← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Kuch Yaden
Urdu · 15 min
"کچھ یادیں" مولانا فرہاد احمد نئی دہلی۔ تقریباً 2014 کے نصف ثانی سے مجھے مولانا وحید الدین خان صاحب (1925-2021) کی بطور معاون خدمت کرنے کا موقع ملا۔ مولانا کے آخری ایام میں 8 سے 10 گھنٹے بھی میں ان کے ساتھ رہا ہوں۔ مولانا سے میری سب سے پہلی ملاقات سی پی ایس علماء ٹیم کے ذریعے غالباً 2012 میں ہوئی تھی۔
اس ملاقات میں مولانا نے میرے بارے میں کہا تھا کہ "یہ آدمی فرقان کی صلاحیت نہیں رکھتا"۔ "This man doesn't know the art of differentiation. " اس وقت سے میں برابر اس صلاحیت کے لیے دعا کرتا ہوں۔ مولانا سے بڑی بات جو مجھے سیکھنے کو ملی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کھلے دل کے ساتھ ہر ایک سے لرننگ کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔
ان کی زندگی کا فارمولا تھا جس پر وہ مکمل طور پر عمل کرتے تھے: "Simple living, high thinking. " اس لیے اگر کوئی مولانا کے پاس آتا تھا تو وہ ان سے پوچھتے تھے کہ "کوئی آئٹم بتائیے"، یعنی لرننگ کی کوئی بات۔ میں نے کئی مرتبہ مضمون لکھتے وقت مولانا کی رائے کے خلاف اپنی رائے دی، وہ ان کو معقول لگی تو اپنی رائے کو ترک کر دیا اور میری رائے کو اختیار کیا۔ یہ معاملہ صرف میرا نہیں ہے، ہر ایک کے ساتھ مولانا کا یہی طریقہ تھا۔
وہ ہر وقت اپنے خلاف تنقید کو معتدل انداز میں سنتے تھے۔ کسی کی تنقید سے وہ غصہ نہیں ہوتے تھے۔ اگر معقول تنقید ہوتی تو علمی رسپانس دیتے، ورنہ خاموش ہو جاتے اور اس کے لیے دعا کرتے۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ خدا میں جینے والے انسان تھے، خدا کی معرفت گویا ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔
میرا مشاہدہ یہ تھا کہ وہ ہر ناخوشگوار واقعے میں ایک خوشگوار پہلو تلاش کر کے شکر میں جیتے تھے۔ ایک مرتبہ میں عمری ٹیم کے ساتھ مولانا کے پاس گیا۔ اس وقت وہ ایک چھوٹی سی پتی، یعنی لیف، اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے جو درخت سے ٹوٹ کر گر گئی تھی۔ ہم لوگوں کو دیکھ کر کہا: "آئیے، یہ پتی دیکھیے، میں نے اس کے ذریعے ساری کائنات اور اس کے خالق کو ڈسکور کیا ہے۔
" اس کو آپ سادہ طور پر ایک پتی مت سمجھیے۔ ایک پتی بنانے کے لیے یہ پوری کائنات بطور فیکٹری کام کر رہی ہے، مثلاً سورج، گریویٹی وغیرہ کا انتظام۔ تب جا کر یہ پتی تیار ہوتی ہے۔ اس میں اپنے مقصد کے اعتبار سے کوئی کمی نہیں ہے۔
اس کا ڈیزائن پرفیکٹ ہے کہ انسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ اس کو آسمان و زمین سے فوڈ حاصل ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ پتی ایک منصوبہ ساز خالق کا تعارف کرواتی ہے۔ میں آج صبح سے اس پتی کو ہاتھ میں لے کر غور و فکر کر رہا ہوں اور معرفت کا فوڈ حاصل کر رہا ہوں۔
