Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Be Misaal Shakhsiat

Urdu · 9 min

بے مثال شخصیت: فاروق مستر راجوری، جموں۔ 21 اپریل کی شب، مولانا وحید الدین خان صاحب داعیِ اجل کو لبیک کہتے ہوئے ہم سب سے رخصت ہو گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون. مولانا کے امتِ مسلمہ پر بے پناہ احسانات ہیں، جس کا اعتراف تمام علمی اور ملی حلقوں میں کھلے دل سے ہو رہا ہے۔

سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر تعزیتی تاثرات کا سلسلہ جاری ہے، اور ہر ایک شخص نہ صرف سوگوار ہے بلکہ فکرمند ہے کہ مولانا جیسی ابخری، صالح اور متحرک شخصیت کے سانحۂ ارتحال کے بعد جو عظیم خلا پیدا ہوا ہے، وہ کیسے پر ہوگا۔ عام احساس یہی ہے کہ صدیوں بعد ہی ایسی مقتدر، مخلص، اور جامع العلوم اور جامع الکمالات اور جامع الصفات شخصیات ظہور پاتی ہیں۔ مولانا کی خدمات کی ابتدا تعمیر و اصلاحِ ملت سے ہوئی، اور آخر میں دعوت الی اللہ کے پیغمبرانہ مشن، ادخالِ کلمہ، یعنی قرآنی پیغام کو ہر قوم، نسل، خانوادے اور فرد تک پہنچانے پر موقوف ہو گئی۔ مولانا نے پون صدی سے زیادہ اپنی شعوری زندگی، دینِ اسلام کے اصل ماخذوں یعنی قرآن و سنت کے عصرِ نو مطالعے کی بنیاد پر اسلام کی اثاثی تعلیمات کو دریافت کرنے میں لگا دی، اور ان اثاثی تعلیمات کی بنیاد پر احیائے اسلام و ملت کا عظیم مشن، الرسالہ مشن، القرآن مشن، اور سینٹر فار پیس اینڈ اسپرچویلٹی انٹرنیشنل کے نام سے تنِ تنہا منظم کیا۔

تاہم جلد ہی ان کے اخلاص کے جواب میں نصرتِ غیبی سے ہزاروں، بلکہ لاکھوں افراد، خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ، دنیا بھر سے اس تحریک/مشن سے وابستہ ہوتے چلے گئے۔ اور آج دنیا کی 30 سے زیادہ زبانوں میں قرآن کے تراجم موجود ہیں، اور دنیا کے ہر کونے میں اس مشن کے وابستگان رضائے الہی کے حصول کے لیے سرگرم اور متحرک ہیں۔ مولانا کی تعلیمات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اندرون خانہ جو گروہی مقابلہ و مناظرے کا ماحول تھا، نئی نسل نے اس سے مکمل طور پر اپنے کو الگ کر لیا، اور محض تعمیری اور مثبت رویوں کی بنیاد پر احیائے ملت کے مشن سے اپنی وابستگی کو گہرا کیا۔ مولانا نے قرآن و اسلام کو انسانیت کا کنسنٹ بتایا، انہوں نے بین المذاہب ڈائیلاگ کو رواج دیا، اور ہر قسم کے تصادم اور تناؤ سے مسلم امت کو دور رہنے کی تعلیم و ترغیب دی۔

ملک کے اندر اور باہر ہر قسم کی نظری اور عملی انتہا پسندی کو پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات کے منافی بتایا۔ برصغیر کی جدید تاریخ میں وہ پہلے مذہبی عالم ہیں جو مسلمانوں کے علاوہ ہم وطنوں میں بھی برابر احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ مولانا کی تصنیفات انگریزی، ہندی، عربی اور اردو میں 200 سے زیادہ ہیں، تاہم جو کتابیں بہت مقبول ہیں ان کے نام اس طرح ہیں: مذہب اور جدید چیلنج، مارکسزم، تاریخ جس کو رد کر چکی ہے، الاسلام، اقلیات اسلام، ظہور اسلام، رازِ حیات، راہِ عمل، صراط مستقیم، کتابِ معرفت، مطالعہ قرآن، معرفتِ قرآن، حکمتِ اسلام، عظمتِ قرآن، مطالعہ حدیث، عظمتِ اسلام، مطالعہ سیرت، پیغمبرِ انقلاب، سیرتِ رسول، الربانیہ، حقیقت کی تلاش، خدا کی دریافت، فکرِ اسلامی وغیرہ۔ مولانا نے اپنی ڈائریوں میں جو کچھ اپنے تجربات و مشاہدات یا تاثرات رقم کیے ہیں، وہ اعلیٰ پائے کا علمی ڈیٹا ہیں۔

اس میں اربابِ علم و دانش کے لیے اپنے علمی ذوق کی تسکین کا وافر سامان موجود ہے، اگر وہ بے تکلف اور بے تعصب ہو کر اس کا مطالعہ کریں۔ مولانا نے قرآن و اسلام کے فروغ و تعارف کے لیے دنیا بھر کے درجنوں ملکوں کے سفر کیے، اور سفرنامے قلم بند کیے، اور وہاں کے تہذیبی-ثقافتی ماحول کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا، اور بتایا کہ زندہ قوموں کی کن امور پر خصوصی توجہ رہی ہے، اور دوسری اقوام کے بالمقابل مسلمانوں کی زبوں حالی یا پسماندگی کے کیا اسباب ہیں جن پر کام نہیں ہو سکا، اور اب کرنے کا کام کیا ہے۔ ان کی ایک نہایت وقیع تالیف 'تذکیر القرآن' ہے، جو جدید محاورے کی زبان میں قرآنِ مقدس کی تفسیر ہے۔ اس میں انہوں نے دوسری تفاسیرِ قرآن کے بالمقابل علمی مباحث سے قطع نظر، قرآنی پیغام کو کچھ اس طرح کھولنے کی کوشش کی ہے کہ ہر آیت اور ہر رکوع کے مطالعے کے بعد بندہ اپنے آپ کو خدا کی معیت میں محسوس کرے۔

بندہ خدا سے ہم کلامی کے تجربے سے گزرے، اور اپنے آپ کو خدا کی پناہ میں محسوس کرنے لگے۔ انہوں نے 'ہند پاک' ڈائری لکھ کر ایک طرف تقسیمِ وطن کے بحرانی منظر کو ہمارے روبرو کیا ہے، دوسری طرف برصغیر کی قیادت کی نا عاقبت اندیشوں کے حوالے سے بہت سے تاریخی حقائق سے پردہ اٹھایا ہے، اور مسلم سماج کو حقیقت پسندانہ راہِ عمل کو اپنانے کی اصلاح دی ہے، اور مسلم سماج کو حقیقت پسندانہ راہِ عمل کو اپنانے کی صلاح دی ہے۔ الغرض انہوں نے جدید علمِ کلام، تجدیدِ دین، حقیقتِ معرفت، اسلامی سماجیات، قرآن و سیرت، تعمیر و اصلاح، دعوت و احیائے دین کو موضوع بنایا، اور انتہائی مدلل اور مؤثر پیرائے میں عظیم الشان لٹریچر ہمیں دیا، جو مدتوں طالبانِ حق اور فلاح و نجات کے لیے فکرمند افراد کے لیے مفید اور رہنما ثابت ہوگا۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 49۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.