نئی دہلی، مشہور اسلامی اسکالر اور عالمِ اسلام کی معروف شخصیت، اور الرسالہ کے مدیر مولانا وحید الدین خان کا 21 اپریل کو دہلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر تقریباً 96 سال تھی۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ مولانا وحید الدین خان کا مولانا وحید الدین خان کافی عرصے سے بیمار چل رہے تھے، کچھ دنوں قبل انہیں دہلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
ان کی پیدائش 1 جنوری 1925 کو اعظم گڑھ کے دور افتادہ گاؤں بڈھیریا میں ہوئی تھی۔ عربی، انگریزی، اردو اور دیگر زبانوں پر انہیں عبور حاصل تھا۔ انہوں نے اسلام پر کتابیں لکھنے کے علاوہ تفسیر بھی لکھی اور درجنوں اصلاحی کتابیں تصنیف کیں۔ مولانا کے انتقال سے عالمِ اسلام اور دنیا ایک بہترین اسکالر سے محروم ہو گئی ہے۔
مولانا نے الرسالہ نکال کر منفی سوچ سے مثبت سوچ کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ ان کی حیثیت ایک مصلح کی تھی، وہ ہمیشہ مثبت رخ پر چلنے کا مشورہ دیتے تھے۔ وہ کچھ عرصے تک جمعیت علمائے ہند کے ہفت روزہ اخبار "الجمعیہ" سے بھی بحیثیت ایڈیٹر وابستہ رہے۔ روزنامہ "راষ্ট্রीय سہارا" دہلی، 22 اپریل 2021۔
ماہنامہ "اردو دنیا" جون 2021، صفحہ 86۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 123۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.