← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Raz-e-Hayat Wal-e-Baba Ji
Urdu · 9 min
رازِ حیات والے بابا جی عارف انیس، پاکستان۔ مولانا وحید الدین خان بھی رخصت ہوئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ذہین آنکھوں اور متجسس سراپے والی دھیمی اور باوقار شخصیت کے مالک، وحید الدین خان کو دیکھ کر ارطغرل والے ابن عربی کا خیال آتا تھا۔ وہ ان دس پہلے لوگوں کی فہرست میں شامل تھے جن سے زندگی بھر بہت کچھ سیکھا، جن سے ملنے کی حسرت تھی مگر ہندوستان نہ جا سکنے کی وجہ سے پوری نہ ہو سکی۔
میں اگر ہندوستان جاتا تو ترتیب کے اعتبار سے انہیں دیکھنا تاج محل دیکھنے سے پہلے بنتا تھا۔ وہ امن، آشتی، برداشت، انسانیت، علم اور عظمت کا تاج محل تھے۔ میرے چند ایک جو غیبی استاد اور مرشد تھے، وہ ان میں پہلے نمبر پر تھے: جمران نپولین ہل، وین ڈائر سٹیون، کووے، جیک کینفیلڈ، برائن ٹریسی، دیپک چوپڑا۔ ان سب دیوزاد لوگوں کو پڑھنے اور ملنے سے پہلے انہیں پڑھا، اور انہیں ان سب سے اوپر ہی پایا۔
پرسنل ڈویلپمنٹ یا خودکاری پر ان کا لکھا حرفِ آخر ہے۔ پندرہ برس کی عمر میں ان کی کتاب "رازِ حیات" پڑھی، جس کا میرے اوپر بہت گہرا اثر ہوا۔ میرے خیال میں پورے عالمِ اسلام میں اپنی ذات کی تعمیر اور نشونما پر ان سے بہتر کسی نے نہیں لکھا۔ مگر کمال یہ تھا کہ صرف باتیں ہی نہیں کیں، پوری زندگی انہی اصولوں پر مرتب گزار دی۔
جماعت اسلامی ہند سے سفر کا آغاز کیا، مگر پھر بہت آگے نکل گئے۔ وہ اپنی مثال آپ تھے۔ وہ دنیا میں شاید واحد شخص تھے جن سے دلائی لامہ کو بھی جھک کر ملنا پڑا۔ ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ رازِ حیات تک پہنچنے کے بعد اسے انسانوں کے درمیان تقسیم کر کے گئے۔
ایک امریکی خاتون سیاحت کی غرض سے روس گئیں، وہاں انہوں نے دیکھا کہ ہر جگہ کمیونسٹ پارٹی کے چیف کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ بات انہیں پسند نہیں آئی۔ ایک موقع پر وہ کچھ روسیوں سے اس پر تنقید کرنے لگیں۔ خاتون کے ساتھی نے ان کے کان میں چپکے سے کہا، "میڈم، آپ اس وقت روس میں ہیں، امریکہ میں نہیں۔
" آدمی اپنے ملک میں اپنی مرضی کے مطابق رہ سکتا ہے، لیکن اگر وہ کسی غیر ملک میں جائے تو وہاں اس کو دوسرے ملک کے نظام کی پابندی کرنی پڑے گی۔ اگر وہ وہاں کے نظام کی خلاف ورزی کرے تو مجرم قرار پائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیا کا ہے۔ انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوتا ہے جس کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔
یہ مکمل طور پر خدا کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ گویا انسان یہاں اپنے ملک میں نہیں ہے، بلکہ خدا کے ملک میں ہے۔ یہ تھے مولانا وحید الدین خان۔ وہ ہر شعر، مزاح، اخباری واقعے سے اپنے مطلب کی بات، کوئی نصیحت نکال لیتے تھے۔
خان صاحب تا حیات اسلام کے داعی اور مارکیٹر تھے۔ سب سے کمال کی بات ان کی وہ نگاہ مردِ مومن تھی جس نے تقریباً گزشتہ پچاس برس میں پولیٹیکل اسلام کے حوالے سے سب سے درست درایت کی۔ وہ اسلام سے تعلق رکھنے والی شاید واحد دیوقامت شخصیت تھے جو مذہب کو طاقت کے حصول کے لیے ناجائز سمجھتے تھے۔ سائنسی طرزِ فکر کے پرچارک تھے اور خواتین کے حقوق کے شدید قائل تھے۔
