آخری بات: 21 اپریل 2021 کو مولانا کے گزر جانے کا مجھے شدید صدمہ ہوا، اتنا صدمہ جو کہ میرے والدین کے گزرنے پر نہیں ہوا تھا۔ غالباً یہ اس لیے ہوا کہ میرے والدین نے میری جسمانی غذا کی فراہمی کا انتظام کیا، لیکن مولانا سے مجھے میری روحانی غذا ملی۔ مولانا حکمت و دانائی کے پہاڑ تھے؛ انہوں نے اس نیکٹر کو قرآن و پیغمبر کے اسوے سے نچوڑ کر اپنی ڈھائی سو سے زائد کتابوں میں محفوظ کر دیا ہے۔ یہ کتابیں مولانا کے گزر جانے کے بعد ان کے بدل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ مولانا کو اپنے پڑوس میں پیغمبر، صالحین، اور صدیقین اور شہداء کے سات جگہ عطا فرمائے، آمین وثم آمین۔ مولانا نے مسلسل ہم سب کو اسلام کا پیغام، یعنی قرآن کو دنیا کے سارے انسانوں تک ان کی اپنی زبان میں پہنچانے کے عمل کو انجام دیتے رہنے کی ترغیب دی ہے۔ اس کام کو میں آخری سانس تک جان و مال کی قربانی کے ساتھ انجام دیتے رہنے کا تہیہ کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرما، اور اس میں آسانی عطا فرما، آمین۔
کتاب: داعیِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.