کہاں ڈھونڈے گا زمانہ اب ایسا ساقی جو رندوں کو میخ کا پرستار کرتا تھا؟ کتنے ہی علم کے متلاشی اس کے در پر صدا لگاتے تھے، وہ مراد کو انجام کرتا تھا۔ وہ شخص اس دورِ خودغرضی میں بھی، وہ شخص اس دورِ خودغرضی میں بھی، انسان کو انسان کا حق شناس کرتا تھا۔ وہ دیتا تھا انسان کو اخلاق کا شور، پھر فکرِ علم کو اخلاق پر استوار کرتا تھا۔
وہ پیامبر تھا اس رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا، وہ انسان کو خدا کا مرید کرتا تھا۔ وحشت و دہشت کی بے مراد وادی میں، جگنو بنتا تھا، شعورِ علم بیدار کرتا تھا۔ وہ الحاد کی مبہوت زدہ وادیوں میں، توحید و آگہی کی بستیاں آباد کرتا تھا۔ وہ دیتا تھا مسلم کو دینِ حق کا شعور، مشکِ قرآں سے عقیدوں کو سیراب کرتا تھا۔
زید، اب ڈھونڈ کوئی چراغ زیبائی لے کر، وہ نہ ملے جو امن و علم کی بات کرتا تھا۔ زید ابنِ ریاض، پاکستان۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 116۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.