ایک خط، کاندھلا، 11 رمضان المبارک 1342، محترم مکرم جناب ڈاکٹر صاحب دامہ مجدکم۔ السلام علیکم۔ آج جناب کی گرامی مرتبت والدِ مکرم کی وفات پر تعزیت پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور آپ جیسے فاضل شخص کو میں کیا کہوں، کیا لکھوں؟
میری مولانا سے واقفیت اور ملاقات بہت پرانی تھی، جب وہ جمعیت علما کی بلڈنگ میں گلی قاسم جان میں اوپر کمرے میں رہتے تھے۔ اس وقت میرا مولانا کے پاس بارہا جانا ہوتا رہا۔ بعد میں بھی بنگلہ والی مسجد بستی حضرت نظام الدین میں جب وہ اکثر آیا کرتے تھے۔ اور مولانا عبیداللہ بلیاوی اور مولانا اظہار الحسن کاندھلوی سے بطور خاص رابطہ رکھتے تھے۔
ان کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر مولانا سے نیاز حاصل ہوا۔ مولانا کی ادارت میں جو ہفت روزہ الجمعیہ چھپتا تھا، اس کا تقریباً مکمل فائل میرے پاس ہے، اور اگرچہ مولانا کے بعض نظریات سے صاف اختلاف تھا اور ہے، لیکن مولانا کی تالیفات اور الرسالہ اہتمام سے پڑھتا رہا۔ بہرحال، مولانا کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، مستقبل میں اس کا پر ہونا آسان نہیں۔ اس نقصان کی تلافی متوقع نہیں۔
اور کیا عرض کروں؟ نورالحسن راشد کاندھلوی، مولویان کاندھلا، ضلع شاملی، یو پی، 24 اپریل 2021 عیسوی۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 59۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.