← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Apn-e-Ahd ki eik Munfarid Awaz
Urdu · 10 min
"اپنے عہد کی ایک منفرد آواز"، جاوید احمد غامدی۔ مجھے بے حد صدمہ ہوا، مولانا وحید الدین خان ایک بڑی ہی غیر معمولی شخصیت تھے۔ میری نسبت تو اُن کے ساتھ یہ ہے کہ ہم ایک ہی استاد کے شاگرد ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ انہوں نے استاد امام امین حسن اصلاحی، وفات 1997 سے، ابتدائی دور میں تعلیم پائی اور مجھے یہ شرف استاد امام کے آخری دور میں حاصل ہوا۔ مولانا وحید الدین کی آواز ایک بڑی منفرد آواز تھی، ایسی منفرد کہ شاید نہ اس سے پہلے سنی گئی اور نہ ہی کہا جا سکتا کہ پھر کبھی سنی جائے گی۔
اُن کا بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ دورِ حاضر میں دین کی جو سیاسی تعبیر کی گئی، انہوں نے خالص علمی سطح پر اس کی غلطی واضح کی۔ اُن کی کتاب "تعبیر کی غلطی" کو پڑھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ کیسا اعلیٰ درجے کا محققانہ ذوق رکھتے تھے، اور اگر وہ اس طرح کے تحقیقی مباحث کو اپنا کام بناتے تو کیسی غیر معمولی چیز اُن کے ہاتھ سے نکل سکتی تھی۔ لیکن بتدریج انہوں نے تذکیر اور مسلمانوں کی عمومی اصلاح کو اپنا موضوع بنا لیا، چنانچہ اس لحاظ سے بھی بے مثال چیزیں اُن کے قلم سے نکلی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جتنی چیزیں اُن کے قلم سے نکلیں، موجودہ زمانے میں بہت کم لوگ ہوں گے کہ جنہوں نے اتنا لکھا ہوگا، اور وہ بھی ہر موضوع سے متعلق۔
تاہم اصل چیز یہی تھی کہ دین کی حقیقت واضح کی جائے، اللہ تعالیٰ کی سچی معرفت لوگوں میں پیدا کی جائے۔ مسلمانوں نے اس وقت تک اپنے لیے جو سیاسی لائحہ عمل اختیار کر رکھا ہوا ہے، اس کی غلطی اُن پر واضح کی جائے۔ مسلمانوں کے لیے کرنے کا اصل کام کیا ہے، اس کو اُن پر واضح کیا جائے۔ یہ اُن مولانا کے موضوعات تھے۔
ان موضوعات میں بھی میں، یا آپ، یا کوئی بھی صاحبِ علم اُن سے اختلاف کر سکتا ہے، لیکن وہ بڑی درد مندی کے ساتھ، بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنی بات بیان کرتے تھے۔ کہیں تمثیلوں میں، کہیں تو کہیں زندگی کے عمومی معاملات میں رکھ کر اسے واضح کرتے تھے، اور ساری زندگی یہی کام کرتے رہے۔ ہر رسالے کو انہوں نے اس موضوع پر ایک کلاسک بنا دیا۔ ہمیشہ اس کو اسی حیثیت سے پیش کیا جاتا رہے گا۔
اس لیے میں نے یہ عرض کیا کہ مولانا اپنے عہد کی ایک منفرد آواز تھے جو نہ پہلے سنی گئی، نہ شاید اب سنی جائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے اخلاص اور اپنی درد مندی اور اپنے پروردگار کی سچی معرفت کے احساس کے ساتھ انہوں نے اپنی پوری زندگی بسر کی ہے۔ بعض موقعوں پر اُن کی ڈائریوں کو اگر پڑھیں تو اس میں بہت سے علمی مباحث کے بارے میں بڑی نادر تنقیدات سامنے آتی ہیں۔ لوگوں کو اس حیثیت سے اُن کا مطالعہ کرنا چاہیے، اُن کو دیکھنا چاہیے، اُن کے احوال کو دیکھنا چاہیے کہ ایک بے مثال شخصیت جو اپنی سیرت، اپنے کردار، اپنی درد مندی اور اپنے اخلاص کے لحاظ سے ہم سب کے لیے نمونہ تھی، جو اب دنیا سے رخصت ہو گئی۔
مسلمان بڑی بدقسمت قوم ہے کہ اپنی عظمتوں کے معاملے میں بھی اختلاف اور اتفاق کی بنیاد پر رائے قائم کرتی ہے۔ مولانا کی تحریروں میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس پر نقد بھی ہوگا، اس سے اختلاف بھی ہوگا، لیکن اس اعتراف کے ساتھ کہ آج ہمارے دور کی ایک عظمت رخصت ہو گئی ہے۔ میں اُن کے پورے کام میں سے دو چیزوں کو اُن کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھتا ہوں۔ اُن میں سے ایک دین کی اصل حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ دین پروردگار کی حقیقی معرفت، اس سے سچی محبت اور اس کے امتثال، اس کے امتصالِ امر کا نام ہے۔ اس حقیقت کو انہوں نے ہر شخص پر واضح کرنے کی سعی کی، اور اپنی پوری زندگی اس کی نظر کر دی۔ اسی طرح یہ بات بتانے کے لیے اُن کا قلم ایک گوہر بار قلم تھا کہ لوگ دین کی اصل کو دریافت کریں، اس کے مقصود کو پانے کی جدوجہد کریں، اُن کے اندر اس حقیقت کو سمجھنے کا داعیہ پیدا ہو کہ اُن کا مقصود آخرت ہے۔ انہیں ایک دن اپنے پروردگار کے سامنے اٹھنا ہے، اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
