مرحوم کی مذہب اور جدید چیلنج: منفرد تصنیف، مفتی ناصر الاسلام فاروقی، مفتی اعظم جموں و کشمیر۔ 22 اپریل کی صبح مجھے یہ خبر ملی کہ عالمِ شہرت یافتہ عالمِ دین و مفکرِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، رحلت فرما گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون. یہ خبر میرے ذہن میں گردش کرتی رہی، اور ذہن میں مرحوم کی وہ تمام تحریریں گردش کرنے لگیں جو میری نظروں سے گزری ہیں، بالخصوص ان کی مشہور و معروف تصنیف "مذہب اور جدید چیلنج" جس کا آج بھی متبادل تلاش کرنا مشکل ہے۔
مولانا ایک وسیع المطالعہ اور کثیراللسان عالم تھے، بلکہ ایک مجتہد تھے؛ ان کے اجتہادات سے گو اختلاف کی گنجائش ہے، تاہم مجموعی طور پر ان کی خدمات ملک و ملت کے تعلق سے بے پناہ اہم اور رہنمائیانہ ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم ان کی تصنیفات کا مطالعہ کریں اور مفید پہلوؤں سے رہنمائی لیتے ہوئے اپنی اور سماج کی تعمیرِ نو کریں۔ ان کی تصانیف، مثلاً "ظہورِ اسلام"، "یکساں سول کوڈ"، "مارکسزم"، "تاریخ جس کو رد کر چکی ہے"—مولانا نے اس دور میں تحریر کی جس دور میں مارکسزم کا ڈنکا پوری دنیا میں بج رہا تھا۔ اسی طرح جب "شاہ بانو" کا مشہور مقدمہ پورے ملک میں زیرِ بحث آیا تو مولانا نے "یکساں سول کوڈ" تحریر کر کے قانونی دانشوروں کو حیران کر دیا۔
اسی کتابچے کے حوالے سے مولانا علی میاں اور مولانا ابو اللیث اصلاحی امیر جماعت نے بھی اس کی اشاعت کے فوراً بعد مولانا کو اس عظیم مدلل کتابچے کے لیے مبارکباد دی تھیں، اور بہت سراہا تھا۔ اختلافِ رائے کس شائستگی کے ساتھ ہونا چاہیے، یہ بھی مولانا موصوف کی تنقیدی تحریروں سے ہی سیکھا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ کوئی بھی علمی سماج ان کے علمی و فکری سرمائے کو نہ فراموش کر سکتا ہے اور نہ ہی نظرانداز۔ کتاب "داعیِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 62۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.