Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Phaldar Darakht ke Niche,Bitey Kuch Lamhaat

Urdu · 13 min

پھلدار درخت کے نیچے، بیتے کچھ لمحات۔ ڈاکٹر محی الدین غازی، جماعت اسلامی ہند۔ میرے خوبصورت بچپن کی ایک حسین یاد یہ ہے کہ جامعۃ الفلاح کے چمن میں کالے توت کا ایک گھنا درخت ہوا کرتا تھا۔ میں اس کے نیچے جاتا، وہاں بہت سے توت کھانے کو ملتے۔

کچھ قریبی ٹہنیوں سے، اور کچھ زمین پر گرے ہوئے۔ نوجوانی میں قدم رکھا تو پھلدار درختوں جیسی شخصی یاد سے ملاقات ہونے لگی۔ ان کی مجلس میں بیٹھ کر وہی احساس ہوتا جو بچپن میں کالے توت کے پیڑ کے نیچے توت چنتے ہوئے ہوتا تھا۔ مولانا وحید الدین خان میرے لیے پھلوں سے لدے ہوئے ایک درخت کی مانند تھے۔

میں نے ان کی صحبت میں جتنے لمحے گزارے، جتنے لمحات گزارے، ان کی شاخِ فکر سے شیریں پھلوں کو چنتے ہوئے ہی گزارے۔ مولانا کی خوبی یہ تھی کہ ان کے یہاں خزاں کا موسم کبھی نہیں آتا، اور کبھی یہ مایوسی بھی نہیں ہوتی کہ ابھی تو پھل آئے نہیں، یا آئے تو ابھی پکے نہیں۔ جب بھی جائیں، شیریں پھلوں سے لدی ہوئی شاخیں دل خوش کر دیتیں اور طبیعت کو سیر کر دیتیں۔ مولانا کی باتیں سننے میں بڑی عجیب و غریب لگتیں، لیکن عمل کرو تو بڑی شاندار اور عملی لگتیں۔

ایک بار کہنے لگے کہ بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو ماں باپ اپنی تعلیم، ریسرچ، اور بہت سے دیگر مفید کام اس وجہ سے ملتوی کر دیتے ہیں کہ بچہ روتا ہے اور انہیں مصروف رکھتا ہے۔ اگر آپ بچے کو گھر میں تنہا چھوڑ جائیں، یا گھر میں رہتے ہوئے اپنے کام کرتے رہیں، تو بچہ روتے روتے مر نہیں جائے گا، یا تو تھک کر سو جائے گا، یا پھر کھیلنے میں مصروف ہو جائے گا۔ میں نے اپنی ذاتی زندگی میں اس اصول سے بہت فائدہ اٹھایا۔ یہ مولانا کا انوکھا اور منفرد انداز تھا۔

وہ والدین کو مشورہ دیتے کہ بچے کے رونے کو وجہ بنا کر اپنی تعلیم و ترقی کے عظیم منصوبے موقوف نہ ہونے دیں۔ وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے کہ فرقہ پرستوں کی پیدا کی ہوئی شرپسندی میں الجھ کر اپنے نصب العین سے غافل نہ ہو جائیں۔ ان کے نزدیک بچہ رونے سے مر نہیں جاتا ہے، اور کوئی قوم دوسروں کی شرارتوں کو نظرانداز کرنے سے ذلیل و رسوا نہیں ہو جاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کا مشورہ نہ والدین کو بھاتا اور نہ ہی ملت کو اپیل کر پاتا۔

عجیب بات یہ ہے کہ مولانا کے مشوروں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے والی جذباتی ملت نے جب بھی مولانا کے مشوروں پر عمل کیا، کوئی نقصان نہیں اٹھایا۔ ایک دن میں نے مولانا کو بتایا کہ میں نے لفظ "ارہاب" پر ایک تحقیقی مضمون لکھا ہے جو اردو میں مجلہ "تحقیقات اسلامی" اور عربی میں "کویت کے المجتمع" میگزین میں شائع ہوا ہے۔ مولانا نے میری پوری بات غور سے سنی اور پھر کہا کہ تم کو یہ اہم تحقیق انگریزی میں لکھنی چاہیے تھی۔ میں نے کہا مجھے انگریزی میں لکھنا نہیں آتا۔

کہنے لگے یہ تو تمہاری بہت بڑی کمزوری ہے، اسے فوراً دور کرو۔ روزانہ ایک گھنٹے تک غور سے انگریزی اخبارات اور رسائل کا مطالعہ کرو۔ یہ کمزوری اس طرح دور ہو سکتی ہے: تم اردو میں لکھو گے تو ایک محدود حلقہ پڑھے گا۔ وہی باتیں انگریزی میں لکھو گے تو بہت بڑے حلقے تک پہنچے گی۔

