Maulana Wahiduddin Khan
17 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan

Urdu · 17 min

مولانا وحید الدین خاں، ڈاکٹر ذاکر فاض، سینئر کے اے ایس افسر راجوری۔ وحید الدین خاں، 1925 تا 2021۔ عالم اسلام کے معروف مفکر، مصنف، مقرر، مفکر، عالم دین، داعی، اور ماہنامہ الرسالہ کے مدیر تھے۔ خدا کے وجود کو منطقی انداز میں ثابت کرنے کے قائل تھے۔

ان کی بیشتر کتابوں میں مذہب کا مقدمہ عقلی بنیادوں پر بیان کیا گیا ہے۔ ان کے مضامین پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے مغربی سائنس دانوں اور فلسفیوں کی کتابیں باریک بینی سے پرکھی تھیں۔ انہیں اچھی طرح علم تھا کہ 21ویں صدی کا ذہن پرانی اور دقیانوسی باتوں سے مطمئن نہیں ہوگا۔ اسی لیے لکھتے وقت انہوں نے جدید سائنسی معلومات کی مدد سے خدا کے وجود کے حق میں دلائل پیش کیے۔

اسی وجہ سے مولانا کی شخصیت کا یہ پہلو منفرد ہے، اور کوئی عالم دین اس انداز میں دین اور دنیا کی تعبیر پیش نہیں کر سکا۔ خاں صاحب پانچ زبانیں جانتے تھے۔ خان صاحب پانچ زبانیں جانتے تھے۔ ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی کرتے تھے۔

دانشور طبقے میں امن پسند مانے جاتے رہے ہیں۔ اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں، انہیں دور کرنا ان کی تحریر کا مقصد رہا ہے۔ منطق پہ انہیں عبور حاصل تھا۔ ان کی کتاب "مذہب اور سائنس" کا پہلا باب "طریق استدلال کا مسئلہ" اس ضمن میں ایک لاجواب تحریر ہے، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی چیز کو کیسے مختلف طریقوں سے ثابت کیا جا سکتا ہے، اور بعض اوقات ہم ایسی چیزوں کا وجود اور بعض اوقات ہم ایسی چیزوں کا وجود بھی ثابت کر سکتے ہیں جن کے بارے میں براہ راست ثبوت موجود نہیں ہوتا۔

وہ ایک بزرگ رہنما کی طرح انسانوں کو جینے کا ڈھنگ سکھاتے نظر آتے ہیں۔ ان کی کتابیں "راز حیات"، "کتاب زندگی"، "اسباق تاریخ" وغیرہ نہایت ہی اہم کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کا انداز تحریر بے حد دلچسپ ہے۔ دنیا جہان کے واقعات مولانا نے ان میں جمع کر دیے ہیں۔

خان صاحب لکھتے ہیں: "الرسالہ" یعنی ماہنامہ الرسالہ، 1967 عیسوی کے اجزاء۔ "الرسالہ" ماہنامہ الرسالہ، 1967 عیسوی کے اجرا کے بعد سے جو کام میں کر رہا ہوں، اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دے رہا ہوں کہ وہ منفی سوچ سے اوپر اٹھیں اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کریں۔ مولانا موصوف کے علمی اور دینی خدمات کا دائرہ کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ وہ خاصی تعداد میں ایسی مستند کتابیں تحریر فرما چکے ہیں جن کا حوالہ سند کے طور پر دیا جاتا ہے۔

فکری اور دعوتی موضوعات پر مختلف زبانوں میں مولانا صاحب کی تصنیفات موجود ہیں۔ ان میں چند اہم اور مشہور کتابیں یہ ہیں: "تعبیر کی غلطی"، "مذہب اور جدید چیلنج"، "الاسلام"، "مذہب اور سائنس"، "پیغمبر انقلاب"، "احیاء اسلام"، "عقلیت اسلام"، "قرآن کا مطلوب انسان"، "دین کی سیاسی تعبیر"، "سوشلزم اور اسلام"، "ظہور اسلام"، "اسلامی زندگی"، "اسلام اور عصر حاضر"، "تفسیر تذکیر القرآن"، "عظمت قرآن"، "حقیقت حج"، "اللہ اکبر"، "زلزلہ قیامت"، "خاتون اسلام"، "راز حیات"، "تجدید دین"، "اسلام دور جدید کا خالق"، "دین کامل"، "راہ عمل"، "ہندوستانی مسلمان"، "کتاب زندگی"، "شتم رسول" کا مسئلہ، "دعوت اسلام"، "دعوت حق"، "سفرنامہ اسپین و فلسطین"، "فکر اسلام"، "مطالعہ سیرت"، "مطالعہ قرآن"، "فکر اسلامی"، "مطالعہ سیرت"، "مطالعہ قرآن"، "دین و شریعت"، "مسائل اجتہاد"، "مطالعہ حدیث"، "کشمیر میں امن"، "عورت"، "معمار انسانیت"، "امن عالم"، "دعوت الی اللہ"، "حکمت اسلام"، "کتاب معرفت"، "اسلام اور خدمت خلق"، "اظہار دین" وغیرہ۔ مولانا کی کچھ تحریریں اور نظریات ایسے ہیں جن کی وجہ سے اہل علم ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ بہت سی باتوں میں جمہور علمائے اسلام بہت سی باتوں میں جمہور علمائے اسلام سے الگ رائے رکھتے ہیں، جیسے "اسوہ کاملہ"، "جہاد"، "دجال"، "مہدی"، "فضیلت انبیاء" کا مفہوم، "ظلم کو برداشت کرنا"، اور "جوابی کارروائی سے گریز" کی تلقین، تقلید شخصی وغیرہ۔

