مولانا وحید الدین خان مسلم دنیا اور دینِ اسلام کی مایہ ناز شخصیت، اور ایک ممتاز اسلامی اسکالر تھے جنہوں نے برصغیر ہند و پاک کے دل و دماغ کو اپنی تحریروں سے فتح کیا۔ وہ ایک سیلف اسٹائل شخصیت تھے، ایک مفکر، اسپیکر، سب سے بڑھ کر ایک کامل معنی میں داعیِ اللہ تھے۔ جو لوگ ان کے کچھ نظریات اور ان کی مسلم پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں، وہ لوگ بھی ان کی فہم و عقل، ان کی فکری مضبوطی، اور اسلامی علوم پر ان کی دسترس کا اعتراف کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کی ایک ٹیم تیار کی ہے جو ان کے مشن کے سفر کو جاری رکھ سکتے ہیں۔
اللہ رب العزت ان کے نیک اعمال کو قبول فرمائے اور انہیں جنت کی زندگی عطا فرمائے۔ وہ ان کے شاگردوں کو، رضاکاروں کو، مولانا کے کام کو جاری رکھنے کا شدید احساس، ہمت، حوصلہ اور تحریک پیدا فرمائے۔ آمین۔ شیخ اے سی آغا محمد، ڈائریکٹر جامعہ نظیمیہ، بیرو والا، سری لنکا۔
کتاب: "داعیِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 73۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.