مولانا خدا سے حبِ شدید اور خوفِ شدید رکھنے والی عاجز شخصیت تھی، اور اس دنیا میں یہ خصوصیات لوگوں کے اندر پیدا کرنے کے لیے جو محنت کی، وہ رہتی دنیا تک ان کے لیے صدقۂ جاریہ کے طور پر قائم رہے گی، ان شاء اللہ۔ جو تھوڑا بہت پڑھا، وہ ان کو پڑھا، اور اس نے خوب حوصلہ ملا، اور جو تھوڑا بہت نیک عمل کیا، وہ خدا کے اس عظیم بندے کی تذکر القرآن اور الرسالے کو پڑھ کر کیا۔ اے اللہ! ہم تیرے انتہائی شکر گزار ہیں کہ تو نے اپنے اس عظیم بندے سے ہمیں متعارف کروایا۔
اس نے تیرے تخلیق کے مقصد کو ہم پر آشکارہ کیا، اس کا صلہ ان کو خوب دینا۔ بے شک تو بہت خوب صلہ دینے والا ہے۔ عبدالقدیر، پاکستان۔ کتاب: داعیِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 133۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.