ایک یادگار گفتگو جو قلب و ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ گئی: مولانا غلام قادر بانڈے، مہتمم جامعہ ضیاء العلوم، پونچھ، پونچھ۔ یہ غالباً 1970 عیسوی کی بات ہے، جب میں مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند سے تازہ دم فارغ ہوا تھا اور دارالعلوم محمدیہ میلکھیڑہ، راجستھان میں تدریسی خدمات انجام دے رہا تھا۔ دوپہر کی دھوپ کے وقت، ایک الگ سایہ دار جگہ پر، ہم چند نوجوان فضلا اپنی معمول کی بات چیت میں مصروف تھے تو دیکھا ایک باروب شخص، جو عالمانہ وضع قطع کے مالک تھے، ہمارے درمیان بے تکلفی سے آ بیٹھے اور انہوں نے شائستہ علمی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ہم نوجوان فضلا سے کچھ سوالات کیے، جن میں دو سوالات بہت اہم تھے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ اقلیت اور اکثریت کا دارومدار کس بات پر ہے، اور دوسرا سوال تھا کہ مسلم اور غیر مسلم لیڈر میں کیا فرق ہے۔
چونکہ ہم نوجوان فضلا سیاسیات اور سماجیات سے زیادہ آگاہ نہ تھے، اس لیے ہم سے جو بھی روایتی جوابات بن پڑے، ہم نے دیے۔ ہمارے جوابات سے مطمئن نہ ہونے کے بعد مولانا موصوف نے اپنے سوالات کی خود سے وضاحت کی۔ ان کی اس ملاقات نے ابھی تک میرے قلب و ذہن پر بہت گہرے نخوش چھوڑے ہیں۔ پہلے سوال کا جواب انہوں نے بتایا کہ اقلیت و اکثریت کا دارومدار تعلیم پر ہے؛ جو قوم تعلیم یافتہ ہے، وہ کبھی بھی اقلیت میں نہیں ہو سکتی۔
دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ غیر مسلم لیڈر منصوبہ بندی اور دانشمندی سے معاملات کو سلجھاتا ہے، جبکہ مسلم لیڈر اشتعال اور جذبات کی رو سے اشتعال اور جذبات کی رو میں بہہ کر قوم کے لیے مزید مسائل پیدا کر دیتا ہے۔ یہ یادگاری گفتگو کرنے والا کوئی اور شخص نہیں، بلکہ مولانا وحید الدین خان صاحب تھے، عمر اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب سماجی اور سیاسی معاملات کا شعور ہوا تو مولانا کی تشریح و تعبیر کو درست پایا، اور قوم کے تئیں مولانا مرحوم کی سنجیدگی اور تڑپ کو انتہائی مخلص پایا۔ مولانا مرحوم، جو اب اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے اور ہم سب کو داغِ مفارقت دے گئے، اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ اپنے علمی، تحقیقی اور تصنیفی کمالات کے لیے مولانا کو تاریخ میں وہ نمایاں جگہ ملی ہے جہاں بہت کم لوگ ہی پہنچ پاتے ہیں۔
مولانا سے بعض امور میں اختلافِ رائے کی گنجائش کے باوجود یہ اعتراف ہم پر لازم ہے کہ بحیثیتِ مجموعی، ان کی کاوشیں، ان کی رہنمائی ہمارے لیے بہت درست اور بروقت تھی۔ چونکہ ملی سطح پر ہمارا شیرازہ بکھرا ہوا ہے، اس لیے کسی بھی مخلص قائد کے لیے یہ آسان بات نہیں کہ قوم اس کی قیادت تلے جمع ہونے پر راضی ہو جائے اور اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کے امور میں یکجہتی دکھا سکے۔ مولانا کے ملی مسائل کے تئیں بہت سی تجاویز تقاضۂ وقت ہیں، اور ان کو اختیار کرنے میں کسی بھی پس و پیش سے ہمیں کام نہیں لینا چاہیے، اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی سے بچتے ہوئے دوسرے بنیادی معاملات و حقائق پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔ مولانا مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ملتِ اجتماعی سطح پر فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرے، اور تعلیم و تحقیق کے میدان میں دنیا کے دیگر اقوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر عالمی شراکت داری میں اپنا حصہ شامل کرے، اور بالخصوص برادرانِ وطن کے ساتھ اسوہ حسنہ اور تعلیماتِ اسلامی کی روشنی میں بہتر اور خوشگوار تعلقات قائم کرے، اور ہر قسم کی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو باہمی ڈائیلاگ کے ذریعے دور کرے۔
کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 67۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.