Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan - Aftab-e-Ilm-o-Irfan

Urdu · 7 min

مولانا وحید الدین خاں، آفتابِ علم و عرفاں، افضال ریحان۔ آفتابِ علم و عرفاں حضرت مولانا وحید الدین خاں ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد دہلی سے اس ملکِ عدم تشریف لے گئے ہیں جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں لوٹ سکتا۔ 21 اپریل 2021، آٹھ رمضان المبارک، بروز بدھ، انڈین ٹائم کے مطابق رات پونے 10 بجے، کورونا کے باعث حضرت مولانا اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ مولانا سے بڑی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں، لیکن یہ حسرت ہی رہی کہ دو چار ہفتے امن و سلامتی کے روحانی مرکز میں مولانا کے ساتھ گزارے جائیں۔

کئی مرتبہ پروگرام بنا پھر رہ گیا۔ 2006 میں سیف مارٹ ڈیلیگیشن کے ساتھ دہلی اور حیدرآباد دکن جانے کا موقع ملا تو دیگر سرگرمیوں کو ترک کر کے مولانا سے ملاقات کی تیاری کی، کیونکہ ناچیز کی ہند یاترا کا اصل مدعا ہی مولانا سے ملاقات تھی اور انہیں اس سلسلے میں آگاہ کر رکھا تھا۔ جس وقت میں مولانا کی رہائش گاہ پر پہنچا، وہ آرام کے لیے بالائی منزل پر تشریف لے جا چکے تھے۔ اطلاع ہونے پر وہیں بلا لیا۔

مولانا سے یہ ملاقات زندگی کا بہترین اثاثہ ہے۔ یہ انمول لمحات کبھی بھول نہیں سکتا۔ ان سے ملاقات کے دوران جو باتیں ہوئیں، وہ اگرچہ روایتی مولویانہ اسلوب و موقف سے ہٹ کر تھیں، مگر رازِ حیات ہی نہیں، حاصلِ زندگی کہی جا سکتی ہیں۔ میرے لیے حضرت مولانا سر سید ثانی کی حیثیت رکھتے تھے۔

2004 میں درویش کی پہلی کتاب، "اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب: حریف یا حلیف" شائع ہوئی۔ اس کا دیباچہ لکھوانے کے لیے مسودہ حضرت مولانا کے پاس دہلی بھیجا تھا۔ فون پر بات ہوئی تو بولے: "میں نے تمام مسودہ حرف بہ حرف پڑھا ہے۔ اس پر دیباچے کی کتنی گنجائش ہے؟

" عرض کی: "مولانا، ڈھیر ساری گنجائش ہے۔ آپ وضاحت سے لکھیے۔ " تب مولانا نے جو کچھ لکھا، وہ ان کی یادگار تحریروں میں سے ایک ہے۔ "دیکھیے رسالہ، دسمبر 2004، بعنوان دیباچہ، صفحہ 16 تا 27۔

" مولانا کی تحریروں پر بات کی جائے تو وہ ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ ان کی خالص الہیات کو ایک جانب رکھ دیا جائے، پھر بھی شعور کو جلا بخشنے والے افکار منفرد ہیں، جیسے کوئی مولانا نہیں، ماہرِ نفسیات بول رہا ہو۔ بلاشبہ بہت سے لوگ ان سے اس بنا پر محبت کرتے ہوں گے کہ انہوں نے قرآنی تفسیر، احادیث اور بالخصوص سیرت پر بھرپور کام کیا۔ لیکن ساتھ ہی ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہوگی جو ان کی اس ساری کاوش کو غصے سے دیکھتے ہوں گے کہ انہوں نے سوچوں کے نئے دریچے کیوں وا کیے۔

اس طرح فقہی مباحث میں انہوں نے جس خوبصورتی سے عصری و زمانی تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے، یہ انہی کا شعوری مرتبہ، حوصلہ و جگر تھا۔ ہندوستان میں یکبارگی تین طلاقوں کے مسئلے پر لوک سبھا سے لے کر قانونی و عوامی کٹہروں تک جو بھی مباحثے ہوئے، مولانا نے کمالِ فراست اور خوبصورتی سے روایت کو پورے استدلال کے ساتھ نہ صرف راہِ اعتدال دکھائی بلکہ حقوقِ نسواں کی پاسداری بھی کی۔ مذہبیت کو قائم و دائم رکھتے ہوئے آپ کیسے لبرل، سیکولر اور سوسائٹی کے لیے کارآمد انسان بن سکتے ہیں؟ اس رمز کو جس خوبصورتی سے مولانا صاحب نے کھولا ہے، فی زمانہ شاید ہی کوئی دوسرا اس نوع کا کارنامہ سرانجام دے سکے۔

مولانا نے زندگی بھر منافرت و اجنبیت کی دیواریں توڑیں اور محبت و اپنائیت کے پل تعمیر کیے۔ انہوں نے ہندو مسلم کے درمیان کھودی گئی گہری کھائی کو پاٹنے کی کاوش فرمائی۔ مغرب اور عالمِ اسلام میں موجود فکری دوئی کو مٹانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ وہ زندگی بھر مدر ٹریسا، رسل اور ٹیگور کی مانند محبتیں بانٹتے رہے۔

درویش نے ایک مرتبہ آرٹیکل لکھا تھا: "دورِ حاضر کی پانچ بڑی شخصیات"۔ مولانا ان میں سے ایک تھے۔ مسلمانوں میں ان کا کام اور مقامِ سرسید سید علی تنطاوی اور ڈاکٹر طاہ حسین جیسے بڑے مفکروں سے کم نہیں تھا۔ آج وہ گئے ہیں، اور یقیناً انہوں نے جانا ہی تھا تو وہ قلبی تمانیت سے گئے ہیں، اور اس خول کی مطابقت میں گئے ہیں کہ "میرے سامنے کسی کی برائی نہ کرو تاکہ میں دنیا سے جاؤں تو میرا دل کسی سے کھٹا نہ ہو۔

" ان کی آخری دریافت قابلِ ملاحظہ ہے۔ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرہ برابر بھی کوئی منفی خیال نہ ہو۔ اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں کہ انسان دنیا سے اس طرح جائے کہ اس کا ذہن پوری طرح مثبت ہو۔ اس میں سب سے بڑی اچھائی مثبت فکر ہے، اور سب سے بڑی برائی منفی سوچ ہے۔

یہی میری آخری دریافت ہے۔ میں مولانا کی انسان نواز فکر و سوچ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ بشکریہ، روزنامہ جنگ۔ کتاب، داعیِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 119۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.