← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Wo Jo Ansuon par Tahra huva tha
Urdu · 7 min
وہ جو آنسوؤں پر ٹہرا ہوا تھا۔ مولانا خطیب اسرار الحسن عمری، سی پی ایس، چنئی، تمل ناڈو۔ 21 اپریل 2021 کی رات، ماہنامہ الرسالہ، جون 2021 کی، پروف ریڈنگ کر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ صبح میں مولانا فرہاد صاحب کو ای میل کر دوں گا۔ اور یہ بھی ذہن میں بات چل رہی تھی کہ مولانا وحید الدین خان صاحب کی طبیعت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے، لیکن آپ کا ماہنامہ الرسالہ، جون 2021 کی ترتیب حسبِ معمول وقت پر مکمل ہو چکی ہے۔
امید تھی کہ مولانا اس رسالے کا اجرا اپنے ہاتھ سے فرمائیں گے اور ہم سے اس کا فیڈ بیک مانگیں گے، اور اسی کے ساتھ مولانا کے لیے مکمل صحت کی دعا کرتے ہوئے آنکھ بند کر لی۔ شب کے 11 بجے مولانا اقبال عمری کا فون آیا، اور میں نے گھبراتے ہوئے فون ریسیو کیا تو اقبال صاحب کی مغموم آواز آئی کہ اب مولانا ہمارے درمیان نہیں رہے۔ فوراً میں نے مولانا کے لیے دعا کرتے ہوئے فون بند کر کے سی پی ایس انٹرنیشنل کا آفیشل واٹس ایپ گروپ کو چیک کیا تو اس میں مولانا کے فرزند ڈاکٹر ثانی حسنین خان صاحب کا میسج تھا: "إنا لله وإنا إليه راجعون" "with great sadness we want to share the passing away of مولانا وحید الدین خان، he has left us one big family to stay united and work for the cause of دعویٰ۔ Please do دعا." 10:52 PM, 21 January 2021.
اور اس کے نیچے سی پی ایس انٹرنیشنل کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رجت ملحوترا کا یہ پیغام تھا: "Our training is over, and now we have to work together as ڈاکٹر صاحب has started above as one family. " مولانا کی وفات کی خبر سننے اور یہ میسجز پڑھنے کے بعد میں بڑے بوجھل دل کے ساتھ کھڑا ہوا اور دو رکعت نماز ادا کر کے مولانا کے لیے اور آپ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے خوب دعا کی، مگر دل بے قرار و پریشان تھا۔ اس وقت مجھے مولانا کی ایک بات یاد آئی کہ جب کبھی آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہو تو آپ قرآن لے کر کسی صفحے کو کھول کر دیکھیں، اس میں ضرور آپ کے لیے کوئی رہنمائی یعنی گائیڈنس ہوگی۔ تو میں نے قرآن کھول کر دیکھا تو میری نظر سورہ یونس کی اس آیت پر پڑی: فَقَدْ لَبِسْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِن قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ سورہ نمبر 10 آیت 16۔
یعنی میں اس سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر بسر کر چکا ہوں، پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ اس آیت کو پڑھتے ہی میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ گویا خدا یہ کہہ رہا ہے کہ دیکھو مولانا تمہارے درمیان 96 سال کی زندگی بسر کر چکے ہیں، کیا اس میں تمہارے لیے کوئی رہنمائی نہیں؟ تو میرے ذہن میں اس وقت مولانا کی پوری زندگی گھومنے لگی۔ مولانا سے میری پہلی ملاقات سے لے کر آخری ملاقات تک کے سارے واقعات یاد آنے لگے۔
آپ کی تمام مجالس میں ایک بات جو مشترک تھی وہ یہ کہ خدا کی یاد اور روز قیامت کا چرچا۔ آج سے 20 سال پہلے اگست 2001 کو پہلی بار مولانا سے ملاقات کے لیے آپ کے دفتر سی 29 نظام الدین ویسٹ نئی دہلی میں شیخ ریاض موسی ملے باری مرحوم اور مولانا فیاض عمری کے ساتھ حاضر ہوا تھا۔ یہ ملاقات فیاض صاحب نے طے کروائی تھی۔ جب ہم مولانا سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے تو شیخ ریاض موسی صاحب نے مولانا کی خدمت میں ایک قلم اور ایک مسواک کا تحفہ دیا اور کہا کہ ہم نے آپ کی ڈائری میں پڑھا ہے کہ آپ کو یہ دونوں چیزیں پسند ہیں۔
مولانا نے جواب دیا کہ ہاں یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ میں جوان تھا، لیکن میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، اب میری عمر 75 سال کی ہو چکی ہے، اب میرے قدم قبر کے قریب ہو چکے ہیں، اور موت میرے بہت قریب ہے۔ آج کل مجھے یہ فکر رہتی ہے کہ اگر اچانک فرشتے آ کر مجھے خدا کے سامنے حاضر کر دیں تو میں خدا کے سامنے اپنا کون سا عمل پیش کر سکتا ہوں جو میری نجات کا باعث بنے۔ عموماً لوگ کوئی ایک کتاب تصنیف کر کے یہ لکھتے ہیں کہ یہ کتاب میرے لیے وسیلہ نجات ہوگی، لیکن جب میں یہ سوچتا ہوں کہ خدا کے سامنے میری تصنیف کردہ ان کتابوں کی کیا حقیقت ہوگی جبکہ ایک چھوٹی سی دیا سلائی ان کو جلا کر راکھ یعنی ایشز میں تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے، تو میں ان کو کیسے خدا کے سامنے پیش کر سکتا ہوں جبکہ خود رسول اللہ نے کہا تھا کہ میری نجات صرف خدا کے فضل و رحمت سے ہوگی، میرے عمل سے نہیں۔ إلا أن يتغمدني الله برحمة منه وفضل صحیح مسلم حدیث نمبر 2816۔
جب ایک نبی خود خدا کی رحمت و فضل کا محتاج ہے تو میری اور میری تصنیفات کی خدا کے سامنے کیا حقیقت ہوگی مگر یہ کہ خدا مجھ پر اپنا فضل کرے۔ میں آج کل خدا سے اسی رحمت اور فضل کی دعا کرتا رہتا ہوں۔ یہ کہہ کر مولانا رو پڑے اور مسلسل آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اور میں حیرانی سے پہلی بار کسی بڑے عالم کو آخرت کے ذکر پر روتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ یہ مولانا کے ساتھ میری پہلی ملاقات کا حال تھا، اور اس کے بعد 2001 سے 2021 تک مولانا سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔
ہر مجلس کی یہی کیفیت ہوتی تھی، یہاں تک کہ آپ اپنے خالق سے جا ملے۔ میں اور مشن کے تمام ساتھی اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ کی کوئی بھی مجلس اور گفتگو خدا کے ذکر اور آخرت کی یاد سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ ہر مجلس میں آپ کو خدا کی یاد پر روتا ہوا پایا، گویا کہ آپ ہمیشہ انہی آنسوؤں پر ٹھہرے ہو، گویا کہ آپ ہمیشہ انہی آنسوؤں پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ آپ کہا کرتے تھے کہ میرا مشن خدا کے سامنے آنسوؤں پر ٹھہرا ہوا ہے، اس لیے خدا اس مشن کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔
کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 98۔