Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Khayal dar Khayal

Urdu · 15 min

"خیال در خیال"، محمد فاروق، لاہور۔ مولانا وحید الدین خاں رخصت ہو گئے، ایک اور علم و معرفت کا گنج ہائے گراں، مایا دہلی کی خاک میں شامل ہو گیا۔ مولانا وحید الدین خاں رخصت ہو گئے، ایک اور علم و معرفت کا گنج ہائے گراں، مایا دہلی کی خاک میں شامل ہو گیا۔ 21 اپریل نے علامہ اقبال کے بعد ایک اور جلیل القدر عالم اور غیر معمولی شخصیت کا ثانیہ ارتحال اپنے نام لکھ لیا۔

مولانا اپنی پختہ عمر کو پہنچ چکے تھے، عموماً 96 برس کا سفر کم ہی لوگ طے کرتے ہیں۔ ہر بار، ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ اگلی منزل کیا ہو سکتی ہے۔ آخری ایام کی بیماریوں نے اندیشوں کو جنم دینا شروع کر دیا، مولانا کی زندگی کے ٹمٹماتے چراغ کو دیکھ کر دل بیٹھ سا جاتا تھا۔ ایسی حالت میں خدا سے بڑا کوئی سہارا نہیں تھا، لہٰذا گھر بیٹھا ہوں یا راہ چل رہا ہوں، ایک ہی فکر دامن گیر رہتی تھی کہ مولانا کو کچھ ہو نہ جائے۔

فجر کی نماز ہو یا تراویح کا قیام، بس مولانا کی صحت کے لیے دستِ دعا دراز رہتے تھے: "یا اللہ، ابھی بہت کام باقی ہے، اے خدا، اس مردِ درویش کو تھوڑی مہلت اور دے دے۔ " اچھی خبر آنے کی امید میں میں دن میں واٹس ایپ کے متعلقہ گروپ کو بار بار دیکھتا، فیس بک کھولتا، کہیں آشاؤں کے پھول کھلتے نظر آ جائیں، کسی طرف سے امید بہار کی خوشبو آ جائے۔ اس دوران اطلاع آئی کہ مولانا کی صحت میں کچھ استحکام آیا ہے۔ اس خبرِ دلکش میں قیامت کا اثر تھا: آس کے پھول کھل گئے، آرزوؤں کے چراغ جھلملانے لگے، حوصلہ ہوا کہ مفسرِ قرآن اور داعیِ اسلام کا قلم پھر متحرک ہو گا۔

ایک محدث پھر احادیث کی حکمت کو عیاں کرے گا۔ لیکن اگلے دن خبر آئی کہ صحت میں استحکام تو ہے مگر بہتری کمیاب ہے۔ میں خود سے ہم کلام ہو گیا: "یا الہی، یہ ماجرہ کیا ہے، ہماری دعاؤں کی تاثیر کہاں زائل ہو گئی؟ ہماری شب بیداری میں اثر کیوں نہ رہا؟

" جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے تھے، خدشات بڑھتے جا رہے تھے۔ 21 اپریل 2021 کو رات 11 بجے کے قریب مجھے اطلاع ملی کہ مولانا کو اللہ کی طرف سے بلاوا آ گیا۔ مجھے اسی ہونے کا ڈر تھا، مگر بشری کمزوری ہے کہ جن سے محبت ہو، ان کی موت کا یقین نہیں آتا۔ عمر اور بیماری سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔

پھر اس شخص کی موت کا یقین کیسے آ سکتا تھا جو ہمیں جینا سکھاتا ہو؟ وہ آدمی کیسے خاموش ہو سکتا ہے جو کہتا تھا کہ جسے چپ رہنا آ گیا، اسے کلام کرنا آ گیا؟ میں نے جھٹ سے فیس بک گروپ دیکھا کہ شاید وہاں کچھ منظر مختلف ہو، مگر وہاں بھی یہی لکھا تھا کہ مولانا اللہ کو پیارے ہو گئے۔ میں چپ سا ہو گیا۔

