← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Bade Abba
Urdu · 5 min
بڑے ابّا، مس فہمیدہ خان فیض آباد۔ انسان دنیا میں بہت کچھ حاصل کرتا ہے: دولت، پیسہ، پراپرٹی، اور ہر قسم کی مٹیریل چیزیں۔ میری زندگی کی سب سے بڑی دولت مولانا وحید الدین خان صاحب، یعنی بڑے ابّا ہیں۔ انہوں نے میری زندگی کو اندھیرے سے اجالے کی طرف لوٹایا ہے۔
میری زندگی انسانوں کے لیے وقف ہو کر رہ گئی تھی، مگر وہاں مجھے کچھ نہ ملا۔ میری روح ایک سوکھے پیڑ کی طرح ہو چکی تھی۔ پھر مولانا کی رائٹنگز اور لیکچرز نے میری روح کو سیچا، اور اس میں ہریالی آئی۔ میری زندگی کا رخ انسانوں سے ہٹ کر خدا سے جڑ گیا۔
مولانا کے چھوٹے چھوٹے جملوں نے میرے دماغ کی پرتیں ہٹائی ہیں، جس کو میں پہلے نہیں سمجھ پائی تھی۔ مولانا نے میری ڈی کنڈیشننگ کی ہے۔ جب میں مولانا سے ملی تو میں بہت غمگین رہتی تھی۔ میرے والد کا جلد ہی انتقال ہو گیا تھا۔
میں اکثر روتی رہتی تھی۔ میری یہ حالت دیکھ کر مولانا نے کہا کہ آنسو بہت قیمتی چیز ہے، وہ صرف خدا کے لیے ہے۔ اس دن میری سمجھ میں آیا کہ ہمارا قیمتی آنسو کسی برتر ہستی کے لیے ہی ہو سکتا ہے، دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے نہیں۔ ایک بار مولانا نے اپنی کلاس میں مجھ سے کہا تھا کہ آپ اسی طرح دنیا سے چلی جائیں گی، خدا کے لیے کچھ نہیں کریں گی۔
اس بات نے مجھے ہلا دیا کہ میں نے زندگی میں لوگوں کے لیے بہت کچھ کیا، مگر ریٹرن میں مجھے ذہنی سکون تک نہ ملا۔ اور جو میرا خدا جو مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، جس نے میری ہر مشکل کو آسان کیا اور مصیبت سے بچایا، اپنے اس مالک کے لیے ہی میں نے کچھ نہیں کیا۔ پھر مولانا کے ذریعے مجھے خدا کے مشن میں کام کرنے کا موقع ملا۔ میری زندگی کا آدھا حصہ بے مقصد گزر گیا، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بچا لیا، جس کا ذریعہ مولانا صاحب بنے۔
میری زندگی نماز، روزہ، حج کرنے کے بعد بھی خدا کے بغیر تھی۔ مگر مولانا صاحب کی کتابیں پڑھنے کے بعد زندگی میں خدا کا رنگ آنے لگا۔ میرے سوچنے سمجھنے کا طریقہ خدا سے شروع ہو کر خدا پر ختم ہونے لگا۔ میں ہمیشہ یہی سمجھتی تھی کہ میں کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوں، مگر مولانا صاحب کے مشن سے یہ موقع ملا کہ میں بھی خدا کے لیے کچھ کر سکتی ہوں۔
اب مجھے زندگی جینے کا مقصد مل گیا ہے۔ جب تک میری زندگی ہے، ان شاء اللہ سی پی ایس مشن میری پرائرٹی رہے گی۔ مولانا صاحب اب اس دنیا میں نہیں ہیں، مگر ان کی رائٹنگز، ان کے لیکچرز مجھے یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ میرے پاس ہیں، مجھے گائیڈ کر رہے ہیں۔ مولانا صاحب نے خدا کے بندوں کو جنت کا راستہ دکھایا ہے، جو ایک سچے خدا کے بندے کو کرنا چاہیے۔
مولانا 26 تا 28 جون 2014 میں سی پی ایس ٹیم کے ساتھ میرے گھر آئے تھے۔ اس وقت کو میں اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت سمجھتی ہوں۔ اس دوران میں نے جنت کا تجربہ کیا کہ جنت میں کیسا ماحول ہوگا۔ ہر وقت خدا کی گلوری کا احساس ہونے لگا۔
مولانا کے ساتھ ایسا قیمتی وقت میری زندگی میں پھر نہیں آئے گا، مگر میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ آخرت میں مجھے اس کا تجربہ کرا دے۔ اپنی زندگی میں میں نے کتنے ہی اپنوں کی موت کو دیکھا، مگر مولانا کے انتقال کی خبر میرے لیے ایسی تھی جو میں کبھی بھول نہیں سکتی۔ اس لمحے میں نے محسوس کیا کہ میری ہارٹ بیٹ تھوڑی دیر کے لیے رک گئی ہے، اور میں نے بہت دیر کے لیے یہ ریئلائز کیا کہ مولانا واقعی اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ شاید غم اور تکلیف کا اتنا بڑا تجربہ مجھے پہلی بار ہوا تھا۔
مولانا صاحب کی اہمیت کو دنیا والے سمجھیں یا نہ سمجھیں، مگر مجھے پوری امید ہے کہ خدا نے اپنے فرشتوں کے ساتھ مولانا صاحب کا وارم ویلکم کیا ہوگا۔ کتاب: داعی اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 77۔