مولانا کی آئیڈیالوجی۔ مولانا نے اپنے 1996 کے امریکہ کے دورے میں ہم لوگوں سے کہا تھا کہ خدا اور اسلام، اُن کی اپنی دریافت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مدرسے کی تعلیم اور اساتذہ نے اُن کو اس دریافت کی طرف ضرور گامزن کیا ہے، مگر مدرسے کی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ خدا کی دریافت میں ایک عرصے دراز سرگرداں رہے۔ اس کے لیے انہوں نے خود سے انگریزی سیکھی، اس کے بعد انہوں نے مغربی علوم کی حقیقت کو جاننے کی غرض سے اُن کا گہرا مطالعہ کیا۔
ریاضی اور سائنس کو مذہبی علوم کی نسبت سے پڑھا، تب جا کر انہوں نے نص اسلام سے ماخوذ مذہب اسلام کو جدید انسان کے لیے اسلوبِ جدید میں پیش کیا۔ مولانا کی اس بات کی تصدیق اُن کی 200 سے زائد کتابوں سے ہو جاتی ہے۔ اس امریکی سفر کے دوران مندرجہ بالا باتیں: نیویارک سے نارتھ کیارولائنا ریلی کے راستے میں بتائیں، انہوں نے الرسالہ میگزین کو شروع کرنے میں کتنی دقت پیش آئی، اس کا قصہ بھی بیان فرمایا۔ اُن کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ مولانا کا الرسالہ نہیں چل پائے گا، وہ اس لیے کہ عوام انفارمیٹیو مضامین پسند کرتے ہیں اور مولانا کے مضامین سجیسٹو ہوتے ہیں، اور لوگ سجیشن یعنی نصیحت کو قبول نہیں کرتے ہیں، اس لیے آپ کی میگزین پسند نہیں کی جائے گی۔
مولانا نے بتایا: اب چونکہ اُن کے ذہن میں مضامین کی بارش ہوتی ہے، جن کا اسلوب بھی عصری ہوتا ہے، چنانچہ انہوں نے رسالے کو "ریڈس ڈائجیسٹ" کے اصول پر نکالا تھا۔ اسی اصول کو اپنانے کی وجہ سے الرسالہ کامیاب ہوا۔ میں نے مولانا کو 1986 کی اپنی پہلی ملاقات میں بتایا تھا کہ آپ کی رائٹنگ آج کے فکری مستوا کے مطابق ہے، مگر عام مسلمانوں کا ذہن اس کے لیے ابھی تیار نہیں ہے۔ اس لیے بہت سارے مسلمان اپنی ناسمجھی کی وجہ سے اس کی مخالفت کریں گے۔
الحمدللہ، اب مولانا کا لٹریچر بہت زیادہ مقبولیت حاصل کر رہا ہے، ساری دنیا میں اس کو پڑھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہو گئی ہے۔ اس لٹریچر کو پھیلانے کے لیے دنیا بھر میں ٹیمز بن گئی ہیں، اور وہ لوگ رضاکارانہ طور پر اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ میری اسٹڈی کے مطابق، مولانا نے اپنی مجتہدانہ کوششوں سے قرآن و سنت کے بہت سارے اصولوں کو عصری اسلوب میں ری ڈیفائن کر کے ری اپلائی کیا ہے، اور علماء کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اس کام کو مزید آگے بڑھائیں۔ اس کے لیے ملاحظہ کیجیے: اُن کی کتابیں "تجدید دین"، "فکر اسلامی"، "دین و شریعت"، "اجتہادی مسائل" وغیرہ۔
اسلام بنیادی طور پر مذہبِ امن ہے، اس پہلو کو مولانا کی ان کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ "اسلام اینڈ پیس"، "اسلام اینڈ نان وائلنس"، "جہاد"، "پیس اینڈ انٹر کمیونٹی ریلیشنز ان اسلام"، "دا آئیڈیالوجی آف پیس"، "دا ایج آف پیس"، "دا پرافٹ آف پیس" وغیرہ۔ مولانا کے سارے لٹریچر میں خدا کی عظمت کے بعد جو موضوع سب سے زیادہ نمایاں ہے، وہ ہے ترغیب دعوت۔ اس موضوع کی خاص کتابوں کے ٹائٹل یہ ہیں: "دعوت اسلامی"، "اسلامی دعوت"، "دعوت حق"، "دورِ دعوت" وغیرہ۔
کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 41۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.