قانونِ فطرت ہے کہ "كلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ" اس کے سامنے سب بے بس ہیں، کیا انبیاء، کیا اولیاء، کیا بادشاہ، کیا فقیر، کیا طبیب، اور کیا مریض۔ بقا تو صرف میرے اللہ کو ہے۔ آنکھیں اشک بار ہو گئیں، دفعتاً حافظے نے کروٹ لی۔ میں نے تصور کی آنکھ سے زمانۂ رسالت کو دیکھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی حالت نازک ہے، آپ عبدالرحمن ابن عوف کے ساتھ ام سیف کے ہاں تشریف لائے۔

ابراہیم نزع کی حالت میں تھے، آپ نے ان کو گود میں لیا، چوما، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت عبدالرحمن ابن عوف نے جب اشک رواں دیکھے تو فرمایا: "یا رسول اللہ، آپ کی یہ حالت ہے، آپ نے فرمایا یہ رحمت ہے"۔ "إنها رحمةٌ" صحیح البخاری، حدیث نمبر 1303۔ یہ واقعہ یاد آنے کے بعد آنکھیں کھل کر برسنے لگیں۔

ایسے موقع پر آنکھوں کا ڈبڈبا جانا میرے نبی کی سنت ہے۔ "إنا لله وإنا إليه راجعون" جن سے عقیدت ہو، ان کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے قدم خود بخود اٹھ جاتے ہیں۔ نمازِ جنازہ صرف مرحوم کے لیے دعائے مغفرت ہی نہیں ہوتی، بلکہ پیچھے رہ جانے والوں کی طرف سے خراجِ محبت بھی ہوتا ہے۔ دہلی دور نہیں تھا جہاں پہنچا نہ جا سکے، مگر کیسے؟

ایک تو دہلی میں لاک ڈاؤن نافذ تھا، اگر وہ نہ بھی ہوتا تو دو ملکوں کی باہمی کھینچا تانی میں محبتوں کو خراج کیسے دیا جا سکتا ہے؟ ایسے میں تو پیار، پریم، پریت، الفت، چاہ کے دیپ صرف اپنے دل میں جلائے جا سکتے ہیں، اور میں جلائے بیٹھا رہا۔ مولانا وحید الدین خاں کی کتابیں، تقریریں منفرد اور جدید پیرائے میں ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ عصرِ حاضر کے تناظر میں دینِ اسلام کی سچی اور حقیقی روح کا احیا کیا جائے، اور اس کے لیے سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ قرآنِ پاک کو پوری دنیا میں ہر خاص و عام تک پہنچایا جائے، اور ساتھ ساتھ قرآنِ مجید کی روشنی میں عصری اسلوب میں ایسا لٹریچر تیار کیا جائے جس کو جدید ذہن قبول کرے۔

کیونکہ آج کا نوجوان قصہ کہانیوں سے نہیں، بلکہ حقائق و شواہد سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ یوٹیوب کا دلدادہ، سوشل میڈیا کا فریفتہ، اور سائنس کی کتابیں پڑھ کر علومِ قدیم کا ناقد بنا ہوا ہے۔ لہٰذا لٹریچر کی بنیاد حقائق و دلائل پر ہونی چاہیے جو اس کے دماغ کو اپیل کرے۔ اس حوالے سے انہوں نے خود بہت کام کیا ہے، سو سے زائد کتابیں ان کے قلم سے نکلی ہیں، اور ہر کتاب ایک شہ پارہ ہے۔

"تفسیر تذکیر القرآن" مذہب اور جدید چیلنج، اسلام، دورِ جدید کا خالق، فکرِ اسلامی، رازِ حیات، غرضِ ایک طویل فہرست ہے۔ مولانا اپنی ملی ناکامیوں کا ذمہ دار خود مسلمانوں کو قرار دیتے تھے۔ ان کو اس بارے میں یقین تھا کہ کامیابی و ناکامی کی جڑ ہمارے اندر ہے۔ اس کی وجوہات و اسباب ہمیں اپنے اندر تلاش کرنا چاہیے۔

