Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Likin tum Khairkhahon ko Pasand nahi kartey

Urdu · 10 min

"لیکن تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ " مولانا انس ملک ندوی، سورت گجرات۔ خدا کی ذات بہت ہی شفیق اور مہربان ہے؛ وہ ہر دور میں انسانوں کے لیے ہدایت کا سامان مہیا کراتا ہے۔ پہلے انبیاء کو مبعوث کرتا تھا، اب وہ سلسلہ ختم ہو گیا؛ اب جس سے چاہتا ہے اپنے دین کی تجدید کا کام لیتا ہے۔

اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ مولانا وحید الدین انہی میں سے ایک ہیں۔ مولانا وحید الدین، ایک کمزور بدن انسان، لیکن پہاڑ سے بھی زیادہ طاقتور اور اٹل، جب معاملہ اصول اور دینِ حق کی دعوت کا ہو۔ بلاشبہ مولانا وحید الدین خان اس امت میں اپنے عظیم الشان کام کے سبب اپنا ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کا علمی کام صرف معلوماتی اضافے کا نام نہیں، بلکہ دنیا کو پیش آمادہ بیشتر مسائل کے تدارک کا ذریعہ ہے۔

امت مسلمہ کے اس دورِ زوال میں جو گرد حقیقی اسلام پر لپٹ چکی تھی، اس کی صفائی کا ذریعہ بلاشبہ مولانا خان کی ذات کو اللہ تعالیٰ نے بنایا۔ آج اس دور میں اگر کوئی انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ دینِ اسلام کا حقیقی مزاج یا اس کی اصل روح کو سمجھے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مولانا کی کتابوں کا مطالعہ کرے۔ مولانا کی کتابیں اسلام کا حقیقی تعارف پیش کرتی ہیں۔ مولانا وحید الدین خان صاحب کی کتابوں کا مطالعہ، طالب علم کو بہت ساری دوسری کتابوں کے مطالعے سے بے نیاز کر دیتا ہے۔

مولانا کا علمی استدلال ان کو امت میں وہ مقام دلاتا ہے جس پر امت کے چند ہی نام سامنے آتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں کمال مولانا کا نہیں، بلکہ اس عظیم و برتر خدا کا ہے جو اپنا خاص فضل اپنے خاص بندوں پر کرتا ہے۔ وہ ہدایت کو پہنچانے میں کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیتا۔ احمد امین مصری کی کسی کتاب میں میں نے ایک عبارت پڑھی تھی جس کا مفہوم کچھ اس طرح تھا کہ جب کبھی بھی اس قوم میں کوئی مصلح یا کوئی جید عالم نمودار ہوا تو اس پر کفر اور الحاد کے فتوے داغے گئے، حتیٰ کہ اس کی جان کے درپے لوگ ہو گئے۔

مگر جب وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا، کوچ کر گیا، تو اس کی موت کے سبب لوگوں کا حسد ٹھنڈا پڑ گیا اور دھیرے دھیرے اس کا اعتراف بڑھتا چلا گیا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موجودہ امت مسلمہ ایک مردہ، یعنی زوال یافتہ قوم ہے۔ زندہ لوگوں کی قدر ان کی نگاہوں میں نہیں جچتی۔ مولانا کا اگر ایک لفظ میں تعارف بیان کیا جائے تو میری رائے میں خیرخواہ سے بہتر کوئی اور لفظ نہیں ہو سکتا۔

اور خیرخواہی بھی کسی محدود معنوں میں نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا احاطہ جس میں پایا جاتا ہو۔ عام طور پر مسلم علماء کا مقام ان کی ملی اور قومی خدمات ہی متعین کرتی ہیں۔ اور ان کا نام بھی انہی لوگوں میں متعارف مانا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے یہاں امت کا درد، قوم کی فلاح جیسے الفاظ ہی پائے جاتے ہیں۔

انسانیت کا درد، اسے درپیش مسائل کا حل، یہ وہ موضوع ہیں جنہیں مسلم علماء یا تو جانتے نہیں یا بضد اسے مانتے نہیں۔ جبکہ مولانا کے نزدیک پورے اسلام کا خلاصہ ہی دو اجزاء میں بیان کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک ہے خدا کو اپنا اصل کنسن بنانا، اور دوسرا ہے تمام انسانوں کی مکمل خیرخواہی۔ مولانا وحید الدین صاحب سے وابستگی کی میری ایک لمبی داستان ہے۔

مختصراً یہاں پر اتنا بیان کرنا چاہتا ہوں کہ طالب علمی کے زمانے میں پوری طرح معاشی تنگی اور دیگر مسائل سے دوچار تھا، ذہنی خلفشار میں مبتلا تھا۔ اسی زمانے میں ہمارے ایک ساتھی نے مجھے "رازِ حیات" نامی کتاب کو پڑھنے کے لیے مشورہ دیا۔ یہ کتاب ایک شاہکار کتاب ہے۔ بظاہر اس میں دینی مسائل آپ کو نظر نہیں آئیں گے، لیکن درحقیقت دیکھا جائے تو یہ کتاب دنیاوی ہو کر بھی دینی مزاج پیدا کرنے میں بے حد مؤثر ہے۔

