خس و خاشاک سے اس نے کیے برق و شرر پیدا۔ مولانا وحید الدین خاں، 1925 تا 2021 عیسوی۔ حیدر میواتی ندوی۔ خدا نے اپنی قدرت سے کیے شمس و قمر پیدا۔
جہاں آباد میں کتنے ہوئے لال و گوہر پیدا۔ وحید الدین خاں صاحب یقیناً مردِ حق بھی تھا، ہزاروں میں کوئی ہوتا ہے ایسا رہبر پیدا۔ بہت سلجھی ہوئی وہ گفتگو فرمایا کرتے تھے، دلوں میں اس کو سن کے ہو ہی جاتا تھا اثر پیدا۔ جہاں سے اہلِ دل، اہلِ یقیں اٹھتے ہی جاتے ہیں کہ کم ہوتے ہیں سچے عاشق، خیرالبشر پیدا۔
امین و پاسباں علمِ نبوت کا انہیں پایا، ہوئے اس کی نظر سے بے شمار اہلِ نظر پیدا۔ یقیں محکم، عمل پیہم تھا وصفِ خاص اک اس کا۔ خس و خاشاک سے اس نے کیے برق و شرر پیدا۔ ہمارے گھر میں وہ اک بار مہمان بن کے آئے تھے، کیے جس نے زمانے میں الگ شام و سحر پیدا۔
بنا مالی کے اب گلشن بھی ویرانہ سا لگتا ہے، کیے تھے اس نے دل کی آہ سے گل ہائے تر پیدا۔ تھکا ہارا مسافر سائے رحمت میں جا ٹھہرا، خدا سے آہ و زاری کر کر کیا عزمِ سفر پیدا۔ تھکا ہارا مسافر سائے رحمت میں جا ٹھہرا، خدا سے آہ و زاری کر کیا عزمِ سفر پیدا۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔
بتاؤ سانحۂ حیدر یہ کس کا پیش آیا ہے، وحیدِ عصر کے غم میں ہوئی ہے چشم تر پیدا۔ yusufhaider4313@gmail.com کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 76۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.