مولانا وحید الدین خان صاحب کے پاس جو کچھ میں نے سیکھا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ان الفاظ کو استعمال نہیں کرتے تھے جو اعلیٰ ذوق۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ان الفاظ کو استعمال نہیں کرتے تھے جو اعلیٰ ذوق یعنی اخلاق کے خلاف ہوں۔ ڈکٹیشن کے درمیان اگر میں کوئی ایسا لفظ بولتا جو نامناسب ہو تو وہ اس کو رد کر دیتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک جملہ آیا جس میں غالباً "ولد الزنا" کا لفظ بھی لکھا جا سکتا تھا۔
میری زبان سے یہی لفظ نکلا۔ انہوں نے کہا: "جملے کے اعتبار سے یہ لفظ ٹھیک ہے، مگر یہ اعلیٰ ذوق کے خلاف ہے۔ " ایسا واقعہ کئی مرتبہ پیش آیا۔ اسی طرح اپنی تحریروں میں وہ ایک بات کا خاص خیال رکھتے تھے، یعنی وضوح۔
Clarity. حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کو ڈی کنڈیشنڈ مینڈ کے ساتھ دیکھنے کا مزاج میں نے ان سے سیکھا ہے۔ میں مولانا کو ہر دن مختلف آیات اور احادیث کی تفسیر اور شروحات سنایا کرتا تھا، مگر مولانا اس کو سن کر سوچتے تھے۔ اگر بات واضح ہو تو لیتے تھے، ورنہ نہیں۔
دلائل کی بنیاد پر وہ باتوں کو لیا کرتے تھے، شخصیات کی بنیاد پر نہیں۔ دوسرے الفاظ میں، وہ چیزوں کو دلائل کی بنیاد پر لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرتے تھے، کہنے والے کی بنیاد پر نہیں۔ وہ ہر ایک سے خیرخواہی کا معاملہ کرتے تھے۔ کوئی مولانا پر تنقید کر رہا ہو تب بھی وہ آفینڈ نہیں ہوتے تھے۔
بلکہ اگر کوئی ان کے پاس رہنمائی کے لیے آتا تو جی جان لگا کر اس کی رہنمائی کرتے۔ مثلاً ایک واقعہ یہ ہے کہ سی پی ایس سے وابستہ علماء کی ٹیم، جس کو مولانا عمری ٹیم کہا کرتے تھے، مولانا کے پاس استفادے کی غرض سے آیا کرتی تھی۔ اس ٹیم میں ایک صاحب کا نام عنایت اللہ عمری بنگلور ہے۔ نام کی نسبت سے مولانا نے عنایت اللہ عمری صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ایک مرتبہ کہا تھا کہ "علامہ عنایت اللہ مشرقی، مرحوم، آکسفورڈ یونیورسٹی سے تحصیل علم کے بعد ہندوستان آ گئے"۔
آکسفورڈ میں ان کے استاد مشہور سائنسدان سر جیمز جینز بھی تھے۔ کچھ عرصے کے بعد انہیں کسی غرض سے آکسفورڈ، برطانیہ جانا ہوا۔ وہاں وہ اپنے استاد سر جیمز جینز سے ملاقات کے لیے گئے۔ سر جیمز جینز نے ان سے پوچھا کہ "گھر پر کیا کرتے ہو؟
" انہوں نے جو جواب دیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ "دن کو کچھ کام کر لیتے ہیں اور شام کو فیملی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں"۔ اس میں ان کی اسکالرلی مصروفیات کا کچھ خاص ذکر نہ تھا۔ اس میں ان کی اسکالر کی مصروفیات کا کچھ ذکر، کچھ خاص ذکر نہ تھا۔ اس پر سر جیمز جینز نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: "عنایت اللہ، live the life of a scholar.