اپنے اندر سے منفی نفسیات کو مٹانا، حقوق طلبی کے بجائے حقوق شناسی کا مزاج پیدا کرنا، ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر آگے بڑھنا، زندگی کو مقصدِ اعلیٰ کے لیے استعمال کرنا، حقیقت پسندی کا مزاج اپنے اندر ڈیولپ کرنا، شکوہ شکایت کرنے کے بجائے اپنے اندر نافعیت پیدا کرنا، وغیرہ وغیرہ۔ اس کتاب نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ زندگی کو ایک الگ زاویے سے دیکھنے لگا۔ بہرحال یہ تو مولانا کی صرف ایک کتاب کا اثر تھا۔

دھیرے دھیرے مولانا کے رسالے جب بھی ملتے، فوراً پڑھ ڈالتا۔ مجھے اب بھی یاد ہے، غالباً عالیہ ثالثہ کا سال تھا، گرمیوں کی چھٹی ہونے والی تھی۔ طلبہ اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ میں نے گرمی کی چھٹی وہیں پر گزارنے کا ارادہ بنا لیا تھا۔

کون کون سی کتابیں پڑھنی ہیں، اس کی لسٹ بنانا باقی تھا۔ میں نے اپنے ایک ساتھی، جو کہ سلیمانیہ ہاسٹل کی لائبریری کے ذمہ دار تھے، ان سے مولانا صاحب کی کتابوں کی بابت معلوم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا کے رسالے اب نہیں آ رہے ہیں۔ غالباً اس کی وجہ مولانا وحید الدین خان کی مولانا علی میاں ندوی پر تنقید تھی۔

میرے ساتھی نے مجھ سے کہا کہ مولانا وحید الدین خان کے پرانے رسالے ابھی تک لائبریری میں موجود ہیں۔ اگر تمہیں چاہیے ہوں تو میں تمہیں پہنچا دوں۔ میں نے کہا کہ جتنے بھی ہیں، وہ تمام کے تمام مجھے دے دو۔ اللہ کا یہ فضل رہا کہ ان چھٹیوں میں میں نے مولانا کو خوب پڑھا۔

جو بھی رسالے اس وقت موجود تھے، وہ تمام رسالے میں نے پورے غور و اطمینان سے مکمل پڑھے۔ یہیں سے میں مولانا کی فکر کو سمجھا اور مولانا کے مشن سے قریب ہوتا چلا گیا۔ جو اشکالات تھے، جو لوگوں کی سنی سنائی باتیں تھیں، جو غلط فہمیاں تھیں، وہ خود بخود مولانا کی کتابیں پڑھنے سے ختم ہوتی گئیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ مدرسے سے میری فراغت ہوئی اور آج بھی میں مولانا کو پڑھ رہا ہوں اور ان سے آج بھی سیکھ رہا ہوں۔

مولانا میرے لیے خدا کی ایک عظیم بلیسنگ تھے۔ آج مولانا وحید الدین خان موجود نہیں، لیکن مولانا کی تحریریں، ان کا لٹریچر ہمارے پاس موجود ہے، جو یقیناً پوری انسانیت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ انسان اس سے اپنے خالق کی حقیقی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ ابو یحییٰ صاحب نے بجا طور پر لکھا ہے کہ مولانا وحید الدین خان صاحب کا علم صرف علم نہیں ہے، بلکہ وہ فیضانِ الٰہی ہے جسے اللہ نے مولانا کے قلم سے جاری فرمایا۔

مولانا کا سب سے بڑا جو کارنامہ ہے، وہ ہے بندے کو اپنے رب سے شعور کی سطح پر متعارف کرانا۔ بلاشبہ اس میدان میں آپ کسی دوسری علمی شخصیت کو ان کا مقابل نہیں پا سکتے۔ علماء اور ان کے زیرِ اثر عوام کا مولانا کے بارے میں یہ سوچنا ہے کہ وہ مسلمانوں میں بزدلی اور پست ہمتی کو فروغ دیتے ہیں، اور جرات و حوصلے کی بیخ کنی کرتے ہیں، جبکہ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ یہ درست ہے کہ مولانا اپنی قوم کو صبر اور صلح کی تلقین کرتے ہیں۔

ہندوستان کے پیشِ نظر مسلمانوں کو سیاسی ماہازارائی سے دور رہ کر تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اور یہی چیز مسلم قوم کے لیے سچی خیرخواہی بھی ہے۔ لیکن افسوس، مسلمان اسے بزدلی سے تعبیر کرتے ہیں۔ جبکہ یہی عین بہادری ہے۔

ورنہ کون ہے جو قوم کے غلط اقدام کی مذمت کرے؟ کون ہے جو خود گالیاں کھا کر بھی قوم کو روشن مستقبل کی طرف راہ دکھائے؟ کتنی سچی بات خود اللہ نے پیغمبر شعیب کی زبان سے ان کے مخاطبین کے لیے فرمائی ہے۔ اور وہ اس مقام پر پوری طرح صادق، اور وہ اس مقام پر پوری طرح صادق آتی ہے۔

تم لوگ خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ الاعراف، سورہ نمبر 7، آیت 79۔ کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 129۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.