مولانا اور حب الہی۔ مولانا وحید الدین خان ہمیشہ قرآن کی آیت— والذين آمنوا أشدّ حبًا لله سورہ نمبر 2، آیت 165—پر بہت سوچا کرتے تھے، یعنی اور جو ایمان والے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور کہا کرتے تھے کہ اس آیت میں خدا سے حبِ شدید کا ذکر کیا گیا ہے، مگر تاریخ میں حبِ شدید کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ حبِ شدید خدا سے اسی وقت ممکن ہے جبکہ ہر دوسری چیز کی محبت دل میں ذرہ برابر نہ ہو۔
میں نے پہلی بار مولانا کی زندگی سے یہ جانا کہ خدا سے شدید محبت کیا ہوتی ہے۔ مولانا ہمیشہ اپنے آپ کو ہر اس چیز سے دور رکھتے تھے جس سے ان کو محبت ہو جانے کا اندیشہ ہو، جیسے لگژری لائف، مہنگے کپڑے، اور پرلذت کھانا۔ حتیٰ کہ اپنی اولاد سے بھی بے جا پدرانہ محبت سے دوری بنائے رکھنا، تاکہ کہیں ان سے محبت خدا کی محبت پر غالب نہ جائے۔ ایک بار میں نظام الدین ویسٹ میں مولانا کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، مولانا درس دے رہے تھے، اور اس مجلس میں زیادہ تر علما تھے۔
درس کے بعد سوال و جواب کی نشست رہی۔ اسی دوران مولانا کے پوتے عدنان خان مولانا کے کمرے میں اپنے کسی کام سے آئے اور کچھ دیر بعد چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد مولانا نے پوچھا کہ کون صاحب تھے؟ مولانا کو بتایا گیا کہ آنے والے آپ کے پوتے عدنان تھے۔
مولانا یہ سن کر تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر کہا کہ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ ایک بوڑھے انسان کو سب سے زیادہ کس سے محبت ہوتی ہے؟ حاضرین خاموش تھے۔ خود مولانا نے جواب دیا کہ ایک بوڑھے انسان کو سب سے زیادہ محبت اپنے پوتے سے ہوتی ہے۔ مولانا نے سلسلہ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ عدنان میرے پوتے ہیں، پھر بھی میں نے کبھی ان کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھا۔
جب بھی وہ میرے سامنے آتے ہیں تو میں اپنی نظریں پھیر لیتا ہوں۔ میں ایسا اس لیے کرتا ہوں تاکہ اس کی محبت خدا کی محبت پر غالب نہ جائے۔ پھر مولانا نے روتے ہوئے کہا کہ میں خدا سے حبِ شدید کے لیے کوئی بھی قیمت دے سکتا ہوں، لیکن خدا سے حبِ شدید میں کسی طرح کی کمی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اور خدا مجھے کیسے معاف کر سکتا ہے اگر میرے دل میں اس کے لیے حبِ شدید نہ ہو؟
اور میں اس حبِ شدید میں کسی کو شریک کر لوں؟ اس واقعے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مولانا کے دل میں کس قدر خدا سے حبِ شدید تھا۔ یہی وہ حبِ شدید ہے جو خدا کو بندے سے مطلوب ہے، جس کو مذکورہ آیت سورہ نمبر 2 آیت 165 میں بیان کیا گیا ہے۔ خدا مولانا کو غریقِ رحمت کرے، اور ہم سب کو مولانا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تاحیات خدا کی معرفت حاصل کرنے کی توفیق دے، اور انسانوں کا خیرخواہ بن کر خدا کے پیغام کو ہر گھر تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 100۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.