مولانا وحید الدین خان ایک نابغہ روزگار شخصیت تھیں۔ مولانا وحید الدین خان وہ شخصیت تھی جس نے میری سوچ کے ٹھہرے پانی میں ہلچل پیدا کی۔ وہ پہلی شخصیت تھی جو میرے سوچنے کے انداز پر اثر انداز ہوئی۔ مولانا کے افکار و نظریات سے شناسائی سے پہلے ہی میں اگرچہ جستجو کے سفر پر نکل پڑا تھا، مگر اس سفر میں فکر کی بنیادیں تبدیل نہیں ہوئی تھیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکل رہا تھا کہ میں ایک بند گلی سے نکل کر دوسری میں جا رہا تھا۔ مولانا سے تعارف کے بعد میں ان گھٹن زدہ گلی کوچوں سے نکل کر پرفضا وسیع و عریض میدان میں آ گیا، جہاں میں ہر چیز کو تعصب کے بغیر دیکھنے کا اہل ہو گیا تھا۔ حتیٰ کہ مولانا کی باتوں کو بھی اسی نظر سے دیکھا۔ یہ تبدیلی بہت بڑی تبدیلی تھی۔
اس سے فکر و تدبر کے دریچے وا ہوئے۔ چوہدری احسان اللہ پاکستان۔ کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 133۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.