مینارِ نور، ہمایوں مجاہد، تراڑ، پاکستان۔ علم و تحقیق کے میدان کا کھلاڑی اپنے خلوص اور جوشِ جنوں میں غلط ٹریک پر پایا جائے، تب بھی اس کے لیے سندِ قبولیت ہے، احترام ہی احترام ہے۔ حق پر ہونے کا آخری فیصلہ اس بادشاہ کی بارگاہ میں ہونا ہے جس کے حضور مولانا وحید الدین خان اب پیش ہو چکے، اور جس کے ہاں فتویٰ بازی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ظاہراً دیکھا جائے تو مولانا مرحوم علم، تحقیق، انسپیریشن، اور حسنِ تحریر کا مینارِ نور ہیں؛ آپ کی تعلیمات اور فکر کے بعض پہلوؤں سے ہمیں شدید اختلاف ہو سکتا ہے، مثلاً علامہ اقبال کے فکر و فلسفے پر آپ کی تنقید وغیرہ۔
تاہم، ایک ایسا شخص جو اپنے ہاں ایک پورا نظامِ فکر رکھتا ہو، اپنی سوچ کے حق میں اپنے تئیں علمی و فکری دلائل رکھتا ہو، غیر متشدد ہو، دھیمے لہجے میں کلام کرے، تو اس کی ہر بات لائقِ سماعت و احترام ٹھہرے گی۔ مولانا مرحوم جیسی لیجنڈری، انسپائرنگ شخصیت کے حق میں ایک دم سے منفی گوئی والی تلواریں بے نیام کر لینا خود اپنا قد کم کر لینا ہے۔ اختلافی امور برطرف: جو لوگ مولانا مرحوم کو زیادہ نہیں جانتے، ان کے لیے نصیحت ہے کہ آپ مولانا کی کتاب "رازِ حیات" اٹھا کر کسی بھی ایک صفحے کی ریڈنگ کر ڈالیں؛ شرطیہ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ you want he able to drop this book? You want he able to drop this book?
ایک سے ڈیڑھ صفحات توالت والے 251 مضامین کے حامل یہ ان کی مقبول ترین کتب میں سے ہے۔ ایسی ہی آپ نے درجن بھر کتابیں لکھی ہیں جو انسان کی نئے سرے سے ٹیوننگ کرتی ہیں، ایک سست الوجود بندے کو اٹھا کر کھڑا کرتی، زاویۂ نگاہ بدل ڈالتی، گھپ اندھیرے میں روشن چراغ کا کام دیتی ہیں۔ مثبت فکری خلوص، علمیت و رجائیت، اور روشنی سے لدی ایک ندی ہے آپ کی ہر ایسی کتاب۔ اور روشنی سے لدی ایک ندیہ ہے آپ کی ہر ایسی کتاب۔
انسپیریشن یعنی ہیومن ڈیولپمنٹ اور نفسیاتی اصلاح کے موضوع پر آپ کا کام ایسا ہے کہ اس ایک زندگی کے لیے مولانا مرحوم کی دو عدد کتابیں ہی کافی و شافی ہو جائیں۔ دھیمے لب و لہجے والا یہ نکتہ داں استاد رخصت ہوا، اللہ ہمیں ان کی تحریر سے مستفید ہونے کی توفیق بخشے۔ اللہ ہمیں ان کی تحریروں سے مستفید ہونے کی توفیق بخشے۔ آپ اپنے نوجوان اور جوان بچوں کو انسپیریشن، ہیومن ڈیولپمنٹ کے موضوع پر خان صاحب مرحوم کی دو تین عدد کتابیں تو ضرور ہی دلا دیں۔
"جہلم بک کارنر" نے پبلش کر رکھی ہیں، قیمت بھی زیادہ نہیں ہے، انمول سرمایہ ہے۔ انمول سرمایہ ہے یہ، باقی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ وہ مسائل اہلِ علم کو نمٹا لینے دیں۔ وہ مسائل اہلِ علم کو نمٹا لینے دیں، کیا خیال ہے؟
بشکریہ، ماہ نامہ انظار، کراچی۔ کتاب "دائیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 132۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.