← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Maulana se Mera Taalluq
Urdu · 8 min
مولانا سے میرا تعلق خواجہ کلیم الدین سی پی ایس، امریکہ۔ یہ مجھ پر اللہ رب العزت کا کرم رہا ہے کہ اس نے مجھے عرصۂ دراز پہلے مولانا کی تصنیفات سے متعارف ہونے کا موقع عطا فرمایا۔ یہ میرا وہ وقت تھا جب میں اپنی عملی اور پروفیشنل زندگی میں داخل ہو رہا تھا۔ میری بچپن کی شخصیت روایتی مسلم ماحول سے تشکیل پائی تھی، جس میں مذہب صرف چند بے جان رسوماتی عبادتوں کا مجموعہ تھا۔
ہر عبادتی عمل کو فضائل کے ترازو میں تولا جاتا تھا؛ مثلاً ان عبادتوں کو چند مخصوص دنوں اور اوقات میں ادا کر لو تو اس کی قیمت اور کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ آگے چل کر کالج کے زمانے میں میری شخصیت اسلام کی سیاسی تعبیر پر مبنی تشریحات سے متاثر ہونے لگی تھی۔ میری بچپن کی شخصیت روایتی مسلم ماحول سے تشکیل پائی تھی، تو کالج کے زمانے میں وہ اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہونے لگی تھی۔ اس وقت یہ بتایا جا رہا تھا کہ اسلام اور مسلمان اعلیٰ ہیں، اور خدا مسلمانوں کو اس کی حکمرانی قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔
یہ بھی بتایا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کی حکومت، جو تقریباً 1000 سال تک جاری تھی، مغرب نے سازش کے ذریعے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان تشریحات کے زیرِ اثر ایسا منفی ذہن بن رہا تھا کہ دوسری قومیں ہمیں اپنی دشمن نظر آنے لگی تھیں۔ ہم اور وہ، یعنی we and they، کی تقسیم ذہن میں بٹھائی جا رہی تھی: غیر مسلم حکومتوں کو طاغوتی حکومتیں بتایا جاتا تھا، جس کے تحت زندگی گزارنا شرک تھا۔ یہ باتیں کتابوں اور اخبارات کے ذریعے علم میں آ رہی تھیں۔
میری پرورش ہائی سکول کی تعلیم مکمل ہونے تک ایک دیہات میں ہوئی تھی۔ یہاں پر دین کا روایتی ماڈل مجھے روحانی تشفی نہیں دے رہا تھا، تو کالج کے دور میں دین کی سیاسی تعبیر کی وجہ سے بے چینی تھی۔ غالباً وہ اس لیے تھا کہ دیہات ماحول میں ہم اور وہ، we and they، کا غیر فطری ماحول موجود نہ تھا، نہ ہی کالج میں ایسی سوچ پائی جاتی تھی۔ میرے زیادہ تر دوست غیر مسلم ہوا کرتے تھے، اور ان کے ساتھ میرے اچھے مراسم تھے اور کافی فکری تبادلۂ خیال بھی ہوا کرتا تھا۔
ہم مل کر خوب اسٹڈی کیا کرتے تھے۔ 1976 عیسوی میں جب میں کالج سے فارغ ہو کر عملی زندگی میں داخل ہوا تو میرے ایک رفیقِ کار نے مجھے اردو اور رسالے کا ایک نسخہ دیا۔ مجھے اس وقت اردو پڑھنی نہیں آتی تھی، لیکن بچپن میں قرآن ناظرے کے ساتھ پڑھنے کی وجہ سے چند عرصے کی محنت کے بعد اردو پڑھنا ممکن ہو گیا۔ چونکہ رسالے کا ہر صفحہ نصیحت اور حکمت کا خزانہ ہوا کرتا ہے، اس لیے اس کا مطالعہ بلا انقطاع جاری رہا۔
رسالے میں تقریباً ہر مضمون کو میں نے قرآن یا حدیث پر مبنی پایا۔ ان کی تشریح دورِ جدید کی اصطلاحوں میں ہونے کی وجہ سے، رسالے کے بعد مولانا کی دوسری کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ سب سے پہلے میں نے مولانا کی کتاب "الاسلام" کو پڑھا، بلکہ اس کو میں نے کئی بار بغور پڑھا۔ اس کے مطالعے سے مجھے رسوماتی دین، جس پر میں بچپن سے قائم تھا، ایک غیر عقلی ریاضت لگنے لگا، اور سیاسی تعبیر والا دین غیر مدلل۔
