ایک عارف باللہ کی بات: حافظ سید عمیر احمد عمری، مدنی، عمر آباد، تمل ناڈو۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہور پیدا۔ مولانا وحید الدین خاں رحمتہ اللہ علیہ جیسی عظیم شخصیت صدیوں میں کہیں کہیں پیدا ہوتی ہے؛ بجا طور پر انہیں ایک تاریخ ساز شخصیت کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی دین و ملت کی خدمت کے لیے وقف کر دی، چاہتے تو بڑے عیش و آرام سے زندگی گزار سکتے تھے، مگر انہوں نے سادگی کو پسند کیا، فقیرِ بے نوا کی طرح زندگی گزار دی۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ صوفی منش تھے، آپ کی زندگی اس حدیث کے مطابق تھی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: «أيُّ الناسِ خيرٌ؟ قال: من طال عمرهُ وحسن عملهُ». مسند احمد، حدیث نمبر 17698۔ یعنی لوگوں میں بہتر کون ہے؟
آپ نے جواب دیا کہ جس کی عمر طویل ہو اور اس کے اعمال اچھے ہوں۔ جہاں آپ کو مشرقی علوم میں گہرائی تھی، وہیں مغربی علوم میں بھی بڑا کمال حاصل تھا۔ آپ کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آپ کا مطالعہ کتنا وسیع تھا۔ آپ نے الرسالے کے ذریعے تنہا وہ خدمت انجام دی جو ایک ادارے کے لیے بھی مشکل تھی۔
تقریباً 40 سال سے آپ نے الرسالے کے ذریعے خدا کے بندوں کو خدا کا پیغام پہنچانے کی آخری حد تک کوشش کی، اور یہ رسالہ ہر ماہ وقت سے پہلے ہی منظر عام پر آ جایا کرتا تھا۔ اس کی اشاعت میں کوئی رکاوٹ معنی نہیں تھی، نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ ملک سے باہر بھی حق کا پیغام پہنچانے کی پوری کوشش کی۔ اس سلسلے میں زندگی بھر سفر کرتے رہے، آپ کو کئی زبانوں میں عبور حاصل تھا۔ اردو آپ کی مادری زبان تھی، اس کے علاوہ فارسی، عربی، اور انگریزی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔
تذکیر القرآن آپ کی ایک قابلِ قدر اور مقبول تفسیر ہے۔ یہ ہر خاص و عام کی پسندیدہ تفسیر ہے۔ مذہب اور جدید چیلنج اور کتاب معرفت اور ان جیسی سینکڑوں کتابیں آپ نے تصنیف کیں۔ الرسالے کا ہر ورق زندگی کا بھرپور پیغام دیتا ہے، ہر صفحے کے اندر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔
کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 58۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.