Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan

Urdu · 6 min

مولانا وحید الدین خاں امجد اسلام امجد پاکستان، یہ بات تو ہم سب نے بہت دفعہ پڑھی اور سنی ہے کہ ایک عالم کی موت پورے عالم کی موت کی تمثیل بن جاتی ہے۔ لیکن عملی طور پر اس احساس کی شدت کبھی کبھار ہی، کبھی کبھار ہی، اس تاثر کو وہ رنگ دے پاتی ہے کہ آپ کو لفظ اور معانی ایک دوسرے کی ایسی بھرپور گواہی دیتے نظر آئیں جن سے اس دعوے کی مکمل تائید ہوتی ہو۔ ورنہ عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ مرحوم کی پہلی برسی سے پہلے پہلے بیشتر لوگ جانے والوں کے نام تک بھول جاتے ہیں۔ البتہ جہاں تک حال ہی میں سفرِ آخرت اختیار کرنے والے مولانا وحید الدین خان صاحب کا تعلق، تو میرے خیال میں ہر اہلِ نظر اس بات کی کھل کر تائید کرے گا کہ مولانا اس وقت اسلامی دنیا، بالخصوص برصغیر کے مسلمان علماء میں سب سے معتبر اور توانا شخصیت تھے۔

اس عہد کے ایک اور جید اور بڑے عالم، جاوید احمد غامدی کا ان کے بارے میں ایک بیان آج ہی فیس بک پر نظر سے گزرا، جس میں انہوں نے مولانا مرحوم کے علمی مقام اور مذہبی خدمات پر جس محبت اور فراخ دلی سے پرتوسیف روشنی ڈالی، وہ سننے کے قابل تھی۔ بلاشبہ مولانا مودودی کے بعد اپنی تصانیف کی تعداد، موضوعات اور معیار کے حوالے سے کوئی دوسرا عالمِ دین ہمیں اس رتبے پر نظر نہیں آتا جس پر مولانا وحید الدین فائز تھے۔ جدید دور میں اسلام اور قرآن کی تفسیر اور تفہیم، اور اس کے خلاف ہونے والی بین الاقوامی سازشوں کا جس مہارت، خوبی و وضاحت سے مولانا نے جواب دیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یوٹیوب کی معرفت، ان کے بہت سے وعظ، لیکچر اور گفتگوئیں سننے کا موقع ملا ہے۔

لیکن آج غامدی صاحب کے احساس دلانے پر خیال آیا ہے کہ واقعی رب کریم نے ان کو ایک ایسی منفرد، میٹھی، پراثر اور دل کو موہ لینے والی آواز عطا کی تھی کہ ان کی آواز اپنے مطالب و معانی سے ہٹ کر بھی اپنے اندر ایک عجیب کشش رکھتی تھی کہ بہت کم مردانہ آوازیں، اور وہ بھی تحت اللفظ میں، اتنی خوبصورت ہوتی ہیں کہ بقول شاعر "وہ کہیں اور سنا کرے کوئی"۔ ابھی ابھی میں نے اپنی یادداشت تازہ کرنے اور مولانا کی کچھ تصانیف کے بارے میں معلومات مرتب کرنے کی خاطر ان کی کچھ ریکارڈز کو پھر سے سننے کی کوشش کر رہا تھا، یقین کیجیے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آدمی ان کی علمیت کی داد دے یا اندازِ بیان کی، یا دل میں اترتی ہوئی اس آواز کی جس کے ہر طرف دانش ہی دانش مند کش ہو رہی ہوتی ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ بھارت میں رہنے رہتے ہوئے عوام و خواص اور پیر و جوان کے ہر طبقے سے بیک وقت رابطے کی ضرورت ہو، لیکن مذہب، اخلاق، انسانی اقدار اور بعض پیچیدہ مسائل پر گفتگو کے دوران وہ عام بول چال میں انگریزی کے الفاظ ایسی کثرت، لیکن ایسی خوبصورتی اور مہارت سے استعمال کرتے ہیں جو بظاہر ان کے مولویانہ تشخص اور حلیے سے بالکل میل نہیں کھاتے۔ مگر ان کے منہ سے اس قدر اچھے لگتے ہیں کہ ابلاغ پر ان کی گرفت اور مہارت کو اسلام اور مہارت کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے کہ کس طرح آرٹ آف تھنکنگ پر بات کرتے ہوئے وہ قرآن مجید، قرآن مجید، اسلامی تعلیمات، حیات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات کے ساتھ برٹرینڈ رسل گاندھی جی، سچن ٹنڈولکر اور بی جے پی کے فلسفی رہنما کی مثالوں کو ایک دوسرے سے اس طرح آمیز کرتے چلے جاتے ہیں کہ مذاہب اور نظریات کا فرق، اور زبان و مکان کے الجھے ہوئے مسائل، دو اور دو چار کی طرح سمجھ میں آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

1976 عیسوی میں انہوں نے الرسالے میں ہر طرح کے مسائل سے متعلق جنا عالمانہ مباحث اور مضامین کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا، صرف ان کے انتخاب پر مشتمل 200 کتابیں زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ سلمان رشدی کا معاملہ ہو یا بابری مسجد کا، صلح حدیبیہ کا پس منظر ہو یا سورۃ المدثر کی تفسیر، مخلوق کے علم کی محدودیت کی بات ہو یا خالقِ کائنات کی قدرت کی لامحدودیت، عام آدمی کے ٹوٹے پھوٹے سوال ہوں یا کسی ماہرِ فن کے ٹھوس استدلال، ہر جگہ اور ہر موقع پر مولانا کا میٹھا، دھیما اور عالمانہ ہوتے ہوئے عوامی لہجہ سیدھا آپ کے دل میں اترتا چلا جاتا ہے۔ حکومتِ ہند نے انہیں پدما وی بھوشن کا اعزاز بھی دیا، لیکن ان کا اصل اعزاز دین سے متعلق فکر کو واضح کرنا ہے، سلیقے اور مہارت سے اپنی بات کو لوگوں تک پہنچانا ہے، جس کے لیے بلاشبہ وہ ہمیشہ علمائے حق کی صفِ اول میں شمار کیے جائیں گے۔ مضمون نگار اردو دنیا کے مشہور شاعر اور ڈرامہ نگار ہیں، بشکریہ روزنامہ ایکسپریس کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 117۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.