Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Myne Maulana Wahiduddin Khan se kya Sikha

Urdu · 6 min

میں نے مولانا وحید الدین خان سے کیا سیکھا؟ مظہر جمیل رشیدی، ممبئی۔ میرا مولانا وحید الدین خان سے غائبانہ تعارف ان کی کتاب "مذہب اور جدید" چیلنج کے ذریعے ہوا تھا۔ بعد میں 2 مرتبہ مجھے مولانا سے براہِ راست ملاقات کا موقع بھی ملا۔

شعوری طور پر وجودِ خدا کو ماننے میں مجھے تردد تھا، اس لیے نہیں کہ خدا کے انکار کے لیے میرے پاس کوئی اہم دلیل تھی؛ اس کی بنیادی وجہ مذہبی لوگوں کا رویہ اور کردار تھا۔ "مذہب اور جدید" چیلنج کو پڑھنے کے بعد شعوری طور پر میں خدا کا معترف ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے مولانا کی مزید کتابیں پڑھیں۔ "کاروانِ ملت" پڑھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ مسلمان اور اسلام میں کتنا زیادہ فرق ہے۔

"کاروانِ ملت" میں مولانا نے بتایا کہ مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کی روشنی میں۔ خدا سے بغاوت کرنے کی دو اہم وجوہات ہو سکتی ہیں: ایک، خدا کی ملحدانہ تعبیر؛ اور دوسری، مذہبی افراد کا کردار۔ "مذہب اور جدید" چیلنج پہلی وجہ کا علمی تجزیہ ہے، اور "کاروانِ ملت" دوسری وجہ کا تحقیقی مطالعہ۔ اس کے علاوہ، میں نے مولانا سے جانا کہ مسلمان داعی ہیں اور غیر مسلم مدعو؛ یہی وہ معیار ہے جس پر مسلمانوں کی دنیاوی اور اخروی کامیابیوں کا انحصار ہے۔

مگر مسلمانوں نے اپنی اس ذمہ داری کو عملاً فراموش کر دیا، اور اپنے مسائل کی تلافی کے لیے انہوں نے مختلف قسم کے لائحہ عمل تیار کیے، مگر نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو ہر لائحہ عمل نے مسلم مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان کو مزید نئے مسائل میں مبتلا کر دیا۔ اور اس کی بنیادی وجہ تشخیص کی غلطی تھی۔ مولانا نے اپنی کتاب "رازِ حیات" میں ایک مضمون بعنوان "بڑا کام" کے تحت ولیم بلیک کے درج ذیل اقتباس کو نقل کیا ہے: "Great things are done when men and mountains meet; this is not done by jostling in the street. " عظیم کام اس وقت ہوتے ہیں جب انسان اور پہاڑ ملتے ہیں۔

کوئی عظیم کام سڑک پر دھکم دھکا کرنے سے نہیں ہوتا۔ صفحہ 194۔ مسلمانوں نے مختلف طریقوں سے اس دھکم دھکا پر پوری طاقت لگا کر عمل کیا ہے، مگر انہوں نے کبھی اپنے آپ کو وہ انسان نہیں بنایا جو پہاڑوں کو فتح کرنے کے لیے درکار ہے۔ پہاڑ پر اپنا جھنڈا لہرانے کے لیے محنت، مستقل مزاجی، اور ہمت کی ضرورت ہے۔

اسی طرح اقوامِ عالم کے دلوں میں اسلامی جھنڈا لہرانے کے لیے داعی الی اللہ والی صفات، محبت، صبر، اور قربانی کی ضرورت ہے۔ جسمانی قربانی نہیں، بلکہ جذبات، انتقام، منفی احساسات، دوسروں کی ہدایت کے لیے مادی حقوق کو قربان کرنے کی ضرورت ہے۔ ظہورِ اسلام، صفحہ 297۔ مولانا نے اپنا پورا مشن ہی اسی ذمہ داری کا احساس دلانا اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے وقف کر دیا تھا۔

اس کو دوسرے لفظوں میں "احیائے اسلام" کا مشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ باقی مولانا کا تمام کنٹریبیوشن اسی احیائے اسلام کے اردگرد گھومتا ہے۔ مولانا نے مسلمانوں سے متعلق جو باتیں محسوس کی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلمان ابھی بھی شاعرانہ دور میں جی رہے ہیں۔ ان کی تحریروں اور تقریروں میں حقیقت پسندی سے زیادہ شاعرانہ رنگ غالب ہے۔

شاعری کا دوسرا صحیح نام "غیر حقیقت پسندی" ہے، اس کو مولانا غیر سائنٹیفک مزاج کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ ڈائری، 21 جون 1990۔ میں نے مولانا کی تقریباً تمام کتابیں پڑھی ہیں، مگر دوسرے مصنفین کے برعکس ان کی کتابوں میں شاعری کی کوئی قابلِ ذکر مقدار موجود نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ شاعری سرے سے ہی نہیں، سرے سے ہے ہی نہیں۔

مسلمانوں کو مولانا نے یہ بتانے کی کامیاب کوشش کی کہ وہ شاعری کے بجائے حقیقت پسندی میں جینا سیکھیں۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ ان کو ان خوش قسمت لوگوں میں شامل کر لے جن کو خدا کے پڑوس میں رہنے کا شرف حاصل ہونے والا ہے۔ کتاب "داعیِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 125۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.