مولانا وحید الدین خان کی رحلت مذہبی فکر میں توازن، متانت، اور روشن فکری کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ وہ نئے زمانے کے مسائل و سوالات کے تناظر میں مذہبی فکر پر نظر ڈالتے تھے، اور مذہب کو نئے زمانے میں بیگانہ تصور نہیں کرتے تھے۔ وہ جدید ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو گمراہ کن قرار دینے کے بجائے، انہیں سمجھنے اور اسلام کی روشنی میں جواب تلاش کرتے تھے۔ وہ سادہ، منطقی، و مدلل زبان میں نئی نسل کی خاص طور پر رہنمائی کرتے تھے، اور ان کے دل میں باوقار انداز میں اور خدائی اصولوں کے مطابق جینے کی امنگ پیدا کرتے تھے۔
مولانا وحید الدین خان ایک انتھک عالم تھے، اور غیر معمولی متجسس ذہن کے مالک تھے۔ ان کی ڈائریاں ان کے شب و روز کا احوال بتاتی ہیں کہ کیسے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے، عام سے واقعات کی مدد سے، گہری مذہبی بصیرت اخذ کرتے اور عام کرتے تھے۔ رازِ حیات تو ہر نوجوان کو پڑھنی چاہیے: ناصر عباس نیر، سابق ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ پاکستان، کتاب "داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان"، صفحہ نمبر 97۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.