مولانا کی زندگی کا ایک پہلو سیاسی مدبر کا بھی تھا۔ تقسیم ہند کے وہ خلاف تھے۔ اقبال اور جنہ کے نظریات کے بھی ناقد تھے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی غربت کا ذمہ دار خود انہی کو سمجھتے تھے۔

مولانا نے "تعبیر کی غلطی" میں مولانا مودودی کے "سیاسی اسلام" کے مقدمے کو بہت مدلل اور علمی انداز میں رد کیا ہے۔ جاوید احمد غامدی جیسے علمائے کرام نے مولانا کے اس کارنامے کی تحسین کی ہے اور اسے اسلامی روایت میں ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔ اس طرح فقہی مباحث میں انہوں نے جس خوبصورتی سے عصری و زمانی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا ہے، یہ انہی کا شعوری مرتبہ، حوصلہ و جگر تھا۔ ہندوستان میں یکبارگی تین طلاقوں کے مسئلے پر لوک سبا سے لے کر قانونی و عوامی کٹہروں تک جو بھی مباحثے ہوئے، مولانا نے کمال فراست اور خوبصورتی سے روایت کو پورے استدلال کے ساتھ نہ صرف راہ اعتدال دکھائی بلکہ حقوق نسواں کی پاسداری بھی کی۔

مولانا صاحب کی زندگی کا اصل نشان اسلام کے پرامن دعوتی پیغام کی اشاعت رہا۔ "دعوت الی اللہ" کا مطلب ہے اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد اب یہ ذمہ داری امت محمدی پر عائد ہوتی ہے۔

مولانا وحید الدین خاں خود لکھتے ہیں: "مسلمانوں کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ یہی عمل اس کی دنیا و آخرت کی فلاح کا ضامن ہے۔ " اسی عمل کو انجام دینے سے وہ اس کا مستحق قرار پاتا ہے کہ خدا کے یہاں امت محمدی کی حیثیت سے اٹھایا جائے۔ اور یہی وہ عمل ہے جو دنیا میں اس کی حفاظت و کامیابی کو یقینی بناتا ہے۔

اس کام کو چھوڑنے کے بعد مسلمان اللہ کی نظر میں اسی طرح بے حقیقت ہو جائیں گے جس طرح یہود اپنی داعیانہ حیثیت کو چھوڑنے کے بعد اللہ کی نظر میں بے حقیقت ہو گئے۔ ماہنامہ الرسالہ، جولائی 1997، صفحہ 53۔ ملکی و غیر ملکی سطح پر اسلامی دعوت کو عام کرنے کے لیے اور دعوت الی اللہ کے کام کو منظم طور پر کرنے کے لیے مولانا نے 1976 عیسوی میں نئی دہلی میں اسلامی مرکز قائم کیا۔ اور اسلامی مرکز کے ترجمان کے طور پر انہوں نے اکتوبر 1976 عیسوی میں ماہنامہ الرسالہ جاری کیا۔

مولانا محترم نے غیر مسلموں کے تعلیم یافتہ طبقے تک اسلام کے پرامن دعوتی پیغام کو پہنچانے کے لیے ایک عظیم الشان دعوتی ادارہ "سی پی ایس انٹرنیشنل" نئی دہلی میں جنوری 2010 عیسوی میں قائم کیا۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، اس کا مقصد امن اور روحانیت کو فروغ دینا ہے۔ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔ اس کا اصل نشانہ فکری انقلاب لانا اور انسان کو حقیقی انسان بنانا ہے۔

