Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Maulana Wahiduddin Khan 'Eik Munfarid Shakhsiat'

Urdu · 6 min

مولانا وحید الدین خاں، ایک منفرد شخصیت؛ شمشاد محمد خان، ڈائریکٹر آئی پی سی آئی، یو کے۔ یہ غالباً 1986 عیسوی کا واقعہ ہے کہ میرا ساؤتھ افریقہ جانا ہوا۔ قیامِ ش... قیام شیخ احمد دیدات کے مکان پر تھا، وہ ویر عالم میں قیام پذیر تھے۔

یہ چھوٹا شہر ڈربن کے نزدیک واقع ہے، جہاں ان کا دفتر ہے۔ ان کے یہاں قریباً 1 ہفتہ مقیم رہا، ان کی کتب بھی دیکھنے کو ملیں، اور وہیں میں نے انگلش کا الرسالہ دیکھا، بہت پسند آیا۔ شیخ دیدات سے اس بارے میں بھی گفتگو ہوئی، وہ الرسالے سے بہت متاثر تھے۔ انگلینڈ واپس پہنچ کر میں نے مولانا وحید الدین خان صاحب کو فون کیا۔

فون پر ان کی آواز ایک جوان آدمی جیسی لگی۔ کافی طویل گفتگو رہی۔ ان کو انگلینڈ آنے کی دعوت بھی دی، جو محترم نے قبول کر لی۔ الرسالے کا آرڈر بھی دیا، اور درخواست کی کہ ہر ماہ اردو اور انگریزی کے شمارے روانہ کیے جائیں۔

اور پھر، الحمدللہ، مولانا صاحب کئی دفعہ انگلینڈ تشریف لائے۔ یہاں ان کی تقاریر کے کئی پروگرام بھی کروائے، جو ماشاءاللہ بہت کامیاب رہے۔ ان کے چاہنے والے یہاں پہلے سے موجود تھے، اب تعداد اور بھی بڑھنے لگی تھی۔ پھر 1999 عیسوی میں میرا اہلیہ کے ساتھ انڈیا جانا ہوا۔

مولانا کے یہاں ہی قیام تھا۔ بھائی ڈاکٹر ثانیس نین بھی اپنی والدہ اور ہمشیرہ ڈاکٹر فریدہ خانم اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وہیں مقیم تھے۔ ان کے بچے عدنان اور ماریہ اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ ان کی معصوم اور دلچسپ باتیں سن کر ہم سب بہت محظوظ ہوا کرتے۔

عدنان کا یہ جملہ: "ماڈیا گڑ گئی"، یعنی ماریہ گر گئی، یاد آتا ہے تو اب بھی زیرِ لب مسکراہٹ ابھر آتی ہے۔ مولانا صاحب سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی اور بہت کچھ سیکھا۔ میں نے جانا کہ مولانا صاحب کی سوچ بہت گہری تھی۔ ان کا ایک اپنا اندازِ فکر تھا، جو بلاشبہ لمبی تحقیق کے بعد رونما ہوتا ہے۔

وہ دینِ اسلام کے معاملے میں بہت ہی سنجیدہ تھے، اور مسلمانوں کے سچے خیرخواہ۔ اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً ان سے رابطہ رہا، اور ذہن میں جو سوالات ہوتے، ان کا تسلی بخش جواب ملتا۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ میرے استاد کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔

مولانا صاحب 2000 عیسوی میں برمنگھم، انگلینڈ تشریف لائے۔ ان کے پروگرام کا اہتمام ریکس سینٹر میں کیا گیا تھا۔ یہ بلڈنگ میں نے 1998 میں اپنی کمپنی ڈومیسٹکس کے کاروبار کے لیے خریدی تھی۔ انہوں نے اس وقت یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ، اس بلڈنگ کو اسلامک سینٹر بنا دے۔

ان کی دعائیں اللہ رب العزت قبول فرماتے۔ آج اس بلڈنگ... آج اس بلڈنگ کا نام دی یونٹی سینٹر ہے۔ اس کی دوسری منزل پر مسجد ہے، پہلی منزل پر اسلامک...

اسلامک ایگزیبیشن، اور گراؤنڈ منزل پر اسلامک سٹور اور آئی پی سی اسلامک ویژن کی کتب کا اسٹور ہے۔ یہاں سے گڈ ورلڈ بکس کی کتابیں اور اسلام سے متعلق مطبوعات پورے برطانیہ اور دیگر ممالک کو فراہم کی جاتی ہیں۔ میں نے جانا کہ مولانا صاحب بولتے کم اور سنتے زیادہ تھے۔ وہ ہر شخص سے سوالات کرتے، وہ دیکھتے کہ ہر شخص ایک کتاب ہے، اور ہر شخص کی ایک منفرد داستان ہے۔

وہ گفتگو کے دوران ایسے کامیاب موتی تلاش کر لیتے، جو دوسروں کے لیے سبق آموز ہوں اور جنہیں شیئر کیا جا سکے۔ وہ ہر واقعے سے ایک سبق آموز پہلو نکال لینے کی انوکھی صلاحیت رکھتے تھے۔ پھر وہ اس کو آخرت سے جوڑ دیتے، جو ایمان میں اضافہ اور تقویت کا سبب بنتا۔ مولانا صاحب کی یہ انمول اور نایاب صلاحیت یقیناً خداداد تھی۔

وہ ہر لحاظ سے ایک گفٹڈ شخصیت تھے۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر ایمان میں اضافہ ہوتا، اور ان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ ہوتی تھی۔ میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب تصور کرتا ہوں یہ سوچ کر کہ اس ناچیز کو مولانا صاحب کے ساتھ ایک خاص تعلق رہا، اور ان کے ساتھ وقت گزار کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ بہرحال، یہ دنیا تو فانی ہے، ہر ایک کو جلد یا بدیر یہاں سے کوچ کر جانا ہے۔

آئی پی سی آئی سینٹر کے سب لوگ ان کو بہت یاد کرتے ہیں۔ ان کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور آخرت میں ہمیں جنت میں ان کے ساتھ مجالس میں شریک ہونے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین۔ کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 56۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.