" "عنایت اللہ، ایک عالم کی زندگی گزارو۔ " مولانا نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ "دیکھیے، آپ ایک عالم یعنی اسکالر کی حیثیت سے یہاں استفادہ کرنے آتے ہیں، تو آپ کو گھر جا کر بھی ایک عالم کی زندگی گزارنی چاہیے"۔ اسی طرح ایک خاتون کا واقعہ ہے، وہ گھریلو طور پر کافی پریشان تھی۔ وہ مولانا کے پاس آئی۔
اس نے اپنے تعارف میں یہ کہا کہ "آپ کے فلاں سی پی ایس ممبر، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی، نئی دہلی میں میرے کلاس میٹ تھے"۔ مولانا نے اس سے گفتگو کی۔ مولانا نے اس سے گفتگو کی اور کچھ مشورہ دیا۔ اس کے بعد وہ چلی گئی۔
بعد میں مولانا کو اس کے تعلق سے کچھ اہم رہنمائی یاد آئی تو اس خاتون کو فون کرنا چاہا، مگر خاتون نے فون نمبر نہیں دیا تھا۔ تو اس کے کلاس میٹ کو فون کر کے پوچھا۔ کلاس میٹ نے بتایا کہ "یہ بہت پہلے کی بات ہے، مجھے یاد نہیں ہے، میں معلوم کر کے بتاتا ہوں"۔ مولانا نے تاکید کی کہ "آپ معلوم کر کے ضرور بتائیے"۔
مسکراتے ہوئے کلاس میٹ نے خاتون کا نمبر معلوم کیا۔ پھر مولانا نے اس سے بات کر کے اس کی مزید رہنمائی کی۔ مولانا کے پاس آنے والے ہر فرد کے ساتھ مولانا کا یہی معاملہ میں نے دیکھا ہے۔ ہاں، یہ ضرور تھا کہ مولانا دیگر اکابرِ ملت کی طرح صرف تبرک کے لیے ملنا پسند نہیں کرتے تھے۔
وہ کہتے تھے کہ "اس سے وقت ضائع ہوتا ہے"۔ اگر کچھ سیکھنا ہے یا خدا کی معرفت حاصل کرنی ہے تو مولانا ان سے ملنا بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس میں کسی کا کوئی امتیاز نہیں تھا۔ تنقید کے معاملے میں بھی مولانا کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کسی پر تنقید کے معاملے میں بھی مولانا کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کسی پر ذاتی اعتبار سے کوئی منفی بات نہیں کہتے تھے۔
اس کو وہ تایب کہا کرتے تھے۔ اس کے برعکس وہ اس کے علمی یا عملی غلطی کو واضح کرتے تھے، جس کو تنقید کہتے ہیں۔ مولانا کے الفاظ میں تنقید دراصل علمی تجزیہ یعنی سائنٹیفک انالیسز کا دوسرا نام ہے۔ تنقید حقیقتاً وہی ہے جو علمی تجزیے کے اسلوب میں کی جائے۔
جو تنقید علمی تجزیے سے خالی ہو، وہ بلاشبہ عیب جوئی اور الزام تراشی کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی تنقید علمی اعتبار سے بے بنیاد ہے اور شرعی اعتبار سے بلاشبہ ایسی تنقید ایک سنگین گناہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ الرسالہ، مارچ 2016۔ تنقید وہی چیز ہے جس کو قرآن و حدیث میں "امر بالمعروف والنهی عن المنکر" کہا گیا ہے۔
دینی معاملے میں ایک قابل ذکر بات جو مولانا کے پاس دیکھنے کو ملی، وہ اجتہاد کا معاملہ تھا۔ موجودہ زمانے میں جو تبدیلی آئی اور اس بنا پر جس جرات کے ساتھ اجتہادی عمل کی ضرورت تھی، اس میں دوسرے علماء ناکام رہے۔ اس کا ریزن شاید ان کا وہ خود ساختہ مقدس ماحول تھا جس سے باہر نکل کر وہ سوچنا نہیں چاہتے تھے۔ مگر مولانا نے خود ساختہ تقدس کے اس ماحول سے اوپر اٹھ کر سوچا اور انتہائی پریکٹیکل اجتہادی حل پیش کیا۔
اس کو مولانا کی کتاب "فکر اسلامی، اجتہادی مسائل، اظہار دین" وغیرہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مولانا کا یہ اجتہادی عمل میرے مطالعے کے مطابق کوئی نیا عمل نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب اسلام عرب سے باہر نکلا تو مسلمانوں کو نئے حالات پیش آئے۔ اس وقت صحابہ کرام نے حالات کی تبدیلی کو سمجھا اور اجتہاد کا عمل اختیار کیا تھا۔
