Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Khuda aur Akhirat ka Dayee

Urdu · 10 min

خدا اور آخرت کا داعی، مولانا سید اقبال احمد عمری، تمل ناڈو۔ مولانا سے میری پہلی ملاقات دہلی میں سن 2007 میں نظام الدین سی 29 پر ہوئی۔ ان دنوں میں اس تلاش میں تھا کہ عربی زبان میں قرآن اور سائنس کے موضوع پر کوئی کتاب مل جائے۔ میں نے مولانا کے شیلف پر نظر ڈالی تو وہاں کئی عربی کتابیں نظر آئیں۔

میں نے اپنی تلاش کے مطابق 2 عربی کتابیں عاریتاً مولانا سے حاصل کر لیں۔ اس ملاقات میں مولانا نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا آپ ایسا سمجھتے ہیں کہ جنت صرف حور و قصور کی جگہ ہے؟ یہ نعمتیں تو خدا کے یہاں قرآن کے الفاظ میں بطور نزول، یعنی مہمان نوازی، ہاسپیٹیلٹی کے طور پر دی جائیں گی۔ مگر جنت حقیقت میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر نہ صرف یہ کہ مادی نعمتوں کی تکمیل کا سامان ہوگا، بلکہ وہاں روحانی تقاضوں کی تکمیل کا بھی مکمل انتظام ہوگا۔

پھر مولانا نے اپنی بات کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ جیسے کسی شخص نے اپنی ساری زندگی اعلیٰ اللہ کی دریافت اور اس کی تحقیق و جستجو میں گزار دی ہو، تو اس کو اعلیٰ اللہ کی دریافت کے لیے جنت میں ایک لامتناہی میدان دے دیا جائے گا۔ اس کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ دنیا میں ایک شخص تھا جو نباتات کا عالم، یعنی بوٹانیکل پروفیسر تھا، اور وہ اس حال میں وفات پا گیا کہ مزید پھولوں کی کیمسٹری، اس کی تخلیق کا راز، اور اس کی خوشبو کی حقیقت کو جاننے کی خواہش رکھتا تھا۔ تو آخرت میں اس کو بھرپور طور پر اس کا موقع دیا جائے گا، اور مزید اس کے لیے ہر قسم کے اعلیٰ انتظامات فراہم کیے جائیں گے۔

یہ صرف ایک مثال ہے جس کے ذریعے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جنت کیسا اعلیٰ ترین مقام ہوگا، کہ وہاں ہر انسان کی خواہش کو اس کے اعلیٰ عقلی سطح پر فلفل کیا جائے گا۔ جیسے ہی میں نے مولانا کی یہ بات سنی تو میں نے بروقت قرآن کی دو آیتیں بطور استدلال تلاوت کیں، جن کا ترجمہ یوں ہے: "وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا، اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی" (سورہ نمبر 41 آیت 31)۔ وہاں موجود رہے گی ہر وہ چیز جو من کو بھاتی ہو اور نگاہوں کو لذت دینے والی ہو (سورہ نمبر 43 آیت 71)۔ یہ سن کر مولانا نے کہا کہ آپ نے بالکل صحیح ریفرنس دیا ہے۔

اور پھر اسی وقت مولانا نے میرے سر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ آپ کے لیے ایک بوڑھے آدمی کی یہ نصیحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انٹلیکچولز میں دعوتی کام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ آپ اپنے وقت کو ضائع کیے بغیر خوب انگریزی لٹریچر کا مطالعہ کریں تاکہ ملائے قوم میں دعوتی کام کرنے کے قابل بن سکیں۔ مجھے یہ بات سن کر بہت ہمت ملی کہ مجھ میں بھی انٹلیکچولز میں دعوتی کام کرنے کا کچھ پوٹینشل موجود ہے۔ اب تک کسی نے بھی میرے بارے میں ایسی بات نہیں کہی تھی۔

اسی وقت سے میرے ذہن میں ایک پراسیس جاری ہو گیا کہ میں بھی مدعو کی نسبت سے دعوت کے لوور ورژن اور ہائیر ورژن کو جاننے کی کوشش کروں۔ اسی تجسس نے مجھے مولانا تک پہنچایا۔ مولانا سے میری دوسری ملاقات 2009 عیسوی میں نظام الدین ویسٹ نئی دہلی میں ان کے آفس میں ہوئی۔ میں اس وقت دہلی میں منعقد ایک دعوتی کیمپ میں بحیثیت مہاجر شریک تھا۔

اس زمانے میں اس قسم کے دعوتی کیمپ ہندوستان بھر میں منعقد ہوتے رہتے تھے، جن میں میرے درس کا موضوع العقیدۃ فی اللہ ہوا کرتا تھا، یعنی اللہ کے بارے میں ہمارا عقیدہ کیا ہونا چاہیے، اور پھر یہ کہ دعوت الی اللہ کا منہج کیا ہونا چاہیے۔ مگر میں خود ایک عرصے سے اس بات کو لے کر پریشان رہتا تھا کہ اللہ کی صحیح معرفت کیا ہے۔ اس دیاد ایمان اور خدا سے زندہ تعلق پیدا کرنے کا راستہ کیا ہے۔ میں اپنے اندر خدا کے زندہ شعور کی بہت زیادہ کمی محسوس کرتا تھا۔