مولانا کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے کے بعد اسلام مجھے ایک زندہ مذہب لگنے لگا۔ یہ میرے لیے صرف ایک ذاتی تزکیہ ہی کا ذریعہ نہیں بنا، بلکہ میرے لیے یہ ایک افاقی، دعوتی اور فکری تحریک بن گیا۔ مجھے اس کا عملی نمونہ کتاب "پیغمبر انقلاب" میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ملا۔ پھر اس کے بعد میں نے مولانا کی اس وقت کی ساری کتابوں کو پڑھ ڈالا، بلکہ میں نے ان کو دو دو، تین تین مرتبہ دہرایا۔
یہی طریقہ میں نے مولانا کی آنے والی ہر نئی کتاب کے ساتھ اپنایا۔ مولانا کی کتابوں میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے، وہ معرفتِ خدا، موت کی یاد، خود احتسابی، اور ترغیبِ دعوت ہے۔ مولانا کے لٹریچر میں اتنی تاثیر ہے کہ اس سے ہر سنجیدہ خواری کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آنا یقینی بات ہے۔ وہ ایک داعی بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ اس لٹریچر کے مطالعے سے میری شخصیت میں اولین ایام سے ہی تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ چنانچہ اسی وقت سے میں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ قرآن و سنت کے دلائل پر مبنی جدید اسلوب میں لکھے ہوئے اس لٹریچر کو خدا کی مدد سے لوگوں سے شیئر کرتا رہوں گا۔ جہاں بھی رہوں، اس کو دوسروں تک پہنچاؤں گا۔ مولانا کی فکر کو لوگوں تک پہنچانے کا کام نائجیریا سے شروع ہوا۔
میں وہاں پہلے مرحلے میں اردو اور انگریزی کتابوں کو دوستوں میں مفت تقسیم کرتا رہا۔ اس کے بعد عام نائجیرین تک پہنچنے کی غرض سے رسالے کا انگریزی ایڈیشن ری پرنٹ کروا کر لوگوں میں تقسیم کرتا تھا۔ امریکہ پہنچنے کے بعد بھی یہی کام جاری رہا۔ اس وقت کے میرے نیویارک کے اپارٹمنٹ میں، جہاں میری رہائش تھی، کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جس کو میں نے کتابوں سے بھر نہ دیا ہو۔
اس کے بعد اللہ کی مدد آنی شروع ہوئی۔ اب مجھے ساتھی ملنا شروع ہو گئے۔ ان کی مدد سے یہاں امریکہ میں مولانا صاحب کی موجودگی میں ہم نے الرسالے کی ایک باقاعدہ تنظیم رجسٹر کروا کر کام کو آگے بڑھایا۔ اس تنظیم کا نام "الرسالہ فورم انٹرنیشنل" رکھا۔
اس کے بعد مولانا کی فکر کو عمومی لوگوں تک پہنچانے کی غرض سے اس تنظیم کی ایک ویب سائٹ www. alrisala. org بنائی۔ اس ویب سائٹ پر نہ صرف مولانا کی ساری کتابوں کے پی ڈی ایف، بلکہ ان کے متعدد کتابوں اور رسالوں کے صوتی ایڈیشن کو بھی اپلوڈ کر دیا گیا۔
اس کے بعد جب امریکہ کی مختلف ریاستوں میں اس تحریک سے وابستہ افراد کی تعداد بڑھنے لگی، تو مولانا کا ایک ہفتہ وار ٹیلی کانفرنس پروگرام چلایا گیا۔ اس پروگرام میں مولانا پر 15 منٹ کسی ایک موضوع پر ایک تقریر کرتے تھے۔ پھر اس کے بعد مولانا مشارکین کے سوالوں کا جواب دیتے۔ اس کے بعد اس پروگرام کو عالمی شکل دینے کے لیے سی پی ایس دہلی کے تعاون سے مولانا کی ان تقاریر کا ہفتہ وار پروگرام یو سٹریم کے ذریعے لائیو سٹریمنگ ہونے لگا۔
پھر اس پروگرام کو سی پی ایس دہلی نے مزید آگے بڑھایا اور اس کو مولانا کے فیس بک پیج کے ذریعے لائیو براڈکاسٹ کرنے لگے۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