مولانا سے میں نے آرٹ آف لائف سیکھا ہے، دنیا کے اعتبار سے بھی اور دین کے اعتبار سے بھی۔ مثلاً میں نے مولانا سے یہ سیکھا ہے کہ کیسے منفی تجربات کو مثبت پہلو سے دیکھا جائے۔ یہ 18 اکتوبر 2018 کی بات ہے، صبح ساڑھے 10 بجے کا ٹائم تھا، میں اور ساجد انور صاحب ممبئی سے مولانا سے ملاقات کرنے کے لیے ان کے گھر آئے ہوئے تھے۔ ہم لوگ مولانا سے بات چیت کر رہے تھے کہ ایک کشمیری صاحب اسی وقت مولانا کے پاس پہنچے اور ہماری بات چیت میں شامل ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا حال بہت برا ہے، ان کے بھائیوں نے ان کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے، اور انہیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ مولانا صاحب نے ان کی پوری بات خاموشی کے ساتھ سنا۔ جب ان کی بات مکمل ہو گئی تو مولانا نے کہا کہ دیکھیے، مصیبت اس لیے نہیں آتی ہے کہ بندہ یہ کہے کہ ہائے مصیبت، بلکہ مصیبت اس لیے آتی ہے کہ بندہ دعا کرے۔ یہ سن کر میں حیران رہ گیا، ایسا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔
ڈاکٹر جنید، ڈاکٹر جنید شیخ، سی پی ایس ممبئی۔ کتاب: داعیِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 128۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.