← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Khud Ehtesabi
Urdu · 7 min
خود احتسابی۔ حسن نثار، پاکستان۔ گزشتہ چند سالوں میں بہت سے مہربان قارئین سے یہ شکوہ سن چکا ہوں کہ کبھی کبھی میں خود احتسابی و خود ملامتی میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل جاتا ہوں۔ دلچسپ بات یہ کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اسے بہت پسند کرتے ہیں، کیونکہ برسوں باہر رہتے ہوئے ان کی تربیت کچھ اور انداز میں ہو چکی ہوتی ہے، اور وہ خاصے حقیقت پسند واقع ہوتے ہیں۔
جبکہ یہاں ہم "ہم سا ہو تو سامنے آئے" والا مائنڈ سیٹ عروج پر ہے، اخلاقی انحطاط اپنے عروج پر ہے، لیکن خود فریبی اس سے بھی کہیں زیادہ عروج پر ہے، اور ہم ملی نغموں کے نرغے میں ہیں۔ اور ہم ملی نغموں کے نرغے میں ہیں۔ میں نے کچھ فارمز پر اپنی اس نااہلی اور کمزوری کی وضاحت کرتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اپنا وہ ہے جو آپ کو آپ کی خامیوں، کجیوں اور کمزوریوں سے آگاہ کرے۔ اچھا باپ ہو یا عمدہ اور ذمہ دار استاد، اپنی اولاد یا شاگردوں کی شان میں قصیدے نہیں کہتا، بلکہ انہیں ان کی کمزوریوں کی طرف متوجہ کر کے ان پر قابو پانے کے مشورے دیتا ہے، تاکہ وہ عملی زندگی کے امتحان میں بہتر طریقے سے پرفارم کر سکیں۔
بہرحال، پچھلے دنوں مولانا وحید الدین خان صاحب مرحوم و مغفور کی ایک تحریر نظر سے گزری جس کا موضوع بھی کچھ ایسا ہی تھا: "جو دوست مولانا کے بارے میں نہیں جانتے"۔ ان کی معلومات کے لیے پہلے تو یہ عرض ہے کہ میں ان کا زبردست مداح تھا، ہوں اور رہوں گا، کیونکہ مولانا اسلام کے ان مفکرین میں سے تھے جو "تھرڈ ڈائمینیشن" دیکھنے کی بصیرت رکھتے اور آرٹ آف تھنکنگ، بلکہ اوریجنل تھنکنگ کی علامت تھے، اور گھسی پٹی بات سے گریز کرتے تھے۔ گھسی پٹی بات سے گریز کرتے تھے۔ کوئی ایسے شخص سے اتفاق کرے یا اختلاف، ان کا اصل حسن اور کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ قاری کو خود سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے، اور یہی کسی خیال و تحریر کا اصل کمال ہوتا ہے کہ وہ آپ کی سوچ کو ٹرگر کر دے۔
مولانا وحید الدین خان 1925 کو یو پی یعنی انڈیا کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے، اور چند ہفتے قبل ہی اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی تحریروں میں بین المذاہب مکالمہ اور امن کا ذکر زیادہ ہے۔ خود احتسابی کے حوالے سے ان کی یہ تحریر پیشِ خدمت ہے: لکھتے ہیں، "ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی، وہ کتابت کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، 'میں الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں، مجھ کو الرسالہ بہت پسند ہے، مگر آپ کی ایک بات مجھے کھٹکتی ہے۔
آپ اکثر مسلمانوں کی کمیوں کا ذکر کرتے ہیں، اس سے تو مسلمانوں میں احساسِ کمتری پیدا ہو جائے گی۔ ' میں نے کہا کہ آپ ایک کاتب ہیں، فرض کیجیے کہ آپ حرف جیم اور عین کا دائرہ صحیح نہ بناتے ہوں۔ اب اگر آپ کے استاد آپ کی اس کمی کو بتائیں تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ استاد صاحب میرے اندر احساسِ کمتری پیدا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا، نہیں۔
میں نے کہا، اسی ذاتی مثال سے آپ الرسالے کے ان مضامین کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے مضامین کا مقصد مسلمانوں میں احساسِ کمتری پیدا کرنا نہیں، بلکہ احساسِ اصلاح پیدا کرنا ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ اپنی کمیوں کی اصلاح کیے بغیر کوئی شخص یا گروہ اس دنیا میں ترقی نہیں کر سکتا۔ عربی زبان کا ایک مثل ہے کہ "جو شخص تم کو نصیحت کرے، وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرے"۔
یہ مثل سو فیصد درست ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی کے ساتھ خیرخواہی رکھتا ہو، وہ یہی کرے گا کہ میں وہ یہی کرے گا کہ وہ اس کی کمیوں کی نشاندہی کرے اور اس کی کوتاہیوں پر اس کی فہمائش کرے۔ یہی سچے مصلح کا طریقہ ہے۔ قرآن میں گھاٹے یعنی خسر سے بچنے کے لیے جو لازمی صفات بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک ضروری صفت "تواصی بالحق" اور "تواصی بالصبر" ہے۔
یعنی آپس میں ایک دوسرے کو حق اور صبر کی نصیحت کرتے رہنا۔ وہی گروہ اس دنیا میں نقصان اور بربادی سے بچ سکتا ہے جس کے افراد میں یہ روح زندہ ہو کہ جب وہ اپنے بھائی کو حق کے راستے سے ہٹتا ہوا پائے تو فوراً اس کو ٹوکے، اور وہ جب بھی اس کو بے صبری کی طرف جاتا ہوا دیکھے تو اس کو صبر کی اہمیت سے آگاہ کرے۔ سورہ العصر۔ صحابہ کرام کے اندر نصیحت کرنے کا جذبہ بھی پوری طرح موجود تھا، اور نصیحت سننے کا بھی۔
حضرت عمر فاروق نے کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کیا، حضرت علی کو اس میں غلطی نظر آئی، انہوں نے اس پر ٹوکا۔ حضرت عمر اگرچہ خلیفہ اور حاکم تھے، آپ نے فوراً اسے مان لیا اور کہا، "اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا"۔ قارئین، امید ہے مولانا وحید الدین خان مرحوم جیسی شخصیت کی اس مختصر سی تحریر کے بعد ہم کوتاہیوں کی نشاندہی کو ذرا اور انداز میں دیکھنا شروع کر دیں گے۔ کتاب "دائی اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 74۔