اگر ہم فتح کا پرچم لہراتے ہیں تو اس کے بھی کچھ اسباب ہوتے ہیں، اور اگر شکست گزرتے ہیں تو اس کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں۔ دوسروں کی شکایت کرنا، اپنی پسماندگی، جہالت کا قصوروار غیروں کو ٹھہرانا، اپنی شکست و ناکامی کو اغیار کی سازش سمجھنا، کسی طور پر قرینِ انصاف نہیں ہے۔ ہم اپنی جہالت اور درماندگی کے خود ذمہ دار ہیں۔ اغیار کی سازش کہہ کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہیں ہو سکتے۔

مسلمانوں کی ظاہری ترقی سے پہلے ان کی باطنی ترقی ضروری ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ خالق و مخلوق میں زندہ تعلق پیدا ہو جائے، اور بندے مومن میں اطاعتِ الہی کا جذبہ بیدار ہو۔ عاجزی، انکساری، بردباری اس کے کردار کا جز لازم ہوں۔ کیونکہ ذات کی نفی کا ثمر ملت کے اثبات کی صورت میں ملتا ہے۔

دینِ اسلام توحید اور فکرِ آخرت میں سما ہوا ہے۔ ان دو پہلوؤں کو چھوڑ کر اسلام کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ توحید، قیامت، جنت و جہنم ان کا موضوعِ سخن رہا ہے۔ مزید ان کے قلم میں تنقید کی کاٹ بہت تھی۔

سلفِ صالحین ہوں یا عصرِ حاضر کی اسلامی تحریکیں اور تنظیمیں، سب ان کے تجزیاتی اور تنقیدی اسلوب سے گزری ہیں۔ اور یہ طرزِ تحریر یقیناً بہت سے حلقوں کے لیے گراں بار تھا، مگر مولانا کے خیال میں ہمیں جو محاسن نظر آئیں، ان کی نشاندہی کرنی چاہیے، اور جہاں کہیں نقص نظر آئے، اس کو بھی عیاں کرنا چاہیے۔ تاکہ آئندہ ہم اپنی غلطیوں کو دہرانے سے بچ جائیں۔ مولانا امن کے بہت بڑے مبلغ تھے۔

ان کو شکوہ تھا کہ مسلمان جنگ کی اہمیت جانتے ہیں، وہ امن کی اہمیت سے واقف نہیں رکھتے۔ وہ امن کی اہمیت سے واقفیت نہیں رکھتے۔ ہم امن سے وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ ہو، اور جنگ و لڑائی میں وہ کچھ گنوا سکتے ہیں جو ہمارے حاشیۂ خیال میں کبھی آیا ہی نہ ہو۔ غزوۂ بدر واحد اپنی جگہ اہم ہے۔

ان کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا ہے۔ لیکن صلح حدیبیہ فتحِ مبین کہلاتی ہے۔ اس لیے مولانا فرماتے تھے کہ امن کو شرائط پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن کو قائم کرنے کے لیے صلح حدیبیہ کی طرح غیر مشروط ہونا چاہیے۔

جب امن ہوگا تو کامیابی کے مواقع عام ہوں گے، اور فتح کے دروازے کھلیں گے۔ کیونکہ اسلام امن کے ماحول میں آسانی سے دلوں کو مسخر کر لیتا ہے۔ تاریخ میں ایسا ہوتا تو نظر آتا ہے کہ مسلمان کبھی کوئی جنگ جیتے اور کبھی ہارے ہوں، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مسلمانوں نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں کبھی مار کھائی ہو۔ اس لیے اسلام کو سمجھنے کے لیے پرامن ماحول اشد ضروری ہے۔

پھر مولانا غور و فکر یعنی contemplation کے قائل رہے۔ مراقبہ، سرور یعنی meditation ان کی تعلیمات کا حصہ نہ تھے۔ کیونکہ اس تدبر و تفکر سے خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ انسان کی سب سے بڑی دریافت اور سب سوالوں کا جواب خدا کی دریافت میں پوشیدہ ہے۔