ان کا خیال تھا کہ اسلامی معاشرے سیاسی اسلام کی شکست کی وجہ سے ردِعمل کی نفسیات کا شکار ہیں، اور مغرب کو ایک حریف کے بجائے حلیف خیال کیا جانا چاہیے۔ نوے کی دہائی میں جب ہمارے بچپن میں ہمیں مست گل اور حرکت المجاہدین کا چورن بیچا جا رہا تھا، وہ 1960 سے ہی واضح تھے کہ پولیٹیکل اسلام اور اسلام کے نام پر طاقت کا حصول، اسلام اور مسلمانوں دونوں کے کڑاکے نکال دے گا۔ ان کی اس ضمن میں تقریباً ساری پیشنگوئیاں پوری ہوئیں۔ پاکستان میں گزشتہ پچاس برس میں شدت پسندی کی بڑھوتری کے حوالے سے ان کا لکھا حرفِ آخر ہے۔
جب یہاں ہر تاریکی آخر کار روشنی بننے والی ہے تو وقتی حالات سے گھبرانے کی کیا ضرورت؟ آدمی اگر یہاں کسی مشکل میں پھنس جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ صبر اور حکمت کے ساتھ اس سے نکلنے کی جدوجہد کرے۔ اگر بالفرض اس کے پاس جدوجہد کرنے کی طاقت نہ ہو، تب بھی اس کو چاہیے کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے آنے والے کل کا انتظار کرے۔ اس دنیا میں جس طرح محنت ایک عمل ہے، اسی طرح انتظار بھی ایک عمل ہے۔
جو شخص عمل کا ثبوت نہ دے سکے، اس کو چاہیے کہ وہ انتظار کا ثبوت دے۔ اگر اس نے سچا انتظار کیا تو عین ممکن ہے کہ وہ انتظار کے ذریعے بھی اسی چیز کو پا لے جس کو دوسرے لوگ محنت کے راستے سے تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ قدرت کا نظام خود اپنے آخری فیصلے کو ظہور میں لانے کے لیے سرگرم ہے، بشرطیکہ آدمی مقررہ وقت تک اس کا انتظار کر سکے۔ بے شک اپنے بابا جی سچا انتظار کرنے والوں میں سے تھے۔
اعظم گڑھ میں پیدا ہونے والے وحید الدین خان نے 96 سالہ زندگی میں 200 سے زائد کتابیں تصنیف کیں، اور رسالے نے بلاشبہ لاکھوں قندیلیں روشن کیں۔ گوربا چوف ایوارڈ، مدر ٹریسا ایوارڈ، ہندوستان کا پدم بھوشن ایوارڈ، اور سینکڑوں مزید ایوارڈ ملے۔ وہ اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی میں لکھنے اور بولنے میں مہارت رکھتے تھے۔ ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی دیتے ہیں۔
خان صاحب نے اپنی پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے کے لیے وقف کر دی تھی، اور اپنے آپ کو تفکیری حیوان یعنی The Thinking Animal کہتے تھے۔ یہ نوبل انعام کی بدنصیبی ہے کہ وہ انہیں نہیں ملا۔ وہ اس حال میں اٹھے کہ ہمارے پاس ان جیسا کوئی نہیں رہا۔ ان کی روانگی کا سوچتا ہوں تو آنکھیں نم ہوتی ہیں، مگر پھر رشک بھی آتا ہے کہ ڈیوٹی پوری کر گئے بابا جی۔
اور پھر سورہ الفجر کی یہ آیات کانوں میں گونجتی ہیں: "یا ایتہا النفس المطمئنہ، ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ، فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی"۔ سورہ نمبر 90 آیت 27 تا 30۔ یعنی: "اے اطمینان والی روح! تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل، اس طرح کہ تو اس سے راضی، وہ تجھ سے خوش۔
پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا، اور میری جنت میں چلی جا"۔ کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 134۔