← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Maulana Wahiduddin Khan
Urdu · 6 min
مولانا وحید الدین خاں ابو یحیی، کراچی، پاکستان۔ 21 اپریل 2021 کی شب مولانا وحید الدین خان کا انتقال ہوگیا۔ مولانا نے 96 برس کی عمر پائی، وہ تقریباً. پچھلے 70 برسوں سے تحریر و تقریر کے ذریعے سے لوگوں کی تربیت کر رہے تھے۔
پچھلی نصف صدی سے ان کا کام ایک باقاعدہ مشن کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ ہر طرح کے منفی حالات سے بے نیاز ہو کر اپنا کام کیا جائے۔ یہ ان کا طریقہ کار ہی نہیں، ان کا بنیادی پیغام بھی تھا کہ ہر طرح کے منفی حالات میں مثبت مواقع ڈھونڈ کر اپنا کام کیا جائے۔ وہ ساری زندگی جو دوسروں سے کہتے رہے، عملاً خود بھی کرتے رہے۔
برصغیر کے روایتی ماحول میں جہاں پر مقبولیت کا راستہ یہی ہے کہ سیاست اور فرقہ واریت پر جذباتی گفتگو کی جائے، یا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سے اپنی پہچان بنائی جائے، مولانا نے مثبت سوچ کے فروغ کو اپنا بنیادی مشن بنایا اور کتب و مضامین کے نسبتاً محدود راستے کو مستقل مزاجی سے اختیار کیا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں بظاہر یہ محسوس ہوتا تھا کہ مولانا کے غیر معمولی علمی قد و قامت اور انتہائی متنوع کام کے باوجود ان کا مشن کامیاب نہیں ہوا، مگر معاملہ ایسا نہیں ہے۔ مولانا وحید الدین خان کے انتقال کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا، وہ یہ کہ سوشل میڈیا پر جہاں سماج کا باشعور طبقہ اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، اس کی آمد کے بعد پہلی دفعہ اتنے بڑے پیمانے پر کسی شخصیت کے انتقال پر لوگوں نے تعزیت کی، اظہار عقیدت پیش کیا، ان کے کام کا اعتراف کیا، اور ان اثرات کا ذکر کیا جو بالواسطہ یا بلاواسطہ مولانا کے کام سے ان پر پڑے۔ مولانا کی وفات پر ہونے والا یہ عجیب واقعہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ تعمیری کام جب مستقل مزاجی سے کیا جائے تو آخر کار وہ اپنے اثرات پیدا کر لیتا ہے۔
یہ اثرات اس معاشرے میں بھی ظاہر ہو جاتے ہیں جہاں سیاست اور فرقہ واریت سب سے زیادہ اہم بن چکے ہوتے ہیں۔ مولانا کا معاملہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں ایک صدی کی مہلتِ عمل دی۔ وہ متعدد زبانوں کے ماہر اور انتہائی وسیع المطالعہ شخص تھے۔ علوم اسلامی کے ماخذوں تک ان کی براہِ راست رسائی تھی۔
کسی بھی علم و فن کے ثانوی مصادر کے علاوہ بنیادی ماخذ بھی ان کے علم کی زد میں تھے۔ اس تمام مطالعے کو وہ انتہائی گہرے غور و فکر کے ساتھ اپنے ذہن کا حصہ بناتے، اس کا تجزیہ و تحلیل کرتے، اور اس سے نتائج اخذ کر کے وہ اپنے حالات کے لحاظ سے ان نتائج کا اطلاق کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کے ساتھ ان کا قلم انتہائی تیز رفتار اور ان کا اسلوب تحریر اتنا ہی مؤثر بھی تھا۔ انہوں نے انتہائی متنوع موضوعات پر تقریباً پون صدی تک مسلسل لکھا۔
اس عرصے میں انہوں نے 200 کے قریب کتابیں تصنیف کیں اور 50 سال تک ایک ایسا رسالہ نکالا جس کی تمام تحریریں انہی کی لکھی ہوئی تھیں۔ اپنی زندگی کی آخری ربع صدی میں انہیں اپنے کاموں کے ابلاغ کے لیے ایک بہت مؤثر ٹیم بھی مل گئی تھی، اور ساتھ میں انٹرنیٹ کی ایجاد نے ان کے تمام مواد کو دنیا بھر کی دسترس میں پہنچا دیا تھا۔ وہ واحد مسلم رہنما اور عالم تھے جنہوں نے سات عشروں تک مسلسل لکھا، اور جن کے افکار سے تین نسلیں ان کی زندگی ہی میں متعارف ہو گئیں۔ جن کا رسالہ اور کتابیں اردو، انگریزی، عربی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو کر ربع صدی سے انٹرنیٹ پر بلا معاوضہ اور باآسانی دستیاب ہیں، اور اس کے نتیجے میں ان کے افکار کو پڑھنے والے دنیا بھر میں موجود ہیں۔
جنہوں نے سینکڑوں ملکی اور بین الاقوامی سفر کر کے ہر طرح کی کانفرنسوں، مجالس اور اجتماعات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ہر گروہ کے ساتھ مکالمہ اور گفتگو کی۔ ان کی کتابوں اور خاص کر ترجمہ قرآن کا درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو کر دنیا بھر کے غیر مسلموں میں پھیل چکا ہے۔ مولانا نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی منادی، الحاد کے مقابلے میں اسلام کے استدلال، آخرت کی یاد دہانی، مثبت اندازِ فکر اور کردار سازی جیسے بنیادی کام اس اعلیٰ سطح پر کیے، جس کی دوسری نظیر اس دور میں ڈھونڈنا آسان نہیں۔ جس شخص کے کام اس درجے میں پھیلے ہوئے ہوں، اس سے کوئی اختلاف کرے یا اتفاق، وہ بلاشبہ مسلمانوں کی تاریخ کے بڑے لوگوں میں سے ایک میں شامل کیے جانے کے قابل ہے۔
اور جس شخص کا کام اس سطح کا ہو، اس پر نہ ایک نشست میں بات ہو سکتی ہے اور نہ ایک مضمون اس کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ بشکریہ، ماہنامہ انظار، کراچی۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 64۔