مولانا اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے۔ ان کی اکثر دینی تعبیر سے اختلاف اپنی جگہ، مگر بطور ایک داعی آپ کی تحریریں ہمیشہ رہنمائی فراہم کرتی رہیں گی۔ دین کے تذکیری پہلو کے لحاظ سے لکھنے میں بھی مولانا اپنے ہم عصروں سے آگے نظر آتے ہیں۔ مولانا کا جدید اسلوب میں اسلام کا تعارف بھی ان کا ایک خاص سا ہے۔
پھر مولانا نے جس طرح الحاد کا علمی رد کیا ہے، اس پر مولانا کو جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے کم ہے۔ ردِ الحاد کے حوالے سے مولانا کی تین کتابیں: "مذہب اور سائنس"، "مذہب اور جدید چیلنج"، اور "اسلام دورِ جدید کا خالق" بہترین کتب ہیں۔ ان میں بھی "مذہب اور جدید چیلنج" سب سے اہم کتاب ہے۔ آج کل مولانا کی ایک ضخیم کتاب "کتابِ معرفت" پڑھنا شروع کی تھی، معلوم نہیں تھا کہ کتاب ختم ہونے سے پہلے مصنف ہی نہیں رہیں گے۔
قاسم محمود، اسلام آباد۔ کتاب: "داعیِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 37۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.