← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Maulana Wahiduddin Khan ki Baat
Urdu · 6 min
مولانا وحید الدین خان کی بات: مجیب الرحمن شامی، پاکستان۔ مولانا وحید الدین خان ایک صدی کے لگ بھگ اس دنیا میں گزار کر بالآخر اپنے رب کے پاس چلے گئے، کہ جس کی رضا کا حصول ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ ان کا نام پہلی بار اس وقت سنا جب کالج میں سیکنڈ یا تھرڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ اس وقت مولانا سید ابو الاعلی مودودی اور جماعت اسلامی توجہ کا مرکز تھے۔
ان کی کئی کتابیں نظر سے گزر چکی تھیں۔ میں نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول پاکپتن سے پاس کیا، تو ایف اے میں داخلے کے لیے بوریوالہ جانا پڑا۔ وحید الدین خان کا نام انہی دنوں سامنے آیا، جبکہ مولانا مودودی کی فکر پر ان کی تنقیدی کتاب "تعبیر کی غلطی" شائع ہوئی۔ پھر اس کے بعد یہ کتاب نظر سے گزری، اور مولانا وحید الدین خان کی شخصیت نظروں میں سما کر رہ گئی۔
محترم غلام احمد پرویز سے لے کر مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا محمد عمر اچھروی تک، مولانا مودودی کے خلاف جارحانہ تنقید میں پیش پیش تھے۔ ان کے خلاف آئے روز مضامین اور کتابیں شائع ہوتیں۔ اکثر تحریروں سے ذاتی مخاصمت کی بو آتی۔ اس ماحول میں وحید الدین خان کے سنجیدہ لہجے میں کی گئی علمی تنقید نے سب کو چونکا دیا۔
خان صاحب کم و بیش 15 سال جماعت اسلامی ہند میں شامل رہے تھے۔ اس کی مجلس شوریٰ کے رکن تھے۔ مولانا کی فکر سے اختلاف کرتے کرتے ان کا راستہ الگ ہو گیا۔ انہوں نے جو کچھ سوچا اور جو کچھ لکھا، اسے جماعت اسلامی ہند کے زعماء نے مولانا مودودی کی خدمت میں بھیجا۔
تحریری تبادلے خیال کی بہت کوشش کی، لیکن مولانا نے کسی مناظرے میں الجھنے سے انکار کیا، اور انہیں اجازت دے دی کہ وہ اپنے افکار کو جامع جامع اشاعت پہنا دیں۔ مولانا وحید الدین خان نے بقول خود، "بڑے بوجھل دل کے ساتھ اپنی تحریر کتابی شکل میں پیش کر دی۔ " ان کے سنجیدہ اور مؤدبانہ لہجے نے ان کی شخصیت کا جو تاثر قائم کیا، آخر دم تک اس میں کمی نہیں آئی۔ مولانا وحید الدین اقامت دین کے فریضے اور حکومت الہیہ کے قیام کے ذریعے رضائے الہی کے حصول کو سیاسی اسلام قرار دیتے، اور اس سے شدید اختلاف کرتے رہے۔
تفصیل میں جانے کا یہ کالم متحمل نہیں ہو سکتا۔ مولانا وحید الدین نے اپنی بات کو شائستگی اور عمدگی کے ساتھ پیش کیا، اور پھر اپنے کام میں لگ گئے۔ وہ اسلام کو دعوت کا دین قرار دیتے، اور دعوت ہی کے ذریعے تبدیلی لانے کے آرزومند رہے۔ اسی نکتے کی تشریح و تعبیر میں زندگی گزار دی۔
ان کے ہاں مبارزت نہیں، اخوت ہے۔ وہ اپنے مخالفین سے کش کشتی نہیں لڑتے، انہیں حریف قرار نہیں دیتے۔ ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے، اور اپنے نقطہ نظر کے حق میں دلائل فراہم کرتے۔ ہندوستان میں انہیں غیر مسلم حلقوں میں بہت پذیرائی ملی۔
حکومت نے انہیں کئی اعزازات کا مستحق گردانا، بین الاقوامی ایوارڈ بھی پیش کیے گئے۔ ان کے الرسالے نے دھوم مچائے رکھی۔ وہ ہندی اور انگریزی میں بھی اسلام کی دعوت کو پھیلانے کا ذریعہ بنا رہا۔ مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات ان کے اسلوب کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی۔
اسے مرعوبیت بھی قرار دیا گیا۔ لیکن مولانا نے اپنا راستہ نہیں بدلا۔ ثابت قدمی سے ان کا سفر آخری عمر تک جاری رہا۔ تین عشرے پہلے وہ پاکستان آئے تو لاہور میں ایک ہفتہ قیام کیا تھا۔
ان کے اعزاز میں کئی تقریبات منعقد ہوئیں۔ ان سے بات چیت کے کئی دور ہوئے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین وہ اچھے تعلقات پر بہت زور دیتے تھے۔ ان کی بہت سی باتوں سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا تھا، لیکن اس بات کا وزن دونوں ممالک میں کم نہیں کیا جا سکتا کہ امن کا قیام دونوں کے مفاد میں ہے۔
بلکہ اکسیجن کی طرح ہے۔ لڑائیاں بہت لڑی جا چکی، ان سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ مولانا مرحوم کا پختہ خیال تھا کہ مسلمان دعوت ہی کے ذریعے دنیا کا مقابلہ کر سکتے، اور اسے تبدیل کر سکتے ہیں۔ دشمن بن کر، دشمن سمجھ کر یا دشمن بنا کر اپنی جنت تعمیر نہیں کی جا سکتی۔
بشکریہ، روزنامہ دنیا۔ کتاب "داعی اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 93۔