میں نے مشورہ بہت غور سے سنا، لیکن اس پر عمل نہ کر سکا۔ ابھی بھی عمل کرنے کا موقع ہے، لیکن کاہلی ابھی بھی راستہ روکے کھڑی ہے۔ ایک بار کی بات ہے، مولانا آزاد کے بارے میں کہنے لگے کہ میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے فیصلہ کرنے میں غلطی کی تھی، مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کانگریس کے ہاتھوں بک گئے تھے۔ کیونکہ پہلی بات غلط ہوئی تو مجھے گناہ نہیں ملے گا، لیکن دوسری بات غلط ہوئی تو میں گنہگار ہو جاؤں گا۔

پھر انہوں نے کہا کہ لوگ میرے بارے میں بھی یہی بات کیوں نہیں کہتے کہ میں نے فیصلہ کرنے میں غلطی کی؟ یہ کیوں کہتے ہیں کہ میں بک گیا ہوں؟ یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ایس آئی او آف انڈیا نے ایک ملک گیر مہم منانے کا فیصلہ کیا۔

مہم کا عنوان تھا "جاگو، حساب کا وقت قریب آ گیا"۔ مہم کے پیغام کو ایک فولڈر کی صورت میں لوگوں تک پہنچانا تھا۔ فولڈر کے لیے مواد کی ضرورت تھی، جسے تیار کرنے کی ذمہ داری میرے سر آئی۔ حسنِ اتفاق کہ انہی دنوں مولانا کے یہاں جانے کا موقع نکل آیا۔

مجلس سے اٹھتے ہوئے خیال آیا اور میں نے مہم کا تذکرہ کیا، اور مولانا سے درخواست کر ڈالی کہ فولڈر کی عبارت لکھ دیں۔ مولانا نے کچھ کہا نہیں، مسکراتے ہوئے رخصت کر دیا۔ دو دن بعد مولانا کا فون آیا۔ کہنے لگے میرے دوست کے بیٹے نے مجھے ایک کام دیا، اور کام دے کر خود بھول گیا۔

فولڈر کی عبارت تیار ہو گئی ہے، آ کر لے جاؤ۔ اگر آج آنا ہے تو ابھی فوراً آ جاؤ، مجھے ایک پروگرام کے لیے نکلنا ہے۔ میں فوراً آٹو میں بیٹھا اور روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچا تو مولانا گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔

میں نے کہا کیا مجھے ساتھ چلنے کی اجازت ملے گی؟ انہوں نے کہا ہاں، اور میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ یہ جانے بغیر کہ کہاں جا رہے ہیں۔ ہماری منزل "ستیسائی انٹرنیشنل سینٹر" کی عمارت تھی۔

وہاں ملک بھر کے ملٹری اسکولوں کے پرنسپل حضرات کا روحانی تربیت پر ورکشاپ چل رہا تھا۔ مجھے تجسس تھا کہ مولانا اسلام کا تعارف کس طرح پیش کرتے ہیں۔ مولانا کی وہاں اسلام کے تعارف پر تقریر ہوئی، اور انہوں نے اسی طرح اسلام کو پیش کیا جس طرح غیر مسلموں کی مجلس میں عام طور سے پیش کیا جاتا ہے۔ بس خاص بات یہ تھی کہ تقریر کے دوران مولانا پر رقت طاری تھی، اور سب کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔

مولانا نے دعوتی فولڈر کے لیے جو عبارت مجھے دی، وہ نہایت اثر انگیز تھی۔ ہم نے اسے فولڈر کی شکل دی، ہندی اور انگریزی میں ترجمہ کرایا، اور پورے ملک میں اس کے ذریعے شاندار دعوتی مہم انجام دی۔ ایک دن میں نے انہیں بتایا کہ میں جماعت اسلامی کا رکن بن گیا ہوں۔ مسکرانے لگے۔

کہنے لگے مجھے تمہارے رکن بننے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن ایک نصیحت ضرور کروں گا: رکنیت کے تمام تقاضے حسن و خوبی کے ساتھ انجام دینا، لیکن اپنی زندگی کا منصوبہ خود بنانا۔ اس کا انتظار مت کرنا کہ جماعت تمہیں تمہاری زندگی کا منصوبہ بنا کر دے گی۔ جو لوگ اپنی زندگی کے منصوبے کے لیے جماعت پر انحصار کرتے ہیں، وہ پوری زندگی بغیر منصوبے کے گزار دیتے ہیں۔ بعد میں میں نے بہت سے لوگوں کو ایسے منصوبے کا منتظر پایا۔

میں نے مولانا سے خوب بحثیں کی ہیں۔ سب سے پہلے ایس آئی او آف انڈیا کے کل ہند تربیتی کیمپ میں، اس کے بعد ان کے گھر پر، اس کے بعد ای میل سے، اور آخر میں ان کے فیس بک پیج پر۔ لیکن عالم بن کر نہیں، بلکہ ایک نٹ کھٹ بچے کی طرح، جو اپنی شرارتوں سے غصہ بھی دلاتا اور دل بھی لبھاتا۔ میں مولانا کے سامنے بچہ بنا رہتا، اور وہ مجھے بڑا دیکھنا چاہتے۔

