میں مولانا کی کتابوں کا مطالعہ غالباً 25 سال سے کر رہا ہوں۔ مطالعے کے دوران میری سوچ میں کافی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، سب کا ذکر یہاں ممکن نہیں ہے، لیکن کچھ باتوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں پہلے اکرامِ مسلم میں جیتا تھا، لیکن آج میں اکرامِ انسان میں جی رہا ہوں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ آج میرے دل میں کسی کے لیے کوئی نفرت نہیں ہے، نہ مسلمانوں کے لیے، نہ اور نہ غیر مسلموں کے لیے۔
اس کے علاوہ معرفتِ الہی، دعوت الی اللہ، تدبرِ خران، وغیرہ، یہ ساری چیزیں ہیں جو مولانا کی کتابوں کے مطالعے کے نتیجے میں مجھے حاصل ہوئی ہیں۔ عبدالرؤف خطیب، چپلون، سی پی ایس مہاراشٹر۔ کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 48۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.