← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Ah! Is sadi ka azeem Mufakkir
Urdu · 5 min
آہ، اس صدی کا عظیم مفکر، محمد نظام الدین قاسمی، ناخدا مسجد، زکریا اسٹریٹ، کلکتہ۔ وحید الدین خان صاحب، بلا مبالغہ، اس دور کے بڑے داعی الٰہ اور اللہ کے ولی تھے۔ آپ نے خدا کے پیغام کو دنیا کی زبان میں پیش کیا ہے۔ آپ نے انڈیا سے لے کر یورپ و امریکہ تک، نان مسلم اسٹیج سے اسلام کی ترجمانی اس انداز سے کی ہے کہ دنیا نے بھی اسلام کی حقانیت کا اعتراف کیا۔
آپ کی دعوت کا طریقہ انتہائی انوکھا تھا: نہایت پرسکون انداز میں اہلِ دنیا کے سامنے خدا کا پیغام ایسے اسلوب میں پیش کرتے تھے جس کو مخاطب آسانی سے سمجھ لیتا تھا۔ آپ کی تحریر میں جو چاشنی اور مٹھاس ہے، اس کا احساس وہی کر سکتا ہے جس نے آپ کی تحریروں کو پڑھا ہے۔ خصوصاً خدا کی معرفت اور آخرت کا تذکرہ جب آپ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کے جاہ و جلال اور قبر و حشر کو دیکھ رہے ہیں۔ بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ زندہ ہوتے ہوئے بھی موت کی کلفتوں کا حسی طور پر اندازہ کر رہے ہیں۔
آپ کے دعوتی عمل سے جہاں سینکڑوں انسانوں نے خدا کی وحدانیت کا اقرار کر کے مذہبِ اسلام کو اپنایا، وہیں لوگوں کو دنیا جینے کا طریقہ بھی آیا ہے۔ ایک انسان جو خود اپنی زندگی سے بیزار ہو چکا ہو، اگر وہ آپ کی کتاب "رازِ حیات" کو پڑھے تو اس کو اپنی زندگی سے تمام شکایتیں دور کر کے آگے کا راستہ طے کرنا آ جائے گا۔ مولانا وحید الدین خان صاحب کے کچھ ایسے افکار تھے جس سے علماء کا ایک طبقہ نالاں رہا ہے۔ لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسی رائے ہرگز نہیں ہے جس کی بنیاد پر انہیں متعون کیا جائے۔
بلکہ علم و تحقیق کے جس مقام پر وہ فائز تھے، ایسے لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے قائم کریں۔ دراصل ہم علماء کا معاملہ یہ ہے کہ ہم بہت جلد اس سے بدزن ہو جاتے ہیں جس کی رائے ہماری رائے یا ہمارے اکابر یا مسلک کے خلاف ہو۔ کسی کو بذاتِ خود پڑھے، سنے، اور اس سے ملے بغیر محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی سے بدزن ہو جانا، وہ بیماری ہے جو موجودہ علماء کے اندر بہت زیادہ ہے۔ اس کا اخروی نقصان تو مرنے کے بعد معلوم ہوگا، لیکن دنیا میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ علمی اور فکری اعتبار سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔
خود میرا بھی ایک دور گزرا ہے کہ محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر میں مولانا کا بہت بڑا ناقد تھا۔ لیکن جب کلکتہ آیا اور چچا محترم حضرت مولانا شفیق قاسمی صاحب امام و خطیب ناخدا مسجد، کلکتہ کی خدمت میں رہنے لگا، جو مولانا مرحوم کے بڑے مداح اور عقیدت مندوں میں سے ہی نہیں بلکہ ان کے دعوتی مشن کے ایک فرد بھی ہیں، اس وقت قریب سے مولانا کی تحریروں کو پڑھنے کا موقع ملا۔ تب میں نے سمجھا کہ یہ شخص موجودہ وقت میں اللہ کا سچا ولی ہے۔ اور پھر درجنوں کتابیں آپ کے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔
اور پھر درجنوں کتابیں آپ کی پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ بڑی تمنا تھی کہ آپ سے ملاقات کی، لیکن شاید خدا کو منظور نہیں تھا۔ مولانا نے ایک لمبی عمر پائی اور حدیثِ رسول کے مصداق ہوئے: "خیر الرجال من طال عمرہ وحسن عملہ"۔ لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جس نے لمبی عمر پائی اور اس کے اعمال بھی اچھے ہوں۔
مسند احمد، حدیث نمبر 1768۔ آپ کی زندگی مذکورہ حدیث کے عین مطابق تھی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول کر کے آپ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
روزنامہ سہارا ایکسپریس، پٹنہ، 23 اپریل 2021۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 127۔