Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Na Qabil-e-Talafi Noqsan

Urdu · 4 min

ناقابلِ تلافی نقصان، جعفر صادق باقوی، چنئی۔ مدیر: ماہنامہ سمن الہی، سمدایم، تمل ناڈو، انڈیا۔ مشہور اسلامی عالم اور مفکر، مولانا وحید الدین خان صاحب، 96 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔ آزادی سے پہلے کے انڈیا میں پیدا ہوئے، آزاد انڈیا میں پلے بڑھے، مولانا انڈیا کے قدیم مسلم علما کے سلسلے کی آخری کڑی تھے۔

مختلف اسلامی تنظیموں کے رہنماؤں کے معاصر رہے، اور علمی شخصیات کے ساتھ ان کے تعلقات بھی رہے، اور ان سے خوب اختلاف بھی کیا۔ گہرا علم، امیغ سوچ، کم گفتگو، سادہ زندگی—مولانا کی پہچان تھی۔ مولانا اس صدی کے عظیم اسکالر تھے، اور جنہوں نے اپنے نام "وحید" کے مطابق تنِ تنہا ایک منفرد مشن کو قائم کیا۔ تنِ تنہا کھڑے ہو کر اپنے تحریروں اور تقریروں سے دین کی خدمت کی۔

اسلام کے اجتہادی و فکری میدان پر دیرپا اثر چھوڑا، اور آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ مولانا کے انتقال سے 3 دن قبل ہی اپنی مسجد کی لائبریری میں اچانک میری نظر کتاب "تاریخ کا سبق" کے ملیالم ترجمے پر پڑی۔ میں نے وہ کتاب اپنے ہاتھ میں لی اور اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔ اس وقت میرے ذہن میں ماضی کے واقعات گھومنے لگے: باقیات الصالحات، ویلور کے میرے اساتذہ کرام، مفتی شبیر علی حضرت، مفتی صدقت اللہ حضرت کو ماہنامہ الرسالے میں ہی دکان سے خرید کر پہنچایا کرتا تھا۔

ہمارے اساتذہ سفر یا حضر میں اپنے خطاب کے لیے اس سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ میں چونکہ اردو زبان سے زیادہ واقف نہیں تھا، اس لیے میرے اساتذہ الرسالے کے مضامین پڑھ کر ان کا خلاصہ بتایا کرتے تھے۔ ابھی میں انہیں ماضی کی یادوں کے جھروکوں ہی میں تھا کہ اچانک مولانا کے وفات کی خبر مجھ پر اچانک بجلی کی طرح پڑی۔ ابھی میں انہی ماضی کی یادوں کے جھروکوں ہی میں تھا کہ اچانک مولانا کے وفات کی خبر مجھ پر اچانک بجلی کی طرح آ پڑی۔

میں نے مولانا کا انٹرویو اپنے ماہنامہ سمن الہی، سمدایم میں شائع کیا، اور اسی طرح مولانا کے جو مضامین ٹائمز آف انڈیا کے اسپیکنگ ٹری میں شائع ہوتے تھے، ان کا یوسف راجہ اور کلو ندیم احمد سے ترجمہ کروا کے اپنے میگزین میں شائع کرتا تھا۔ اس پر قارئین کی جانب سے بہت اچھے تاثرات موصول ہوتے تھے۔ بے شک مولانا کی وفات ایک عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی خدمت کو شرف قبولیت بخشے، اور ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔

آمین۔ کتاب "داعیِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 86۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.