دل میں نفرت نہ ہو۔ امجد احمد، سی پی ایس، رائے چور، کرناٹک۔ ایک حدیثِ رسول ہے جس کے راوی صحابیِ رسول انس ابن مالک ہیں؛ اس کا مفہوم اس طرح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے بیٹے، میری ایک عظیم سنت ہے؛ جو میری اس سنت سے پیار کرے گا، وہ مجھ سے پیار کرے گا۔ جو مجھ سے پیار کرے گا، وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔
" حضرت انس نے عرض کیا: "خدا کے رسول، وہ کیا ہے؟ " رسول اللہ نے فرمایا: "میرے بیٹے، سن! کسی سے نفرت نہ کرنا، کسی سے بغض نہ رکھنا، کسی کا کھوٹ دل میں نہ رکھنا۔ یہ میری وہ عظیم سنت ہے؛ جو اس سے پیار کرے گا، وہ مجھ سے پیار کرے گا، اور جو مجھ سے پیار کرے گا، وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔
" سنن الترمذی، حدیث نمبر 2678۔ میری ذاتی رائے ہے کہ اس حدیثِ رسول کا مصداق میں نے مولانا کو پایا ہے؛ مولانا کے لٹریچر کا مطالعہ اور شخصی ملاقاتوں نے میرے یقین کو اور بڑھا دیا۔ مولانا کے قول اور فعل میں کوئی تضاد میں نے نہیں پایا۔ مولانا کے ساتھ مسلسل ربط نے میرے ذہنی شاکلے کو بدل دیا۔
آج میں ایک بدلا ہوا انسان ہوں۔ بقول مولانا، دعویٰ ایکٹیوزم ہمارے لیے ماسٹر اسٹروک اور شاہ کلید ہے، اور اس کام کو کرنے کی لازمی شرط جو ہم کو ادا کرنی ہے، وہ یہی ہے کہ ہمارے اندر سارے انسانوں سے محبت اور خیرخواہی ہو۔ کسی سے ذرہ برابر بھی دل میں نفرت نہ ہو۔ مولانا سے سب سے بڑی بات جو میں نے سیکھی، وہ یہی ہے، اور یہی میری زندگی کا حاصل و نچوڑ ہے۔
مولانا کے مسلسل مطالعے سے میں یقین کے درجے میں اس بات کو سمجھ گیا ہوں کہ اس دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز نفرت سے خالی ہونا اور دعویٰ ایکٹیوزم کو اختیار کرنا ہے۔ مولانا کا یہ مشن عموماً سارے مسلمانوں اور خصوصاً سی پی ایس کے ساتھیوں کے لیے گویا ایک ریمائنڈر کال ہے۔ کتاب: داعیِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 124۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.