Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan

Urdu · 4 min

مولانا وحید الدین خاں محمد احسن تہامی، دارالتذکیر لاہور۔ مولانا وحید الدین خاں سے میرا تعارف 1983 میں الرسالہ کے ذریعے ہوا۔ یہ رسالہ یوسف خان مرحوم، جو ادارہ معارف اسلامی منصورہ میں لائبریرین تھے، نے استادِ گرامی جاوید احمد غامدی کو پیش کیا تھا۔ پھر 1984 میں مولانا محترم ڈاکٹر اسرار احمد کی دعوت پر محاضرات قرآنی میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے، تو ان کو سننے کا موقع بھی ملا۔

پھر آہستہ آہستہ مولانا محترم کی کتب پڑھنے کا موقع ملا، تو مولانا مودودی کا فکری غلبہ دھندلانے لگا۔ 1988 میں ماہنامہ تذکیر کا ڈیکلریشن حاصل ہوا، تو الرسالہ کا پاکستانی ایڈیشن شائع کیا۔ 1991 میں جناب نعیم بلوچ اور دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر مولانا محترم کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ مولانا ایک ہفتے کے لیے تشریف لائے، ان کی رہائش کا بندوبست گارڈن ٹاؤن، لاہور میں جناب کرامت شیخ کے ہاں کیا گیا۔

یہاں فجر کی نماز کے بعد مولانا محترم سے استادِ گرامی جاوید احمد غامدی کی میت میں خصوصی نشستیں ہوئیں۔ ان مجلسوں میں استاد نے مولانا کے تصورِ دین پر چند سوالات اٹھائے۔ ان مجالس کے دیگر شرکاء میں ڈاکٹر منیر احمد، طالب محسن رفیع مفتی، اور نعیم بلوچ شامل تھے۔ میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب مغرب کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے وقت مولانا نے غامدی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ "میری فکر پر پہلی مرتبہ آپ نے سنجیدہ علمی تنقید کی ہے۔

" آپ کے نقد کی روشنی میں اپنی فکر کا اب مجھے از سرِ نو مطالعہ کر کے جائزہ لینا پڑے گا، مگر افسوس کہ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ ان الفاظ میں جو درد مندی تھی، وہ دین کے صرف ایک سچے طالبِ علم کے اندر ہی ہو سکتی ہے۔ 1992 میں میں نے دارالتذکیر کے نام سے مولانا محترم کی کتب شائع کرنا شروع کر دیں۔ مولانا دنیا کے ان مصنفین میں سے ہیں جن کی کتب بے پناہ مقبول تھیں، لیکن انہوں نے دعوتی مقاصد کے لیے اس کی اشاعت کی عام اجازت دے رکھی تھی۔

ہر شخص انہیں شائع کر سکتا ہے، وہ ان کی کوئی رائلٹی نہیں لیتے تھے۔ انڈیا میں مولانا کی نئی کتاب کی اشاعت اور الرسالہ کے تاخیر سے وصول ہونے کے حوالے سے کبھی کبھار مولانا سے فون پر رابطہ ہو جاتا۔ 1997 میں شتمِ رسول کا مسئلہ شائع کی تو ایک مخصوص مذہبی گروہ نے کتاب پر پابندی لگوا دی۔ 2006 میں کتاب میلے میں شرکت کے لیے دہلی جانا ہوا، تو 10 دنوں میں 7 دن صرف مولانا کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔

میں صبح ناشتے کے بعد ہوٹل سے مولانا کے ہاں پہنچ جاتا اور رات عشاء کے بعد واپس لوٹتا۔ اس وقت برادرَم محمد زکوان ندوی مولانا کے معاون کے طور پر خدمات سرانجام دیتے تھے۔ مولانا کی سادگی، شفقت، محبت، اخلاص، اپنائیت، اور تعلق باللہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ دوسری مرتبہ 2008 میں اپنی اہلیہ کے ساتھ دہلی جانا ہوا، تو دوبارہ مولانا کے ساتھ کچھ دن گزارنے کا موقع ملا۔

ان دنوں کے چند تاثرات اور یادداشتیں ان شاء اللہ آئندہ کبھی لکھوں گا۔ 7 مئی 2021 عیسوی۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 91۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.