Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Islami,Ilmi wa Fikri Riwayaatka Sang-e-meel

Urdu · 4 min

اسلامی علمی و فکری روایات کا سنگ میل: سید سعادت اللہ حسینی، امیر جماعت اسلامی ہند۔ مولانا وحید الدین خاں کی رحلت سے بہت صدمہ پہنچا۔ مولانا بلاشبہ اُن مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے موجودہ زمانے پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ملک میں مختلف مذہبی فرقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے، اور اُن کے درمیان مکالمہ و تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کرنے میں مولانا کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

اسلام کو جدید اسلوب میں اور محکم سائنسی و منطقی دلائل کے ساتھ پیش کرنے کے لیے مولانا مرحوم کی کوششیں بھی، ان شاء اللہ، اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بنیں گی۔ مذہب اور جدید چیلنج: عظمتِ قرآن، اسلام، دورِ جدید کا خالق، پیغمبرِ انقلاب وغیرہ جیسی معرکۃ الاراء تصانیف نے مولانا کو برصغیر کی اسلامی علمی روایات کا ایک اہم سنگِ میل بنا دیا ہے۔ مولانا اردو نثر کے ایک بالکل منفرد اور بڑے پرکشش اسلوب کے بانی ہیں۔ انتہائی سادہ زبان میں بڑے اختصار کے ساتھ گہرے علمی مضامین کو بیان کرنے کا جو اسلوب مولانا نے ایجاد کیا، وہ بلاشبہ اُن کا غیر معمولی کمال تھا، اور اُس نے کئی نسلوں کے اسلوبِ تحریر پر اثر ڈالا ہے۔

انگریزی اور مختلف علاقائی زبانوں میں پرکشش لٹریچر کی تیاری بھی اُن کا عظیم کارنامہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں لمبی عمر عطا کی، اور اس لمبی عمر کا پورا حصہ جس خوبی سے اُنہوں نے بڑے کاموں کے لیے استعمال کیا، اور جتنا بڑا علمی ورثہ چھوڑ گئے ہیں، اس پہلو سے بھی وہ ہماری حالیہ تاریخ میں منفرد ہیں۔ دین کی تعبیر، اور اس ہندوستان میں ملت اسلامیہ کے رویّوں اور طریقۂ کار پر مولانا مرحوم کے مخصوص خیالات تھے۔ ان خیالات سے بہت سے اہلِ علم نے بجا طور پر اختلاف بھی کیا ہے، لیکن اُن کی وجہ سے مولانا کے علمی کارناموں اور اُن کی عظیم خدمات کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔

وہ جدید علمِ کلام کے اساتذہ میں سے ایک ہیں، اور ان شاء اللہ اُن کے علمی کاموں سے اسلام کے خادمین فیضیاب ہوتے رہیں گے، اور عام انسانیت بھی اُن کی تصانیف کے واسطے سے اسلام سے متعارف ہوتی رہے گی۔ مولانا سے ذاتی طور پر میں نے بھی بہت استفادہ کیا ہے؛ بچپن ہی سے اُن کی کتابیں اور ماہنامہ رسالہ پڑھتا رہا ہوں۔ طالبِ علمی کے زمانے میں ایس آئی او کے متعدد کیمپوں میں اُن سے استفادہ ہوتا رہا۔ اُن کے دولت کدے پر بہت سی یادگار ملاقاتیں رہیں۔

مولانا کی شفقت و محبت، فکری اختلاف کے باوجود، خرد نوازی اور ہماری حقیر کاوشوں کی قدردانی، اور فیض رسانی کے لیے ہر دم تیار رہنے کی خوبی سے میں ہمیشہ بے حد متاثر ہوا۔ اُن کی رحلت سے اسلامی کاوشوں کے علمی محاذ پر جو بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے پر فرمائے۔ ہم اُن کے فرزندان، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، ڈاکٹر ثانی حسنین خان، اور دیگر اقارب کے غم میں شریک ہیں، اور اُن کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔ کتاب "داعیِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 60۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.