Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Mer-e-Mohsin, Mer-e-Muallim

Urdu · 11 min

میرے محسن، میرے معلم، عمران احمد اصلاحی مولانا سے میری پہلی ملاقات فروری 1999 میں ہوئی۔ اس کے بعد میں مستقل طور پر مولانا اور ان کے مشن کے ساتھ وابستہ ہو گیا۔ اللہ نے مجھے الرسالہ اور مولانا کی کتابوں کی کمپوزنگ کے ذریعے الرسالہ مشن کی خدمت کا موقع دیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج جب مولانا ہمارے درمیان نہیں ہیں، مزید ذمہ داریوں کے ساتھ میں سی پی ایس مشن سے وابستہ ہوں۔

اس طرح یہ وابستگی 22 سال سے مستقل جاری ہے۔ ابتدائی کچھ سالوں میں مولانا مجھے املاء کراتے، اور پھر میں اس کو ٹائپ کرنے کے بعد مولانا کو سناتا۔ مولانا کچھ حذف، اضافہ، اور تصحیح کے بعد کہتے کہ کمپیوٹر پر اس کو ٹھیک کر کے لائیے۔ یہ سلسلہ تقریباً 2.

5 سال چلا۔ اس کے بعد ڈی ٹی پی کی ذمہ داریاں بڑھنے کے بعد املاء کے لیے ایک اور صاحب مستقل طور پر مولانا کے رفیقِ کار بنے۔ لیکن میں بھی وقتاً فوقتاً مولانا کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ اس طرح مولانا سے سیکھنے اور مشن کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔

مولانا میرے مشفق مربی اور معلم تھے۔ میں نے جتنا مدرسے سے سیکھا، اس سے کہیں زیادہ مولانا کی صحبت اور الرسالہ مشن سے وابستہ ہونے کے بعد سیکھا۔ میرے الرسالے سے وابستگی کو ابھی چند روز ہی ہوئے تھے، مولانا املاء کرا رہے تھے۔ اسی دوران مولانا نے کہا کہ آپ کی اردو بہت کمزور ہے، مجھے جیسے شاک لگا ہو۔

اس لیے کہ مدرسے سے پڑھنے کے بعد یہ ذہن بنتا ہے کہ مدرسے والوں کی اردو بہت اچھی ہوتی ہے۔ بہرحال، اس کے بعد میں نے اردو سیکھنے پر خاص توجہ دینی شروع کی۔ مولانا بھی اصلاح کرتے رہتے تھے، جس سے میری اردو کافی بہتر ہوئی۔ مولانا کی محبت ہی تھی کہ فیملی گھر کے بارے میں دریافت کرتے رہتے، ضروری مشورے دیتے۔

مولانا کے مشورے نہایت پریکٹیکل اور دور رس نتائج کے حامل ہوتے۔ فروری 2001 میں میری شادی کے موقع پر مولانا نے کامیاب ازدواجی زندگی کے دو اہم فارمولے بتائے، جن پر عمل کر کے الحمدللہ ہم خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ دو فارمولے ہیں: ایک یہ کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں۔ دوسرا، شادی نام ہے ایڈجسٹمنٹ کا۔

مولانا کی صحبت میں رہ کر ہم نے ان اہم اسلامی تعلیمات کو عملاً سیکھا۔ مولانا کی صحبت میں رہ کر ہم نے ان اہم اسلامی تعلیمات کو عملاً سیکھا جو ہمارے علماء میں آج تقریباً مفقود ہیں۔ جیسے سادگی، صبر، شکر، اعراض، اور تفکر و تدبر۔ مولانا کی پوری زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔

مولانا سادہ، بغیر استری کیا ہوا کپڑا پہنتے۔ مولانا آخر عمر سے کچھ پہلے تک فرش پر ہی سوتے تھے۔ سخت سے سخت گرمی میں بھی اپنے لیے پنکھا چلانا تک پسند نہیں کرتے تھے۔ اکثر لوگ مولانا پر تنقید کرتے ہوئے کہتے تھے کہ مولانا کوٹھی میں رہ کر اور اے سی میں سو کر قوم کے مسائل کو کیا سمجھیں گے۔

ان کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ مولانا پنکھے تک میں سونا پسند نہیں کرتے تھے۔ میں جب بھی گرمی میں مولانا کے پاس جاتا تو کہتے کہ دیکھیے، آپ کو ضرورت ہو تو آپ پنکھا چلا سکتے ہیں، مجھے پنکھے کی ضرورت نہیں۔ مولانا کھانا بھی بہت سادہ کھانا پسند کرتے تھے۔ مرغن غذا مولانا کو پسند نہیں تھی۔

میوات کے ایک سفر میں مولانا کے ساتھ کھانے سے متعلق ایک واقعہ گزرا، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی کھانوں کے پسند سے متعلق احادیث کی نہایت جامع تشریح ہوتی ہے۔ اس کے بعد تمام اشکالات رفع ہو جاتے ہیں۔ اس کی مزید تشریح مولانا کی تحریر 'ڈائری 1985' زیرِ طباع میں موجود اس تحریر سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حضرت ام ہانی کے گھر گئے، پوچھا کہ کچھ کھانے کے لیے ہے؟

