علمی روایت کا بڑا آدمی، اوریا مقبول جان، پاکستان۔ بھارت کے شہر اعظم گڑھ میں 1 جنوری 1925 عیسوی کو پیدا ہونے والا آفتابِ علم، مولانا وحید الدین خان، 21 اپریل 2021 عیسوی کو دِلّی میں ڈوب گیا، اور میں باوجود ارادہ، وسائل اور نیتِ شوق، بوریا نشین علما جیسے ملبوس زیب تن کیے، اور علم کی چمک سے روشن آنکھوں والے شخص کی براہِ راست ایک جھلک دیکھنے سے بھی محروم رہا۔ آج سے تقریباً 40 سال قبل جب مولانا وحید الدین خان کی کتاب "رازِ حیات" میرے ہاتھ آئی، تو اس کا سحر ایسا تھا جیسے کوئی گھٹا ایک سمت سے چڑھے اور پھر پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لے، اور اس کے اندر کھڑے ہوئے ایک فرحتِ پایاں کا احساس آپ کو سرمستی کے عالم میں لے جائے۔ میں سوچتا تھا کہ کتاب کا یہ حال ہے تو صاحبِ کتاب کی صحبت کا عالم کیا ہوگا۔
میں اس سے پہلے ایک انتہائی حسین تجربے سے گزر چکا تھا: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد، جب میں اچھرہ میں ان کی عصر کی محفل میں پہلی دفعہ شریک ہوا تو مجھے یوں لگا جیسے میں ایک دم ان کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوں۔ چہرے سے نظریں اٹھانے کو جی نہیں چاہتا تھا، اور گفتگو کا سحر ایسا تھا جس کے ٹوٹنے کا خوف ہی مجھے مزید ان کی جانب متوجہ کرتا چلا جا رہا تھا۔ مولانا وحید الدین خان کی ویڈیو گفتگو جب میں نے سننا شروع کی تو مجھے اپنی مجبوریوں کا احساس شدید ہوتا چلا گیا۔ میں چاہتا تھا یہ شخص اس ٹیلی ویژن سیٹ سے باہر نکل آئے، میرے سامنے کرسی پر آ کر بیٹھ جائے، اور میں زمین پر بیٹھ کر مبہوت ہو کر اس کی گفتگو سنوں، اس سے سوال کروں، میرے ساتھ مشتاقانِ علم کا ایک ہجوم ہو جو اسی طرح اسے سن رہا ہو، سوال کر رہا ہو۔
آج سوچتا ہوں کہ میں اگر اس کے شہر میں موجود ہوتا تو میری حالت اس طالبِ علم کی سی ہوتی جو یوں تو حسن بصری کے مدرسے کا خوش عچی ہوتا، لیکن چپ کر وقت نکالتا، اور معتزلے کے امام واصل ابن عطا کی باتیں سننے چلا جاتا۔ علی گڑھ میں ڈگری کے حصول کے لیے داخل ہوتا، لیکن شام میں مولانا محمود الحسن کے دیوبند میں گزارتا، اور علم کی پیاس بجھاتا۔ مولانا وحید الدین خان سے اتنی بندشوں کے باوجود بھی جو علم مجھے ملا ہے، وہ اتنا بڑا سرمایہ ہے کہ میں اس کا مکمل احاطہ تک نہیں کر پاتا۔ بے شمار دفعہ ایسا ہوا کہ جدید دور کے وہ سوالات جو سائنس اور الحاد نے اسلام کے متعلق اٹھائے ہیں، ذہن سے ٹکرائے تو ایک ہی نام سامنے آیا، اور جستجو اس حد تک لے گئی: مولانا وحید الدین۔
کیا خوب عنوان ہے ان کی ایک کتاب کا، "اسلام: دورِ جدید کا خالق"۔ کاش ہم اسلام کے دورِ جدید کو دریافت کر سکتے۔ بشکریہ، روزنامہ 92۔ کتاب: "داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان"، صفحہ نمبر 115۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.