فکری اور دعوتی خدمات کے اعتراف میں مولانا کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد متعدد ایوارڈ سے نوازا گیا۔ عام طور پر ان کو "امباسڈر آف پیس" کہا جاتا ہے۔ "ڈیمورگس" بین الاقوامی ایوارڈ، سابق "ڈیمورگس" بین الاقوامی ایوارڈ، "ڈیمورگس" بین الاقوامی ایوارڈ، سابق سوویت یونین کے صدر گوربا چیف کے ہاتھوں دیا گیا۔ "پدم بھوشن" قومی یکجہتی اعزاز، "کمیونل ہارمونی" اعزاز، "قومی اتحاد" اعزاز، "ارونا اصف علی" بھائی چارگی ایوارڈ۔

اس کے علاوہ بھی وہ کئی انٹرنیشنل ایوارڈز سے سرفراز ہو چکے تھے۔ رواں برس 2021 عیسوی میں حکومت ہند کی جانب سے امن و آشتی کا پیغام اور روحانیت کو فروغ دینے کے لیے "پدم پدم وی بھوشن" ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسلام کے پرامن دعوتی پیغام کو عام کرنے کے لیے مولانا نے تقریر و تحریر کے علاوہ ہند و بیرون ہند کے متعدد اسفار کیے، جس کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے پاکستان، لیبیا، لندن، سعودی عرب، مالدیپ، باربیڈوز، امریکہ، عرب امارات، ملیشیا، مراکو، بماکو، رومانیہ، سوئٹزرلینڈ، افغانستان، یمن، اردن، سنگال، روم، مالٹا، قاہرہ، کولمبو، اٹلی، اسپین، فلسطین، فرانس، عمان، بنگلہ دیش، سیول، قبرص، اسرائیل، پولینڈ، قطر اور ترکی وغیرہ کا سفر کیا۔

اور ان اسفار کے انہوں نے سفرنامے تحریر کیے جو ماہنامہ رسالے کے صفحات میں شائع ہوئے۔ مولانا اپنے نظریات کی بنیاد پر کئی بار تنازعات کا بھی شکار رہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کو علمی دلائل کے ساتھ قائل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پوری زندگی خاموشی کے ساتھ اپنے قلم کے سفر کو جاری رکھا اور دین اسلام کے سچے داعی بنے رہے۔

وہ ایک اعتدال پسند، متوازن اور تعمیرانہ رخ اختیار کرتے تھے۔ اپنی سادگی اور بے باکی کی وجہ سے مولانا ہر طبقے میں مقبول رہے ہیں۔ مولانا اپنے بارے میں لکھتے ہیں: "میری پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری ہے۔ شاید فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔

مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتا ہے۔ میری تفکیری زندگی کا ایک حصہ ہے جو رسالہ یا کتب میں شائع ہوا ہے۔ اس کا دوسرا نسبتا غیر منظم ڈائریوں کے صفحات پر ہے۔ " ماہنامہ الرسالہ۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ان کی وفات پر ٹویٹر پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا: "انہیں علم ال انہیں علم الہیات اور روحانیت کے معاملات پر بصیرت سے بھرپور علم کے لیے یاد کیا جائے گا۔ مولانا سماج کی خدمت اور معاشرے کو با اختیار بنانے کے قائل تھے۔ ان کے کنبے اور انگنت انگنت خیر خواہوں سے تعزیت۔ " ٹویٹر ڈاٹ کام ابلک نریندر مودی 22 اپریل 2021 اسلامیات اور مغربیات دونوں قسم کے علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا موصوف اس نتیجے پر پہنچے کہ اس دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے اور عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔

اور پھر وہ اس مہم میں لگ گئے۔ مولانا موصوف کے مطالعے کا خاص موضوع اسلام اور دور جدید ہے۔ مولانا مرحوم نے اپنی پوری زندگی اسلام کی ترویج و اشاعت، تبلیغ و تفہیم اور اس کی وضاحت میں صرف کر دی۔ وہ پائے کے عالم دین، مفکر، ادیب، انشا پرداز تھے اور مختلف زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔

مسلمانوں میں ان کا کام اور مقام سرسید سید علی تنطاوی اور ڈاکٹر طاہ حسین جیسے بڑے مفکروں سے کم نہیں تھا۔ عالم اسلام کے معروف مفکر، صحابی، ادیب، داعی اور سینکڑوں کتابوں کے مصنف مولانا وحید الدین خاں اب اس دنیا سے چل بسے۔ ان کی آخری دریافت قابل لحاظ ہے۔ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرہ برابر بھی کوئی منفی خیال نہ ہو۔

اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں کہ انسان دنیا سے اس طرح جائے کہ اس کا ذہن پوری طرح مثبت ہو۔ اس میں سب سے بڑی اچھائی مثبت فکر ہے اور سب سے بڑی برائی منفی سوچ ہے۔ یہی میری آخری دریافت ہے۔ کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 108۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.