انہوں نے کہا کہ سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے۔ آپ نے فرمایا: "جس گھر میں سرکہ ہو، اس کو سالن کے معاملے میں غریب نہیں کہا جا سکتا۔ " فَمَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُودُوٍ فِيهِ خَلٌّ سنن الترمذی، حدیث نمبر 1841۔ اس کے بعد آپ نے سرکہ اور روٹی نہایت شوق کے ساتھ کھایا۔

اسی طرح مختلف روایتوں میں مختلف کھانوں کے بارے میں آپ کی پسندیدگی کا ذکر ہے۔ مثلاً سرکہ، شہد، روغن زیتون، حلوہ، کدو، گوشت، ککڑی، لوکی، کھچڑی، دودھ، مکھن، کھجور وغیرہ۔ اس سلسلے میں اہم سوال یہ ہے کہ آپ کے پسندیدہ کھانوں کی فہرست میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو اس وقت کے مدینے میں رائج تھیں؟ اگر اس سلسلے کی مختلف روایتوں کو جمع کیا جائے تو رائج کھانوں میں سے کوئی بھی چیز نہیں بچے گی جو آپ کے مرغوب کھانے کی فہرست میں شامل نہ ہو۔

پھر اگر آپ کو ہر کھانا پسند تھا تو وہ کون سا کھانا ہے جو آپ کو پسند نہ تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ کا معاملہ ہی نہیں۔ آپ کے اس قسم کے تمام کلمات میزبانوں کی حوصلہ افزائی کے کلمات ہیں۔ اس وقت مدینے میں کھانے کے سامان کی کمی تھی۔

اکثر ایسا ہوتا کہ جہاں آپ جاتے، اس کے یہاں کوئی ایک سالن ہوتا تھا۔ میزبان شرمندگی کے ساتھ جو کھانا موجود ہو لے آتا۔ آپ شرافت کے تقاضے کے تحت فرماتے کہ یہ تو بہترین کھانا ہے، اور پھر شوق سے اس کو کھانے لگتے۔ اس طرح کے تمام کلمات میزبان کی حوصلہ افزائی کے کلمات ہیں، نہ کہ کھانے کے بارے میں اپنی پسندیدگی بتانے کے کلمات۔

ڈائری، 5 دسمبر 1985۔ مولانا کے خلاف طعن و تشنیع کی 400 سے بوچھاڑ ہوتی رہتی تھی۔ مولانا کے خلاف طعن و تشنیع کی 400 سے بوچھاڑ ہوتی رہتی تھی، لیکن مولانا اس کا نوٹس کیے بغیر اپنے مشن میں لگے رہتے۔ بہت ضروری ہوتا تو علمی جواب دیتے، ورنہ خاموش رہتے۔

مولانا تدبر و تفکر پر بہت زیادہ زور دیتے۔ خود مولانا کی پوری زندگی التفکر و الاعتبار کا نمونہ تھی۔ مولانا ہر ایک واقعے سے نصیحت لیتے۔ جب بھی ہم مولانا کی خدمت میں حاضر ہوتے، مولانا سوال کرتے کہ آپ کے پاس کوئی خبر ہے؟

اگر ہم کوئی واقعہ یا خبر بتاتے تو مولانا اس سے کوئی نہ کوئی نصیحت کا آئٹم پا لیتے۔ مولانا کی پوری زندگی خدا رخی زندگی تھی۔ وہ ہر وقت اللہ کی یاد میں جیتے تھے۔ ان کی تحریریں تمام تر خدا رخی زندگی پر زور دیتی ہیں۔

اللہ کی معرفت مولانا کا گریٹسٹ کنسرن تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ الحمدللہ سی پی ایس کا ہر ممبر بہت حد تک خدا میں جینے والا بن گیا ہے۔ مولانا نے قوم کو ماڈرن تعلیم کی طرف رہنمائی کی، اور حکمت کے ساتھ اپنے سماجی اور سیاسی مسائل کو حل کرنے پر زور دیا۔ مولانا نے مسلم قوم کے تمام تر مسائل کی وجہ ان کے ماڈرن تعلیم سے دوری کو بتایا ہے۔

کئی بار جب میں مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا تو مولانا نے دریافت کیا کہ آپ کے کتنے بچے ہیں؟ کیا وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟ میں کہتا کہ جی پڑھ رہے ہیں، تو فرماتے ان کو اچھے اسکول میں پڑھائیے اور ان کے شعور کو ڈیولپ کیجیے۔ ڈز اینڈ ڈونٹ کی زبان میں ڈوز اینڈ ڈونٹس کی زبان میں ان کو مت بتائیے، بلکہ زیادہ تر معاملے میں ان کو خود فیصلہ لینے کا اختیار دیجئے۔

باشعور ہوں گے تو وہ خود بہتر فیصلہ لے سکتے ہیں۔ مولانا نے تقریباً ہر ٹاپک پر قلم اٹھایا ہے اور اس کا حق ادا کیا ہے۔ مولانا کی تحریروں سے جو ذہن بنتا ہے، وہ ایک بیدار اور حکمت سے پر ذہن بنتا ہے۔ آج اگر ہم یہ عہد کریں کہ مولانا کی کتابیں خود بھی پڑھیں گے اور کم سے کم 10 افراد تک مولانا کا لٹریچر پہنچائیں گے، تو ان شاء اللہ جلد ہی ہم وہ وقت دیکھیں گے کہ دنیا میں ہر طرف امن، بھائی چارہ، برداشت اور اعتراف کا ماحول ہوگا۔

کتاب 'داعیِ اسلام' مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 87۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.