Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Ajib Shakhs tha Hairan kargaya sabko

Urdu · 7 min

عجیب شخص تھا، حیران کر گیا سب کو۔ ڈاکٹر محمد وقار عالم، سی پی ایس، نیویارک، امریکہ۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں، جبکہ سائنس اور تمدن اپنے عروج پر ہے، روایتی مدرسے کا ایک طالب علم صدیوں پیچھے جا کر خدا کو تلاش کرتا ہے، اور موجودہ صدی کے طالب علم کے سامنے خدا کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ انکار کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ اس طالب علم کا نام مولانا وحید الدین خان ہے۔

آج خدا کا متلاشی صدیوں پیچھے جا کر— آج خدا کا متلاشی صدیوں پیچھے جا کر اگر خدا کو پا بھی لے تو اسے اپنے دور میں فٹ نہیں کر پاتا۔ دو یا تین جوڑے کپڑے، ایک امامہ، اور ایک جوتا پہن کر دنیا بھر کا سفر کیا۔ فرش پر سونے والا، اور سادہ کھانا کھانے والا، خلیج کے ایک شاہ کا مہمان ہونے پر شاہی بستر، کھانا اور آسائشیں برداشت نہ کر سکا، اور ان نعمتوں کو چھوڑ کر گھر واپس چلا گیا۔ یہ رویہ ایک عام انسان کا نہیں ہو سکتا، یہ وہی انسان کرے گا جسے اپنا خدا مل چکا ہو۔

نیویارک میں میرے گھر میں قیام کے دوران سختی سے ہدایت کی تھی کہ جو عام دنوں میں پکتا ہے وہی پکے گا۔ یہ فقیر اور اللہ کا دوست اپنے پیچھے علم کا ایک ایسا خزانہ چھوڑ گیا جو ہر متلاشی دین اور خدا کی پیاس بجھاتا رہے گا۔ قدیم علم اور جدید فکر کو ایک ایسے سنگم پر لا کھڑا کیا کہ آج کے طالب علم کو ہر سوال کا جواب مل گیا۔ مولانا محترم بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں جدید علم سے مسلح ہو کر داخل ہوئے تھے، جس کی گواہ ان کی کتابیں ہیں۔

آپ نے جدید علوم کو کھنگال ڈالا، اور بجائے منفی خیالات کے، آپ نے اپنے کھلے ذہن سے اسے دین کے قریب پایا، اور دنیا کو سمجھایا کہ سائنس خدا کو تلاش کرنے اور اسے پانے میں مدد دیتی ہے۔ درست سوچ اور سچ کو سچ سمجھ کر اس پر ڈٹ جانے والے اس شخص نے زمانے سے سمجھوتے کے بجائے اسے درست سمت میں چلنے کا طریقہ اور حوصلہ دیا۔ چاہے وہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا معاملہ ہو یا بابری مسجد کا مسئلہ، مولانا نہ صرف اپنے اصولی موقف پر کھڑے رہے بلکہ عوام کے لیے انتہائی مدلل انداز میں اپنے موقف کو تحریری شکل میں پیش بھی کیا۔ مولانا محترم کے بہت سے عظیم کاموں میں ایک بڑا کام یہ ہے کہ انہوں نے غیر مسلم معاشرے میں رہنے والے دعوتی اذہان کو ایک مدلل اور درست سمت فراہم کی۔

مولانا کا ایک منفرد انداز تھا کہ وہ عام واقعات سے سبق حاصل کرتے اور دوسروں تک اس طرح پہنچاتے کہ بڑے سے بڑے مسئلے کا حل آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے۔ آپ ایک صفحاتی رائٹر تھے جو ہر مسئلے کو ایک صفحے پر آسانی سے بیان کرتے، اور اسی میں اس کا حل بھی موجود ہوتا تھا۔ ماہانہ الرسالہ اس کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ آپ تقویٰ، پرہیزگاری، اور سادگی کا مجموعہ تھے۔

دینی علم کی دنیا میں آپ کی تحریریں نہ صرف جامع، مدلل، اور مکمل ہوتی تھیں بلکہ اردو ادب میں بھی اپنا ایک مقام رکھتی ہیں۔ آپ نے خدا، انسان، اور آخرت کے موضوع پر اتنا کچھ تحریر کیا ہے کہ آنے والی کئی صدیوں تک لوگ اس سے استفادہ کرتے رہیں گے۔ مولانا محترم نے انتہائی آسان زبان اور تذکیری انداز میں قرآن کی تفسیر لکھی، جسے پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ قرآن ہم سے ہی مخاطب ہے۔ ان گنت کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ لاکھوں کی تعداد میں مضامین جو ماہانہ الرسالے کی زینت بنے، وہ آنے والے برسوں میں اس وقت کی تحریر لگیں گے اور لوگ ان سے مستفید ہوں گے۔

جدید علوم اور مذہبی انتشار کے سنگم پر کھڑی اس دنیا کو مولانا نے اپنی تحریروں سے ایک درست سمت دی۔ آپ کی کتابیں اسلام اور عصر حاضر، عقلیات اسلام، مذہب اور جدید چیلنج، مذہب اور سائنس، اظہار دین، اور کتاب معرفت اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ بے شمار بین الاقوامی ایوارڈز اور دنیاوی پذیرائی کے باوجود مولانا محترم عاجزی اور سادگی کا نمونہ تھے۔ آپ کی ایک عجیب خوبی یہ تھی کہ روزانہ پیش آنے والے سبق آموز واقعے کو ڈائری میں لکھتے تھے، چاہے اپنے گھر میں ہوں یا سفر میں۔

ایک مرتبہ آپ نے مجھ سے پوچھا: "وقار صاحب، آپ کبھی مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھتے؟ " میں نے کہا کہ مولانا، مجھے سارے سوالوں کے جواب مل گئے تھے، اسی لیے میں آپ کے ساتھ شامل ہوا ہوں۔ تو آپ مسکرا دیے۔ آپ کی تمام زندگی خدا رخی زندگی تھی۔

صدی کے اس عظیم مفکر، رہنما، داعی، اور مجدد کی کمی محسوس ہوگی، لیکن آپ اپنی تحریروں کی شکل میں ہمیشہ ہمارے درمیان زندہ رہیں گے۔ مولانا اور میرے ساتھ صرف 10 سالوں پر محیط ہیں۔ مولانا اور میرا ساتھ صرف 10 سالوں پر محیط ہے، لیکن اس سفر کے دوران وہ چند لوگ جن کی تربیت بچپن سے ہی مولانا کی تحریروں نے کی، ان میں ایک قابل ذکر نام شبانہ انصاری کا ہے جنہوں نے میرے کہنے پر مولانا کی تحریروں کو اپنی خوبصورت آواز میں ریکارڈ کیا، جو آج مغرب میں اردو سمجھنے والے افراد کے لیے ایک بیش بہا خزانہ ہے۔ اگر زندگی نے ساتھ دیا تو ان شاء اللہ مولانا کی تحریروں کو آنے والی نسلوں کے لیے صوتی کتب اور ڈیجیٹل کتب کی شکل میں محفوظ کرنے کی کوشش کروں گا۔

اس وقت تک کی تمام کاوشیں یوٹیوب پر، سی پی ایس یو ایس اے کے چینل پر، مولانا کی تقریروں، اور ایمازون پر ای بک کی صورت میں موجود ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ کتاب "داعی اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 121۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.