ایک ملاقات میں انہوں نے والد محترم سے کہا آپ کا یہ بچہ بڑا آدمی بن سکتا ہے، لیکن یہ اپنے آپ سے ناواقف ہے۔ اسے چاہیے کہ اپنے آپ کو دریافت کرے۔ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے زندگی میں ایسے چند بزرگ ملے جنہوں نے اپنے حسنِ نظر سے میرے اندر بڑا آدمی بننے کا امکان دیکھا، اور میرے دل میں اس کا شوق پیدا کیا۔ ایاز اپنے سلسلے میں کبھی کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوا، لیکن ان بزرگوں کی خوبصورت توقعات اس کی زندگی کے لیے زادِ راہ ضرور بنی رہیں۔

جب میں نے روزگار کے لیے دبئی جانے کا پروگرام بنایا تو اپنی اہلیہ کے ساتھ ان سے ملنے گیا۔ اتوار کے دن ان کا پروگرام ہوتا تھا۔ ہم کچھ تاخیر سے پہنچے۔ پروگرام کے بعد قریب جا کر ملاقات کی۔

اہلیہ کا تعارف کرایا۔ انہوں نے کہا سنا ہے تم دبئی جا رہے ہو۔ آخر اس قبرستان میں دفن ہونے کہاں جا رہے ہو؟ آخر اس قبرستان میں دفن ہونے کہاں جا رہے ہو؟

میں نے کہا ان شاء اللہ جلد واپس آ جاؤں گا۔ مایوسی سے مجھے دیکھا اور کہنے لگے قبرستان سے کبھی کوئی واپس آیا ہے؟ پھر پوچھا تم تاخیر سے کیوں پہنچے؟ میں نے بہانہ بنایا آٹو ملنے میں دیر ہو گئی تھی۔

کہنے لگے تم دبئی جا رہے ہو، وہاں یہ بہانہ کام نہیں آئے گا۔ وہاں تمہاری وقت کی پابندی کو دیکھ کر تمہاری کارکردگی ناپی جائے گی، خواہ عملاً کارکردگی کچھ نہ ہو۔ دبئی گیا تو مولانا کی بات کو حرف بہ حرف درست پایا۔ مولانا نے ہم دونوں کو ایک نصیحت کی کہ ہمیشہ ایک دوسرے کو اپنا آئیڈیل سمجھنا۔

تمہارے رشتے خوشگوار رہیں گے۔ میری بیوی اس مشورے پر ابھی تک سختی سے عمل پیرا ہے۔ دو سال میں دبئی سے واپس ہو جانے کا ارادہ تھا، مگر قبرستان کی خاردار سنہری جھاڑیاں بری طرح جکڑے ہوئے تھیں اور کسی طرح نکلنے نہیں دے رہی تھیں۔ آخر کار آٹھ سال بعد لوٹا۔

مولانا کی خدمت میں پہنچا۔ سوچا شاید مولانا مجھے بھول گئے ہوں گے۔ نام بتایا۔ کہنے لگے تمہارا نام میرے دل پر پتھر کی طرح نقش ہے۔

میں نے کہا قبرستان سے لوٹ آیا ہوں۔ مولانا نے حسبِ معمول پوچھا اپنی تازہ دریافت پیش کرو۔ اس مرتبہ میں پہلے سے سوچ کر آیا تھا، جھٹ سے بتا دی۔ پھر مولانا نے سورہ فاتحہ کے مضامین پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی دریافتیں بتائیں۔

دیر تک گفتگو رہی۔ مجلس میں برادران ابو الاعلی سید اور مولانا صباح الدین ملک صاحب بھی شامل تھے۔ مولانا نے بتایا کہ انہوں نے طے کر لیا ہے کہ اب وہ صرف انگریزی میں لکھیں گے۔ اس میں وہ زیادہ خوشی محسوس کر رہے ہیں۔

ان کو قارئین کی نئی دنیا ملی ہے۔ میں ڈر رہا تھا کہیں مولانا یہ نہ پوچھ لیں کہ تم نے اپنی انگریزی اچھی کر لی؟ چلتے ہوئے مولانا کی صاحبزادی ڈاکٹر فریدہ خانم نے کہا مولانا کئی دنوں سے بیمار تھے، آج تم لوگوں سے مل کر ترو تازہ ہو گئے۔ میں نے ان کے ساتھ ملاقات کی خبر فیس بک پر ڈالی۔

بعض احباب نے سوال کیا کہ آپ نے ان کے فکری انحراف کی اصلاح کی کوشش کی؟ مجھے ان کی سادگی پر ہنسی آئی۔ انہیں کیا پتا کہ میں تو شہتوت کے پیڑ کے نیچے شہتوت کھانے گیا تھا۔ مولانا وحید الدین خان اس دنیا کے تعظیم کاروں میں سے تھے۔

اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اونچا مقام عطا فرمائے۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 69۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.