گھاس کی پتی، پھولوں کی خوشبو، چاند کی چاندنی، سورج کی روشنی، ہواؤں کا چلنا، بارش کا برسنا، کائنات کا پھیلاؤ، غرض ہر چیز پر غور و فکر خدا کی وحدانیت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ دریافت اللہ اور مومن میں ایسا تعلق پیدا کرتی ہے جیسا گرڈ اسٹیشن اور گھر میں جلنے والے بلب میں ہوتا ہے۔ مولانا کا کہنا یہ ہے کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں: ایک وہ جو آپ کے دوست ہیں، دوسرے وہ جن میں آپ کا دوست بننے کا امکان پوشیدہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اس دنیا میں محبتیں، دوستیاں، تعاون، خیرخواہی، کامرانی کا زینہ ہیں۔

یہاں دشمنیاں، انتقام، حقارت، نفرت ایسے دلدل ہیں جن میں اتر کر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا مثبت فکر کے ساتھ اور دوسروں کے خیرخواہ بن کر رہنا چاہیے۔ ہر فرد آپ کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر آیا ہے۔ آپ کو محبت کرنی ہے، نفرت نہیں۔

داعی پیکرِ محبت و صبر ہوتا ہے۔ مولانا صرف مذہبی عالم نہ تھے، بلکہ وہ فلسفی و مفکر بھی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ عام طور پر آدمی سماجی کنڈیشننگ کے تحت سوچتا ہے۔ جس چیز کو معاشرے نے اچھا کہا، اس کو وہ ساری عمر چھان پھٹک کے بغیر اچھا سمجھتا ہے، اور جس کو برا سنا، اس کو وہ کسی کسوٹے پر پرکھے بنا برا خیال کرتا ہے۔

مولانا چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو ڈی کنڈیشن کر کے سوچیں، اور چیزوں کو ویسے دیکھیں جیسی وہ ہیں۔ موجودہ دور شرکا دور نہیں، بلکہ دعوت کا دور ہے۔ موجودہ دور شرکا دور نہیں، بلکہ دعوت کا دور ہے۔ کیونکہ زمانۂ حاضر میں دعوت کے مواقع بے شمار ہیں۔

الیکٹرانک اور سوشل میڈیا، کتابیں، رسالے بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کسی بھی مغربی ملک میں جا کر اپنی دعوت کا کام کر سکتے ہیں۔ لہٰذا غیر مسلم کو دعوت دیں، انہیں کافر کہنے کے بجائے مدعو سمجھیں۔ مولانا اپنے آخری ایام میں اپنی ساری عمر کے مطالعے اور مشاہدے کا حاصل و دریافت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آدمی دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرا بھی، ذرا بھر بھی، کوئی منفی فکر نہ ہو۔

اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں ہو سکتی کہ آدمی دنیا سے اس طرح چلے جائے کہ اس کا ذہن پوری طرح مثبت فکر کا حامل ہو۔ اس دنیا میں سب سے بڑی نیکی مثبت سوچ ہے، اور سب سے بڑی برائی منفی فکر ہے۔ یہی میری زندگی کی آخری دریافت ہے۔ موت سے کس کو رستگاری ہے؟

جو یہاں آیا ہے، اسے ایک نہ ایک دن جانا ہے۔ مولانا چلے گئے، ہم نے اللہ کے فیصلے کو قبول کر لیا، کیونکہ وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اہلِ علم مولانا کی فکر، استدلال اور اسلوب کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کر سکتے ہیں، بعض سے اتفاق اور کرنا بھی چاہیے۔ تنوع و اختلاف زندگی کا حسن ہے، لیکن یہ سب جزئی اور عام چیزیں ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ دینِ اسلام کا جو حقیقی مطلوب ہے، مولانا اسی کی دعوت دیتے تھے، اور وہ اس کے سب سے بڑے داعی، مبلغ اور عارف تھے۔ کتاب داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.