موت العالم، موت العالم۔ خواجہ عبدالرسول سجادہ نشین خان خاں جنیدیہ۔ مولانا وحید الدین خاں بھی چل دیے، وحید الدین خاں صاحب ایک بے نام صوفی تھے، ایک ایسے صوفی جنہوں نے کبھی لفظ "صوفی" استعمال نہ کیا، لیکن انہوں نے جو تعلیمات اپنی گراں قدر کتب میں چھوڑی ہیں وہ درحقیقت اصل تصوف ہے۔ انہوں نے علمائے ظواہر کی سیاسی تعبیرِ دین سے ہٹ کر، دین کا مخاطب فرد اور فقہی موشگافیوں کے بجائے تزکیہ نفس کو قرار دیا۔
ان کا سارا وقیع علمی کام انسان کے اخلاقی وجود کو مخاطب کرتا ہے۔ آپ نے جدید اذہان کو دین کی حکمت سمجھانے کے لیے خالصتاً ادیبانہ اور سائنسی اسلوب اختیار کیا۔ مولانا کی تفسیر "تذکیر القرآن" بلاشبہ دورِ حاضر کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بلا لیبل مقاصدِ تصوف کی بلند پایا تفسیر ہے، جس میں اگرچہ صوفیاء قیل و قال، فنی اصطلاحات، اور فقہی و کلامی موشگافیاں تو نہیں، البتہ جو تصوف کا مقصود ہے یعنی انسانی تزکیہ اور تصفیۂ قلب، وہ سب موجود ہے۔ وحید الدین خان اگرچہ علمائے ظواہر کے نزدیک ناپسندیدہ شخصیت تھے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر دین کو تزکیہ کا معید ثابت کر کے انتہائی اہم خدمات سرانجام دی ہیں۔
اختلاف علمی تو ارتقائے علمی کا موجب ہوا کرتا ہے، وہ تو ہمیں بھی بعض جزئیات میں مولانا سے ہو سکتا ہے، لیکن بحیثیت مجموعی وہ ایک بلند پایا ادیب، محقق، اور مفسر تھے جن کے اثرات تاریخ حذف نہیں کر سکتی۔ ہم ان کے لواحقین، متعلقین، اور تلامذہ سے اظہارِ تعزیت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بلندی درجات کے لیے دعا گو ہیں۔ کتاب "داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان"، صفحہ نمبر 66۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.