میری فطرت کی گہرائیوں سے کچھ بنیادی سوالات اٹھتے تھے جن کا جواب پانے کے لیے مجھے کسی کی تلاش تھی۔ چونکہ مادر علمی جامعہ دارالسلام عمر آباد نے اپنے ابنا کی یہ تربیت کی تھی کہ ہر مکتب فکر کے علماء سے استفادے کے لیے آدمی کو اپنا ذہن کھلا رکھنا چاہیے۔ لہٰذا اس سفر میں میرے اندر مولانا وحید الدین خان صاحب سے بھی ملاقات کا عزم پیدا ہوا، اور ارادہ ہوا کہ میں آپ کے سامنے اپنے ان فطری سوالات کو پیش کروں، شاید کوئی جواب مل جائے۔ ملاقات کے بعد میں نے آپ کے سامنے اپنی جستجو رکھی، اور میں نے کہا کہ اس باب میں آپ میری رہنمائی فرمائیں، اور ساتھ میں یہ بھی بتائیں کہ میں اس موضوع پر کس طرح تیاری کروں۔

عین اسی وقت جب میں مولانا کے سامنے اپنے سوالات رکھ رہا تھا، مولانا کے ہاتھ میں سورج گرہن اور چاند گرہن کا ایک نقشہ موجود تھا۔ مولانا نے اس نقشے کو سامنے رکھ کر مجھے سمجھاتے ہوئے کہا کہ یہ مختلف حجم کے اجسام ہیں۔ جب یہ تین ڈفرنٹ سائز کے ماوسے سیکھی سیدھ میں آ جاتے ہیں تو سورج گرہن اور چاند گرہن جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے مولانا زار و قطار رو رہے تھے، اور باآواز بلند یہ کہہ رہے تھے کہ وہ خدا کتنی عظیم قدرت کا مالک ہوگا جو سورج، چاند اور زمین کو ایک ہی سیدھ میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔

اس قسم کا واقعہ کوئی سادہ واقعہ نہیں ہے۔ یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ لامحدود اسپیس میں مختلف سائز کے اجسام کا ایک سیدھ میں آ جانا انتہائی حد تک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ اس قسم کے واقعے کا ظہور دراصل کائنات میں ایک برتر ہستی کی مداخلت کو بتا رہا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ نے اس واقعے کو آیت من آیات اللہ کہا (صحیح مسلم حدیث نمبر 914)۔

یعنی یہ واقعہ خدا کی عظمت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ یہ میرا پہلا تجربہ تھا جب میں نے مولانا کو عظمت خداوندی کے احساس سے بہت زیادہ تھرل میں دیکھا، اور میرے لیے یہ منظر بڑا ہی تعجب خیز تھا۔ کیونکہ میں ایک طویل عرصے سے اللہ کے بارے میں درس دے رہا تھا، مگر نہ تو کبھی میرے رونگٹے کھڑے ہوئے اور نہ ہی میری آنکھوں سے کبھی اشک جاری ہوئے۔ مولانا کی مجلسوں میں مسلسل شرکت کرنے کے بعد ہی مجھ پر یہ راز کھلا کہ یہ عظیم کائنات اور اس میں رونما ہونے والے واقعات درحقیقت خدا کی عظمت کا عملی اظہار ہیں۔

مگر ہمارا کیس یہ ہے کہ ہمیں اس کا شعوری ادراک نہیں ہے۔ اس لیے ان غیر معمولی واقعات میں ہمیں خدا کی عظمت کے غیر معمولی پہلو نظر نہیں آتے۔ اگر تخلیقات میں خالق کی عظمت کا ادراک کریں تو کیفیات نصیب ہوتی ہیں، ایمان بڑھتا ہے۔ مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میں نے اب تک صرف مسائل مسائل عقیدے کو اپنا موضوع بنا رکھا تھا۔

تقریباً 10 سال سے مجھے مولانا کی ڈائریکٹ تربیت اور الیکٹرانک صحبت کا موقع ملا۔ میں نے جتنا زیادہ مولانا کو اللہ کا شعوری ذکر کرنے والا پایا ہے، کسی اور کو نہیں پایا۔ آج بظاہر مولانا ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر مولانا نے ہم کو جس زندہ ہستی سے جوڑا ہے، اور مسلسل طور پر جس سے جڑے رہنے کے لیے تخلیقی معرفت کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے، اس کے ذریعے کلیمات اللہ کی دریافت کا لامحدود طریقہ مل گیا ہے۔ مولانا کے ساتھ ابتداء میں میرے جو دو ذاتی تجربے ہوئے ہیں، اس سے یہی پتہ چلا کہ مولانا خدا اور آخرت کی طرف بلانے والے داعی ہیں، وہ کسی اور چیز کے داعی نہیں۔

اس دور کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت جو ہم کو حاصل ہوئی ہے، وہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس ایک عارف باللہ کی دریافتیں، اس کی تصویر، اس کی آواز، آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں محفوظ ہیں۔ کتابوں کی شکل میں بھی ایک ایسا ذخیرہ محفوظ ہے جو ہماری تربیت کا اہم ذریعہ ہے۔ مولانا نے مشن کو اور اپنی ٹیم کو اس زندہ ہستی کے حوالے کر دیا جو الحی القیوم ہے۔ اب مولانا کے بعد ہم معرفت کے سفر کو اس احساس کے ساتھ آگے بڑھائیں کہ ایک دن ہم کو بھی مرنا ہے، خدا کے سامنے پیشی ہونے والی ہے۔

اور دوسری طرف اللہ نے مولانا کے ذریعے جو مشن شروع کیا ہے، اسے بغیر اختلاف کے ربانی بنیادوں پر آگے بڑھائیں۔ کتاب داعی اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 79۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.