Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Jab myne Maulana se pahli baar mulaqat ki

Urdu · 8 min

جب میں نے مولانا سے پہلی بار ملاقات کی، اظہر مبارک، برحروا، جھارکھنڈ۔ میں سن 2004 سے ماہنامہ "الرسالے" کا قاری ہوں، 2007 سے ماہنامے کے علاوہ مولانا کی کتابوں کو پڑھنا شروع کیا۔ اس کے بعد میں نے مولانا کی آن لائن کلاسز اٹینڈ کرنا شروع کیا، پھر میرے اندر شدید خواہش ہوئی کہ مولانا سے براہِ راست ملوں۔ آخر وہ دن بھی آیا جب کہ میں نے مولانا سے ملاقات کی۔

میری زندگی کا وہ دن بڑا ہی عجیب ہے جب مولانا کو میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ میں مولانا سے ملاقات کے لیے دہلی پہنچا، اور نظام الدین میں 5 دنوں کا قیام کیا۔ 15 جون 2012 سے 19 جون 2012 تک۔ 17 جون 2012 کو مولانا کا سنڈے لیکچر تھا۔

لیکچر سے پہلے میں مولانا سے پہلی براہِ راست تعارفی ملاقات ہوئی، کیونکہ اس سے پہلے میں نے مولانا سے ٹیلی فون پر کئی بار بات کی تھی۔ میں نے مولانا سے مختصر بات کی، جس میں مولانا نے میری ملاقات پٹنہ کے ابوالحکم دانیال صاحب سے کرائی۔ آج مولانا کا ٹاپک تھا: پولیٹیکل ایکٹیوزم اور فیوٹائل ایکٹیوزم۔ پہلی بار اس طرح ڈائریکٹ طور پر مولانا کا لیکچر سننا، زندگی کے ایک یادگار لمحے کی طرح، مجھے یاد رہے گا۔

18 جون کو نظام الدین میں میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ میں نے نظام الدین کی مسجد قلعہ میں رات کو قیام کیا تھا، سوئے اتفاق کہ وہاں میرا موبائل چوری ہو گیا۔ سفر کے دوران یہ تجربہ میرے لیے سادہ معاملہ نہ تھا۔ میں مولانا کے پاس ان کے ساتھی مولانا زکوان ندوی صاحب کے توسط سے پہنچا تھا۔

کسی وجہ سے مولانا نے 19 جون 2012 کو مجھے تلاش کی، تو مولانا زکوان ندوی کے ذریعے مولانا کو پتہ چلا کہ میرا موبائل چوری ہو گیا ہے۔ اس پر مولانا نے گڈوڈ شاپ پر میرے بارے میں یہ خبر بھجوائی کہ اگر وہ وہاں پر پہنچیں تو انہیں کہہ دیجیے گا کہ وہ آ کر مجھ سے ملاقات کریں۔ حسبِ حال میں جب 11 بجے دن کو گڈوڈ شاپ گیا تو خبر ملی کہ مولانا نے مجھے آفس میں بلایا ہے۔ جب میں وہاں گیا تو دیکھا مولانا کا لیکچر نشست عمری حضرات کے ساتھ جاری ہے، جس میں مولانا اقبال، فرہاد، اور دیگر علما صاحبان موجود تھے۔

میں خاموشی کے ساتھ جا کر وہاں بیٹھ گیا۔ لیکچر ختم ہونے کے بعد مولانا نے مجھے یاد کیا اور خود سے چل کر میرے پاس آئے، میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں، اور چوری شدہ موبائل کے بارے میں پوچھا۔ اس وقت یہ نصیحت کی کہ مسجدیں غیر مامون ہو گئی ہیں، آئندہ غفلت نہ کریں۔ اس وقت مولانا نے حدیث میں مذکور ایک پیشن گوئی یاد دلائی، جو ان الفاظ میں ہے: "مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى شُوْبُ الْإِيمَانِ لِلْبَيْهَقِ" حدیث نمبر 1763۔

