈر لگتا ہے۔ مولانا وحید نے اپنے تئیں کوشش کی کہ لوگوں کو جدید زمانے میں مذہب کے ساتھ پرامن زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھا سکیں۔

ان کی عاجزی کی انتہا دیکھیے کہ وہ کہا کرتے: "جو اپنے آپ کو بے علم جانے وہی علم والا ہے۔ " وہ ساری زندگی فتوے کی دکانوں، نفرت اور دکھاوے کی دنیا سے بہت دور رہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے ان جیسی شخصیت کو بھی نہیں بخشا اور انہیں اسلام دشمن شخصیت قرار دے دیا۔ آج ہمارے معاشرے میں جذبات کا غلبہ اور سمجھداری کی کمی دیکھ کر اس چیز کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہم صرف جذبات کے معاملے میں ہی جوان ہیں۔

لیکن عقلی و شعوری سطح پر اب بھی عہدِ طفلی میں گھنٹوں کے بل چلتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس ناامیدی بھری فضا میں مولانا وحید الدین خان کی وفات کے بعد مکالمہ اور فکر کی راہ اور بھی محدود ہو گئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف سطحی جذباتیت کا ایک طوفان امڈ آیا ہوا ہے، جس کی آگ بڑی تیزی سے معاشرے سے عقلی فکر و عمل کو بھسم کر رہی ہے۔ مولانا وحید الدین خان کی جس خوبی نے مجھے ہمیشہ ہی ان کی کتابوں سے جوڑے رکھا، وہ ان کی زندگی سے محبت تھی۔

وہ ہمیں مذہب کے ایسے پہلوؤں سے روشناس کراتے تھے جو زندگی سے محبت کرنے اور نہ صرف بامعنی بلکہ بھرپور طریقے سے زندگی گزارنے میں بھی مدد دیتی تھیں۔ یہی زندگی دوست رویہ ان کی کتابوں کے ٹائٹلز سے بھی ظاہر ہوتا ہے: "رازِ حیات"، "راہیں بند نہیں"، "تعمیر حیات"، "حقیقت کی تلاش" اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ آج کے مذہبی علماء تو ہمیں اس دنیا اور زندگی سے اتنا ڈراتے ہیں کہ ہمیں مرنا ہی خوبصورت عمل لگتا ہے۔ اور اسی خواہشِ مرگ نے ہماری زندگیوں سے سارے خوبصورت رنگ اور مسرتیں چھین لی ہیں۔

اس قریب المرگ ذہنیت سے نجات زندگی سے دوبارہ تعلق پیدا کر کے حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن ہماری زندگی فی الحال موت اور ہیبت کے سوداگروں کے ہاتھ گروی رکھی ہوئی ہے۔ اس لیے ہم زندگی جی نہیں رہے بلکہ گزار رہے ہیں۔ یاد رکھیے، جیل میں عمر قید کی سزا بھگتنے والے قیدی زندگی جیتے نہیں، گزارتے ہیں۔

ہماری زندگیاں بھی ان سوداگروں کی وجہ سے ایک ذہنی قید خانے میں مقید ہو گئی ہیں۔ ظاہر ہے اس قید خانے سے باہر نکلنے کی سزا موت ہی ہوگی۔ یا خدا جائیں تو کہاں جائیں؟ جیل کی کال کوٹھڑی میں گھٹن مار دیتی ہے، اور باہر نکلنے کی کوشش کریں تو مذہب کے نام نہاد محافظ مار دیتے ہیں۔

اور بدقسمتی سے مولانا وحید الدین کی وفات کے ساتھ زندگی سے محبت کے بیانیے کا ایک چراغ بجھ گیا ہے، اور ہم مزید اندھیروں کے سوداگروں کے زیرِ اثر آ گئے ہیں، جو حیات علم اور محنت نہیں بلکہ موت، جہالت اور نفرت بانٹتے ہیں۔ موت، تاریکی اور عقل کے دشمن کے لگائے ہوئے پہروں میں زندگی، عقل اور روشنی کی بات کرنا ایک ربانی عمل ہے، جسے مولانا وحید الدین نے بخوبی سرانجام دیا۔ بشکریہ، ہم سب۔ پاکستان کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 137۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.