آہ، بابا جی سب کے مولانا وحید الدین خان صاحب، جبکہ میرے بابا جی اللہ کے مہمان بن گئے۔ رب کی مرضی کے آگے بھلا کس کی مجال؟ ہیرے نگینے، عظیم الشان لوگ دنیا سے اٹھے جا رہے ہیں۔ ابھی خ- خبر غم، خبرِ غم ملی ہے: بابا جی بھی رخصت ہوئے۔
آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، بہت بہت دکھ محسوس کر رہا ہوں۔ بابا جی میرے استادِ محترم تھے، میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ مظہر صدیقی، ملتان۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 73۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.