مثلاً اصحاب رسول، حضرت عمر اور عبداللہ ابن مسعود وغیرہ۔ پھر ان کے بعد کے فقہاء اسلام نے منظم طور پر اس کام کو آگے بڑھایا۔ مثلاً امام ابو حنیفہ اور امام مالک وغیرہ۔ اس کی تفصیل ابن القیم کی معروف کتاب "اعلام الموقعین" میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ان کا یہ اجتہادی عمل کوئی آخری عمل نہیں تھا جس کے بعد کوئی دوسرا اجتہاد نہ کر سکے۔ بلکہ وہ اجتہادی پراسیس کے لیے نقش اول کی حیثیت رکھتا تھا۔ مولانا نے تبدیلی حالات کو تبدیلی حالات کو سمجھ کر جو کام کیا، وہ بھی اسی اجتہادی پراسیس کا حصہ ہے۔ عام طور پر لوگ مولانا کو اقلیت پسند سمجھتے ہیں، مگر ایک عالم کی حیثیت سے میرا ذاتی تجربہ اس کے برعکس ہے۔
وہ قرآن و سنت کو پورے طور پر مانتے تھے۔ مثلاً ایک مرتبہ عمری ٹیم مولانا کے پاس استفادے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ اس مرتبہ مولانا نے فیصلہ کن انداز میں ان سے کہہ دیا کہ "اب آپ لوگ یہاں مت آئیے گا"۔ ٹیم کے ایک ممبر فیاض الدین عمری صاحب نے مولانا کو ایک حدیث سنائی جس میں ہے کہ "تعلیم کے لیے آنے والوں کو نہ روکو، ان کو سکھاؤ"۔
سياتيكم اقوام یطلبون العلم فاذا رأيتموهم فقولوا لهم مرحبا مرحبا بوصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقنوھم۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 247۔ یہ حدیث سن کر مولانا نے فوراً اپنا ارادہ بدل دیا۔ یہ حدیث سن کر مولانا نے فوراً اپنا ارادہ بدل دیا۔
اسی طرح ایک مرتبہ کا ذکر ہے، میں نے کوئی بات کہی جس میں حضرت ابوبکر صدیق کے لیے حضرت عمر کے مقابلے میں کمتری کا پہلو نکلتا تھا۔ انہوں نے فوراً میری بات رد کر دی اور روتے ہوئے سختی سے کہا کہ "آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ جو رسول اللہ کا ثانی حسنین ہو، اس کے بارے میں ایسا کہیں"۔ میں ہر دن مولانا کے پاس دن کو ساڑھے دس بجے آتا تھا۔ جب میں پہنچتا تھا تو مولانا سب سے پہلے یہ کہتے تھے کہ "فلاں آیت کی تفسیر نکالیے" یا "فلاں حدیث کی شرح سنائیے"۔
یعنی کسی آیت یا حدیث پر کچھ لکھوانے سے پہلے تفاسیر اور شرحیں ضرور دیکھتے تھے۔ کچھ لوگ اس بات کی تشہیر کرتے ہیں کہ مولانا نے مہدی یا مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ میرے نزدیک یہ انتہائی لغو قسم کی الزام تراشی ہے۔ دعویٰ کرنا تو دور کی بات ہے۔
میں نے مولانا کی زبان سے کئی مرتبہ یہ سنا ہے کہ "ایسا دعویٰ کوئی پاگل انسان ہی کر سکتا ہے، کوئی سمجھدار انسان ایسا نہیں کر سکتا"۔ اس قسم کے دعوے کو وہ بالکل لغو خیال کرتے تھے۔ اور میں خود ان کے پاس تقریباً چھ سال تک رہ چکا ہوں۔ میں نے کبھی کوئی ایسا دعویٰ ان کے منہ سے نہیں سنا۔
خدا کی معرفت میں جینا اور تمام انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچانا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ اس کے علاوہ وہ کچھ اور نہیں چاہتے تھے۔ مولانا کی معاونت کا موقع مجھے اس وقت ملا جب وہ جسمانی طور سے کمزور ہو گئے تھے۔ مگر اللہ سے محبت اور دین کے تعلق سے ان کی محنت قابل رشک تھی۔
رات ہو یا دن، ہر وقت اسی تعلق سے تدبر و تفکر کرنا ان کا طریقہ تھا۔ غلطی خواہ کسی کی ہو، وہ پہلے معافی مانگ لیتے تھے۔ ایک مرتبہ مجھ سے بھی معافی مانگی تھی، حالانکہ معاملہ کچھ بھی نہیں تھا۔ اپنے معاون کا بھی مولانا بہت خیال رکھتے تھے۔
اس تعلق سے ان کی زندگی کا فارمولا تھا: اپنی ذات میں آئیڈیل رہنا، لیکن دوسروں کے معاملے میں پراگمیٹک رہنا۔ یعنی اپنے آپ کو پوری طرح اصول کا پابند رکھنا، لیکن دوسروں کے معاملے میں یہ دیکھنا کہ عملاً وہ کیا کر سکتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو یہ توفیق دے کہ ہم ہم لوگ مولانا کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ آمین۔
کتاب "داعی اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 103۔