اس موضوع پر انہوں نے صفحے کے صفحے لکھے ہیں، اللہ کی یاد کی طرف توجہ دلائی ہے، اور آخرت کی منادی کی ہے۔ یہ اُن کے کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ یہ اُن کے کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو اُن کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی رویوں کے بارے میں صحیح رہنمائی، صحیح راہ دکھائی ہے۔
جب ایک شخص صحیح راستہ دکھاتا ہے تو بعض موقعوں پر کچھ سختی بھی آ جاتی ہے۔ لیکن بحیثیتِ مجموعی، انہوں نے مسلمانوں کی درست سمت میں رہنمائی کی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بتایا ہے کہ تم اپنی تاریخ کے پس منظر میں اس وقت کس مقام پر کھڑے ہو، تمہارا اصلی مشن کیا ہے، تمہیں اپنے سیاسی اور سماجی معاملات میں کیا رویے اختیار کرنے چاہییں، تمہارے لیے مثبت طرزِ عمل کیا ہے جسے تمہیں ہدف بنا کر کام کرنا ہے۔ اس معاملے میں جو بنیادی پیغام انہوں نے مسلمانوں کو دیا ہے، وہ یہ ہے کہ ردِعمل کی نفسیات سے نکل کر مثبت سوچ کے ساتھ دنیا اور اس کے معاملات کو دیکھو۔
تمہارے پاس جو ایک بہت بڑی متاع ہے، دین کی متاع، اس کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرو۔ یہ جس کارنامے کی طرف میں نے توجہ دلائی ہے، یہ بڑا غیر معمولی ہے۔ اس لحاظ سے دین کے مختلف احکام میں اُن کی شرح و وضاحت میں اگر کہیں کوئی غلطی ہو جائے، اور ظاہر ہے کہ کسی صاحبِ علم کا کام غلطیوں سے پاک نہیں ہے، اُن کے ساتھ لوگ اتفاق بھی کریں گے، اختلاف بھی کریں گے، مگر اس سے کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ مثلاً رفعِ دین کے بارے میں ایک شخص کی ایک رائے ہے، دوسرے شخص کی ایک دوسری رائے ہے۔
اسی طرح سجدہ کیسے کرنا ہے، تشدد میں کیسے بیٹھنا ہے، نماز کی ابتدا کیسے کرنی ہے، یا اسی طرح کی بعض دوسری چیزیں ہیں، ان میں اختلافات ہوتے ہیں، ہوتے رہیں گے، ہوتے رہے ہیں، ہوتے رہیں گے۔ لیکن دین بحیثیتِ مجموعی کیا ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟
اس کے احکام میں باہمی طور پر کیا نظم قائم ہوتا ہے؟ وہ بہت اچھا لکھنے والے تھے، اپنے بارے میں بالکل درست کہتے تھے کہ انہوں نے اردو زبان کو خاص طور پر مذہبیات کے دائرے میں ایک عصری اسلوب دیا ہے۔ وہ اپنی بات کو نہایت وضاحت سے بیان کرتے تھے، اس کو تمثیلوں میں واضح کرتے تھے، اور زندگی کے عمومی معاملات میں رکھ کر اس کو دکھاتے تھے۔ ساری زندگی وہ یہی کام کرتے رہے۔
مسلمان بڑی بدقسمت قوم ہے، یہ اپنی عظمتوں کے معاملے میں بھی اختلاف اور اتفاق کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بعض بہت بڑے لوگ ہیں جن سے ہم اختلاف کرتے ہیں، اور بعض اوقات بڑا اصولی اختلاف کرتے ہیں، جیسے امام غزالی ہیں، شاہ ولی اللہ ہیں۔ لیکن کیا اُن کی عظمت کا انکار کر دیا جائے گا؟ ماضی کی شخصیات ہوں یا حال کی، ہمیں سب کے علم و فکر یا سیرت و کردار کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے، ادب اور شائستگی کے ساتھ، اُن سے اختلاف کی روایت ڈالنی چاہیے۔
مولانا وحید الدین خان تنہا کام کرتے تھے۔ کوئی جماعت، کوئی فرقہ، کوئی گروہ یا کوئی بڑا ادارہ اُن کی پشت پر نہیں تھا۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ "کانَا اُمَّةٌ فِي رَجُلٍ" ایک ایسا آدمی جس کے وجود میں ایک پوری امت جمع تھی، وہ آدمی آج اپنے پروردگار کے پاس واپس چلا گیا ہے۔
گویا ہمارے دور کی ایک بڑی عظمت تھی، جو اب ہم سے رخصت ہو گئی ہے۔ اس طرح دعوت کو انہوں نے ایک لحاظ سے اپنی فکر، اپنی تمام تحریروں میں مرکزی حیثیت دی تھی۔ "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" یہ تحریر غامدی صاحب کی ویڈیو پیغام پر مبنی ہے۔ کتاب "داعیِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 52۔