یعنی مسجدیں آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت کے اعتبار سے خالی ہوں گی۔ اور پھر مولانا نے وہ کیا جو میرے لیے بہت ہی حیران کن تھا، یعنی چوری شدہ موبائل کی قیمت پوچھ کر اتنا پیسہ دیا۔ یہ واقعہ جب میں یاد کرتا ہوں تو مجھے عجیب خوشی طاری ہوتی ہے۔ یہ میرے لیے ایک خدائی مدد کا تجربہ تھا۔

اس میں سو فیصد غلطی میری اپنی تھی، میں نے موبائل کو حفاظت سے نہیں رکھا تھا۔ مولانا ایک شفیق انسان تھے، نہ معلوم ان کے اس طرح کے شفقت کا معاملہ اور کتنے ہی لوگوں کے ساتھ رہا ہوگا۔ روانگی سے قبل میں نے مولانا کو اپنی ڈائری بڑھائی کہ وہ کچھ نصیحتیں لکھ دیں۔ تو انہوں نے لکھا کہ زندگی ہوشیاری کا امتحان ہے، زندگی غفلت کا کارخانہ نہیں۔

بعد میں 2017 کو میں نے مولانا کو ایک خط لکھا، اور اس خط میں میں نے لکھا کہ مجھے مولانا کی تحریروں سے کیا فائدہ ہوا ہے۔ میرا یہ خط ماہنامہ "الرسالے" کے شمارہ فروری 2017 میں چھپ چکا ہے۔ مولانا کی تحریروں ہی کا نتیجہ تھا کہ دعوت الی اللہ میری زندگی میں شامل ہو گیا۔ میں اپنی حد تک دعوتی کام میں لگ گیا۔

اس کی کئی رودادیں بھی ماہنامہ "الرسالے" میں چھپ چکی ہیں، مثلاً مئی 2018۔ مولانا کی صحبت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ آج میں یقین میں جیتا ہوں، جبکہ اس سے پہلے یہ حال تھا کہ میرے کوئریز ختم نہیں ہوتے تھے۔ اور بظاہر میں یہ سمجھتا تھا کہ میری زندگی اسی طرح ختم ہو جائے گی، کیونکہ اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ میں جو پانا چاہتا تھا، شاید اس کو میں خود پا نہیں سکتا تھا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے مولانا کے روپ میں مجھے وہ چیز دی۔

میں نے پایا ہے کہ مولانا کے سارے افکار براہِ راست یا بالواسطہ طور پر قرآن سے ہیں۔ مولانا کے افکار کا سب سے بڑا فائدہ مجھے یہ ہوا کہ میں قرآن سے بالکل جڑ گیا۔ مجھ پر قرآن کے معانی کھلتے گئے، اور مجھے روحانی تسکین، یعنی سپرچول سولیس، ملتا گیا۔ اس سلسلے میں میرا ایک احساس یہ ہے کہ یہ صرف اور صرف مولانا ہی ہیں جن کے الفاظ آج کے ماڈرن انسان کے لیے قابلِ قبول ہیں، ورنہ آج پوسٹ سائنٹیفک ایج میں سارے کے سارے مسلم علما کی تحریریں غیر متعلق ہو گئی ہیں۔

خود میں بھی مولانا سے پہلے اسلام کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا تھا۔ میں نے مختلف علما کی کتابیں پڑھی ہیں، مگر وہ میرے پیاس بجھانے کے لیے ناکافی تھے۔ سائنٹیفک ایج نے پورے معاملات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب ٹریڈیشنل خطاب کا کوئی معنی باقی نہیں رہ گیا ہے۔

اب ضرورت تھی کہ اسلام کو از سرِ نو ماڈرن سائنٹیفک اسلوب سے لکھا جائے، اور یہ کام صرف اور صرف مولانا نے انجام دیا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کا کام اتنا بڑا ہے کہ الفاظ کم پڑ جائیں گے اعتراف کے لیے۔ اللہ ہمیں اس مشن میں اپنا حصہ بھرپور طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 83۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.